ریحانہ کہتی ہے کہ وہ سرٹیفیکیشن کورس کر کے اپنی کارکردگی کی فہرست میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ غور طلب ہے کہ پچھلا عالمی ریکارڈ ایک ہی دن میں سب سے زیادہ آن لائن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا 75 تھا۔ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ریحانہ نے حال ہی میں دبئی میں اپنی مینجمنٹ پروفیشنل کے طور پر شاندار نوکری چھوڑ دی ہے۔ جس کی واحد وجہ اس کے والد پی ایم شاہ جہاں کی خدمت کرنا تھی۔ ریحانہ کے والد کی حال ہی میں ٹرانسپلانٹ سرجری ہوئی ہے۔

ریحانہ شاہجہاں: جس نے 24 گھنٹوں میں 81 سرٹیفکیٹ حاصل کرکے عالمی ریکارڈ بنا دیا۔
کیرالہ کی رہنے والی ریحانہ شاہجہاں نے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔ صرف 24 گھنٹوں میں 81 سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی یہ ہندوستان کی پہلی خاتون ہے۔ اس نے دنیا کے سامنے کچھ ایسا کر دکھایا ہے کہ جس سے ہر کوئی حیران ہوگیا ہے۔ اگر ریاضی کے مطابق ہم 24 گھنٹوں میں 81 سرٹیفکیٹس حاصل کرنے پر نظر ڈالیں تو اس حساب سے ریحانہ نے ہر منٹ میں تقریباً 3 سے زائد سرٹیفکیٹس حاصل کیے ہیں۔
کیرالہ کے کوٹائم ضلع کے ایلیکل کی رہنے والی ریحانہ شاہجہاں ،دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کامرس میں ماسٹرز (M.Com) کی ڈگری حاصل کرنے کا خواہش مند تھی۔ تاہم قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ ریحانہ کو آدھے نمبر کی کمی کی وجہ سیٹ نہ ملی اور اس بات پر وہ بہت مایوس ہوئی،لیکن اس نے حوصلہ بحال رکھا اور ہمت نہیں ہاری۔ پھر اس نے اپنی 25 سالہ عمر میں پوسٹ گریجویشن کے دو کورسز میں آن لائن داخلہ لیا۔
سوشل ورک میں ماسٹرز (Masters in Social Work) کے لیے درخواست دینے کے علاوہ ریحانہ نے ڈپلومہ ان گائیڈنس اینڈ کاؤنسلنگ کورس(Diploma in Guidance and Counseling Course) میں بھی داخلہ لیا۔ پی جی(PG) میں داخلہ لینے کے بعد ریحانہ مینجمنٹ بھی پڑھنا چاہتی تھی۔ اس کے داخلے کے لیے انہوں نے کامن انٹرینس ٹیسٹ (CAT) کی تیاری کی اور CAT کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ریحانہ اپنی جماعت کے بیچ تعلیم حاصل کرنے والی واحد ملیالی طالبہ تھی۔ انہوں نے ایم بی اے(MBA) پروگرام کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لیا۔ ریحانہ کا پڑھائی کی طرف ایسا جوش تھا کہ اس نے ایک ہی دن میں سب سے زیادہ آن لائن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
ریحانہ اپنی بہن نہلا سے بہت متاثر تھی۔ نہلا پیار سے اپنی بہن کو ’ایتھا‘ کہہ کر بلاتی ہے۔ نہلا نے دہلی کے لیڈی شری رام کالج سے آپریشنل ریسرچ میں ماسٹر ڈگری مکمل کی اور اب وہ لندن میں کام کر رہی ہیں۔ ریحانہ کہتی ہیں کہ نہلا ہمیشہ پڑھائی میں بہت تیز رہی ہیں۔ نہلا کو دیکھ کر اس نے خود بھی اپنے اوپر سے اوسط طالب علم کا ٹیگ ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
ریحانہ کہتی ہے کہ جب نہلا نے دہلی کے لیڈی شری رام کالج میں داخلہ لیا تو وہ خود سینٹرل یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے قسمت آزمانا چاہتی تھی لیکن وہ تھوڑے فرق کی وجہ سے رہ گئی۔ ریحانہ کے مطابق، ایک وقت میں دو پی جی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ہی اس نے دہلی کے ایک غیر سرکاری تنظیم (NGO) کے ساتھ بھی کام کیا ،جس کا نام ’خواتین کا منشور‘(Women’s Manifesto) ہے۔ یہ تنظیم خواتین کو بااختیار اور خود اعتماد بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔
ایک ہی دن میں سب سے زیادہ سرٹیفکیٹ حاصل کر کے عالمی ریکارڈ بنانے والی ریحانہ کہتی ہے کہ CAT کا امتحان پاس کرنے کے بعد اسے یہ احساس ہوا کہ وہ پڑھائی میں اچھے نمبرات حاصل کر سکتی ہے۔ صرف خواب دیکھنے کی بجائے کوشش بھی کرنی چاہیے۔
ریحانہ کہتی ہے کہ وہ سرٹیفیکیشن کورس کر کے اپنی کارکردگی کی فہرست میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ غور طلب ہے کہ پچھلا عالمی ریکارڈ ایک ہی دن میں سب سے زیادہ آن لائن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا 75 تھا۔ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ریحانہ نے حال ہی میں دبئی میں اپنی مینجمنٹ پروفیشنل کے طور پر شاندار نوکری چھوڑ دی ہے۔ جس کی واحد وجہ اس کے والد پی ایم شاہ جہاں کی خدمت کرنا تھی۔ ریحانہ کے والد کی حال ہی میں ٹرانسپلانٹ سرجری ہوئی ہے۔ ریحانہ کا خاندان والد، والدہ سی ایم رفعت اور شوہر ابراہیم ریاض پر مشتمل ہے۔ اس کے شوہر آئی ٹی انجینئر ہیں۔ ریحانہ کہتی ہےکہ ان کا خاندان اور بہن ان کی اولین ترجیح ہیں۔ ان کا خاندان ان کی حمایت کے لیے ہمیشہ حاضر ہے اس لیے وہ اپنے خاندان کو اپنا کا سپورٹ سسٹم مانتی ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر