زمرہ : النور
قرآن کو الله کا دسترخوان کہہ کر حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ نے بہت اہم بات کہی ہے۔ جس طرح غذا کے بغير انسان کا وجود بر قرار نہيں ره سکتا۔ اس کی برقراری کے ليے الله نے غذا کا انتظام کيا ہے ،اسی طرح انسان کے روحانی وجود کو برقرار رکھنے کے لیےہدايت کی شکل ميں قرآن نازل کيا، جس کو يہاں دسترخوان کہا گيا ہے، جو جتنا زياده اس روحانی غذا سے استفاده کرے گا ،اتنی ہی زياده اس کی روحانیت ترقی کرے گی۔
الله پاک نے قرآن کو روح کہا ہے ،اسے زندگی کا سرچشمہ قرار ديا ہے،فرمايا:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ.
Normal(اے ايمان والو! الله اور اس کے رسول کی پکار پر لبيک کہو ،جب کہ وه تمہيں بلاتے ہيں اس چيز کی طرف جس ميں تمہارے ليے زندگی ہے.)
[الأنفال: 24]
دوسری جگہ فرمايا:
اوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا
(کيا وه شخص جو پہلے مرده تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وه روشنی عطا کی جس کے اجالے ميں وه لوگوں کے درميان ان زندگی کی راه طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاريکيوں ميں پڑا ہواور ان سے نہ نکلتا ہو؟)[الأنعام: 122]
دونوں آيتوں کا پيغام يہ ہے کہ قرآن پاک سے ا یسا تعلق قائم کيا جائے کہ اپنے اندر بہت سی تبديلیاںآجائیں اور ايسا لگے کہ اندھیرے ميں مرده پڑے جسم کو زندگی اور روشنی مل گئی ہو۔
يہ قرآن الله کی رسی ہے، اس کا مطلب يہ ہے کہ جس طرح رسی کنویں سے پانی حاصل کرنے کا ذريعہ ہے اسی طرح اگر کوئی خدا تک پہنچنا چاہے تو اس رسی يعنی قرآن کا استعمال اس کے ليے ضروری ہے۔ جيسا کہ قرآن ميں الله رب العزت نے فرمايا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَهِ جَمِيعًا
[آل عمران: 103] يعنی الله کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔ یعنی یہ کہ جینے کا طریقہ اور قانون قرآن مجید سےلو۔قرآن کو روشنی کہا گيا ہے، اور روشنی وه چيز ہوتی ہے جو تاريکی کو چھانٹ ديتی ہے ،اس طرح يہ کتاب يعنی قرآن بھی شیطان کی پھیلائی ہوئی باطل کی تاريکيوں کو چھانٹتی ہے اور خدا تک پہنچنے والے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔
ہر چیز استعمال سے پرانی اور بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ باتیں بھی بار بار سنی جائیں تو پرانی ہو جاتی ہيں۔ ليکن قرآن ايسا کلام نہيں ہے جو بار بار پڑھنے اور سننے سے پرانا ہو جاتا ہو، بلکہ اس کو جتنا پڑھا جائے ہر بار ایک نیا خوش گوار احساس ملتا ہے۔
نبی صلی عليہ وسلم نے فرمايا خدا کا ارشاد ہے:
جو بنده قرآن کی تلاوت ميں اس قدر مشغول ہو کہ وہ مجھ سے دعا مانگنے کا موقع نہ پا سکے تو ميں اس کو بغير مانگے ہی مانگنے والے سے زياده دوں گا۔
نبی ﷺ نے فرمايا:
بنده تلاوت قرآن ہی کے ذريعے خدا کا سب سے زياده قرب حاصل کرتا ہے، قرآن کی طرف بار بار رجوع کرنا يہ جاننے کے لیے ہو کہ کہیں قرآن کی خلاف ورزی تو نہيں ہو رہی ہے۔ زندگی کے ہر موقع پر الله کی منشا کو جاننے کا ذريعہ قرآن مجيد ہے ۔اس لیے رجوع الی القرآن ايک مسلسل عمل ہے۔ آپس ميں اختلاف ہو جائے تو قرآن و سنت کی طرف رجوع ہی ايک بہترين شکل ہے۔ قرآن کو پڑھتے وقت آدمی یہ سمجھے کہ قرآن کے ہر پيغام کا خطاب ہم سے اور ہمارے لوگوں سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
( تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے۔)(صحيح البخاري)
درحقیقت بہترین زندگی وہ ہے جو قرآن سے اللہ کی منشا جاننے کی کوشش میں گزرے۔ جس کی زندگی قرآن کے سائے میں گزر جائے، اس سے خوش نصیب کون ہوسکتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی قرآن مجید کی روشنی میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قرآن ہماری روح کے لیے غذا بن جائے، ہمارے دل کے روگ کے لیے شفا بن جائے۔ ہماری زندگی کے لیے نور بن جائے۔ ہمارے گھروں کی رونق بن جائے۔ دنیا میں ہمارا بہترین رفیق رہے۔ اور آخرت میں ہماری کامیابی کی بشارت دینے والا بن جائے۔

ویڈیو :

آڈیو:

قال ابن مسعود: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَهِ فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ حَبْلُ اللَهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَهُوَ النُّورُ الْمُبِينُ وَالشِّفَاءُالنَّافِعُ، عِصْمَةٌ لِمَنِ اعْتَصَمَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، لَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ، وَلَا يَزُوغُ فَيُشَعَّبَ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ رَدٍّ. (مصنف عبد الرزاق الصنعاني)

ترجمہ:
(حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہيں: يہ قرآن الله تعالی کا بچھايا ہوا دسترخوان ہے، تمہارے اندر جتنی استطاعت ہے اس کے دسترخوان سے علم چنتے رہو۔ بلاشبہ يہ قرآن الله کی رسی ہے، اور یہ تاريکيوں کو چھانٹنے والی روشنی ہے، اور فائده دينے والی اور شفاء بخشنے والی دوا ہے، جو لوگ اس کو مضبوطی سے تھامے رہيں گے ان کے ليے يہ محافظ ہے اور پيروی کرنے والوں کے ليے نجات کا ذريعہ ہے۔ اس کتاب ميں کوئی ٹيڑھاپن نہيں ہے، جسے سيدھا کرنے کی ضرورت پيش آئے۔ يہ کتاب بے رخی نہيں کرتی کہ اس کو منانے کی ضرورت پڑے۔ اس کے عجائبات کبھی ختم نہيں ہوتے اور یہ کثرت سے پڑھنےسے پرانی نہيں ہوتی۔)

ہر چیز استعمال سے پرانی اور بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ باتیں بھی بار بار سنی جائیں تو پرانی ہو جاتی ہيں۔ ليکن قرآن ايسا کلام نہيں ہے
جو بار بار پڑھنے اور سننے سے پرانا ہو جاتا ہو، بلکہ اس کو جتنا پڑھا جائے ہر بار ایک نیا خوش گوار احساس ملتا ہے۔
نبی صلی عليہ وسلم نے فرمايا خدا کا ارشاد ہے:
جو بنده قرآن کی تلاوت ميں اس قدر مشغول ہو کہ وہ مجھ سے دعا مانگنے کا موقع نہ پا سکے تو ميں اس کو بغير مانگے ہی مانگنے والے سے زياده دوں گا۔

2 Comments

  1. شیریں کوثر خانم

    ماشاء االلہ درس حد یث بھی بہت ہی بہترین ہے با۔ رك اللہ فیہی

    Reply
    • شیریں کوثر خانم

      میں نے صرف تعریف کی تبصرا نہیں

      Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر