جہاں مرد کو معاشی جدوجہد اور خارجی امور کی دوڑ دھوپ کے لیے قوی الجسم ،قوی الارادہ اور فکری استحکام سے نوازا، وہیں نسل انسانی کی معمار عورت کو ہمدردی محبت ،ایثاروقربانی وغیرہ جیسی صفات سے متصف کیا اور اسے گھر کی ایک عظیم و باوقار ہستی کی حیثیت سے پیش کیا ۔
افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے اس تفاوت کو ذلت وخواری اور عدم مساوات کے پروپگنڈہ کے ساتھ پیش کیا ،خواتین کے حقوق کے تعلق سے اسلام کو تنقید و اعتراض کا نشانہ بنایا اور مسلم خواتین بطورِ خاص جدید علوم سے آراستہ ماڈرن طبقے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ،جبکہ سچائی ،حقیقت پسندی اور نیک نیتی سے جائزہ لیا جائے تو معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے ۔

ماہ ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔ آئیے ہم خواتین ،نبی آخر الزماں،راہبر ورہنما محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تعلیمات کو یاد کریں۔ اسلام کے عطا کردہ ان حقوق کو یاد کریں، جنہوں نے عورت کو قعر ذلت سے نکال کر بام عروج پر پہنچایا ،اسےعظمت و سربلندی دی اور معاشرے میں اس کو اس کا مقام عطاء کیا ۔اگرچہ جملہ انسانیت ایک ہی جوڑے آدم و حوا سے وجود میں آئی ہے، جیسا کہ الله تعالیٰ نے فرمایا:
وبث منهما رجالا كثيرا ونساء
(اور الله تعالیٰ نے ان دونوں سے بکثرت مردو عورت دنیا میں پھیلا دیے۔) (النساء: 1) لیکن باری تعالیٰ نے دونوں کو ان کے میدان کار کے مطابق الگ الگ صفات کا حامل بنایا ،جہاں مرد کو معاشی جدوجہد اور خارجی امور کی دوڑ دھوپ کے لیے قوی الجسم ،قوی الارادہ اور فکری استحکام سے نوازا، وہیں نسل انسانی کی معمار عورت کو ہمدردی محبت ،ایثاروقربانی وغیرہ جیسی صفات سے متصف کیا اور اسے گھر کی ایک عظیم و باوقار ہستی کی حیثیت سے پیش کیا ۔
افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے اس تفاوت کو ذلت وخواری اور عدم مساوات کے پروپگنڈہ کے ساتھ پیش کیا ،خواتین کے حقوق کے تعلق سے اسلام کو تنقید و اعتراض کا نشانہ بنایا اور مسلم خواتین بطورِ خاص جدید علوم سے آراستہ ماڈرن طبقے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ،جبکہ سچائی ،حقیقت پسندی اور نیک نیتی سے جائزہ لیا جائے تو معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے ۔
اسلام سے پہلے عورت ذلت و مظلومی ،غلامی اور محکومی ،ظلم و استبداد کی شکار تھی ،اہل عرب کے یہاں عورت کے تئیں نفرت و بیزاری کا ماحول تھا، پیدائش کے بعد زندہ دفن کردینےکا ظالمانہ رویہ ، بکثرت نکاح کرنا اور طلاق دینا ، وراثت میں کوئی حصہ نہ دینا بلکہ بیوہ کے مال پر جبراً قبضہ کرلینا ،بیوی کو جوئے کے داؤ پر لگا کر کسی اور کے حوالے کردینا ،شوہرکی وفات کے بعد بیویوں کو بھی وراثت میں تقسیم کردینا وغیرہ اس جبر کا واضح ثبوت ہے ۔
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ :
واللَهِ إنْ كُنَّا في الجَاهِلِيَّةِ ما نَعُدُّ لِلنِّسَاءِأمْرًا، حتَّى أنْزَلَ اللَهُ فِيهِنَّ ما أنْزَلَ، وقَسَمَ لهنَّ ما قَسَمَ(مسلم)
(بخدا ہم دور جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت ہی نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ الله تعالیٰ نے ان کے بارے میں ہدایات نازل کیں اور ان کا حصہ متعین کیا ۔)
اسی دوران 20 اپریل 571ء کو کرۂ ارض پر آفتاب رسالت کی کرنیں رحمۃ للعالمین بن کر طلوع ہوتی ہیں اور جملہ انسانیت بطورِ خاص خواتین کو اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیتی ہیں، آغوشِ اسلام میں آکر نہ صرف اخروی کامیابی کی بشارت ملتی ہے بلکہ خواتین کو ظلم وجور کی بھٹی سے نجات اور امن وامان کی فضاء حاصل ہوتی ہے ۔
عقل و خرد کو استعمال کرتے ہوئے غور کریں تو ماننا پڑے گا کہ اسلام نے عورت کے جذبات واحساسات اور پسند و ناپسند کا پورا خیال رکھا اور زندگی کے شعبہ جات میں اسے مکمل حقوق عطا کیے۔
لڑکی کی پیدائش کو باعثِ ننگ و عار سمجھنے پر سخت انداز میں مذمت کی اور فرمایا:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلۡأُنثَىٰ ظَلَّ وَجۡهُهُ مُسۡوَدّا وَهُوَ كَظِیم یَتَوَ ٰرَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ مِن سُوۤءِمَا بُشِّرَ بِهِۦۤۚ أَیُمۡسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمۡ یَدُسُّهُ فِی ٱلتُّرَابِۗ أَلَا سَاۤءَمَا یَحۡكُمُونَ
(ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہره سیاه ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے ،اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لیے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں!)
(النحل 58-59)
اس کے ساتھ زندہ درگور کرنے پر تنبیہ اور سرزنش کی،فرمایا
وإذا الموٴدةُ سُئِلَتْ․ بأیِ ذنبٍ قُتِلَت
(اس وقت کو یاد کرو جب کہ اس لڑکی سے پوچھا جائے گا جسے زندہ دفن کیاگیا تھا کہ کس جرم میں اسے قتل کیا گیا؟)(التکویر : 8-9)
لڑکی کی پرورش میں محبت ،توجہ اور خوشدلی کی کمی کو محسوس کیا، تو لڑکی لڑکے کے فرق کو دور کیا اورلڑکی کی پرورش پر بشارت دی:
من عال جاريتين حتىٰ تبلغا جاءيوم القيامة انا وهو ،وضم أصابعه (حضرت عائشه۔بخارى)
(جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ گئیں وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گااور آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملایا۔) انسان کی دینی و دنیوی ترقی علم سے وابستہ ہے اسلام نے علم کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ لہٰذا، لڑکیوں کی تعلیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عال ثلاث بنات فادبهن وزوجهن وأحسن إليهن فله الجنة
(حضرت ابى سعيد الخدري ۔ابوداؤ) (جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔)
عورت کو حق مہر عطا کیا ،اور اس کی ادائیگی کی تاکید کی ، الله تبارک وتعالیٰ کا حکم نازل ہوا:
وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَاۤءَصَدُقَـٰتِهِنَّ نِحۡلَةࣰۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَیۡءࣲ مِّنۡهُ نَفۡسا فَكُلُوهُ هَنِیۤـٔا مَّرِیۤـٔا (النساء4)

(اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو۔)
مزید رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تاکید فرماتے ہوئے تعلی

دی: أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا به ما اسْتَحْلَلْتُمْ به الفُرُوجَ.
(شرطوں میں پوری کی جانے کی سب سے زیادہ حقدار جس کو تم پورا کرو وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم خواتین کی عصمتوں کے مالک ہوئے ہو۔)
( عقبہ بن عامر۔ صحیح البخاری )
دور جاہلیت میں مہر ختم کرنے کی ایک صورت شغار تھی (یعنی بدلے کی شادی جس میں مہر کی ادائیگی نہیں ہوتی تھی) جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا:
أنَّ النَّبيَّ ﷺ نهى عن الشِّغارِ(عبداللہ بن عمر بخارى ،مسلم )
دنیا کے اکثر مذاہب نے وراثت میں عورت کو حق نہیں دیا، اس کے برعکس اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی بیٹی ماں، ترکے میں حقدار ٹھہرایا اور اس کا حصہ متعین کیا :
لِّلرِّجَالِ نَصِیب مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَ ٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ وَلِلنِّسَاۤءِ نَصِیب مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَ ٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ أَوۡ كَثُرَۚ نَصِیبا مَّفۡرُوضا
(مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔)(النساء ۔7)
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھی جانی چاہیے کہ اسلام کا قانون وراثت چند اصولوں پر مبنی ہے۔
1 ۔ آیت ’’للذكر مثل حظ الانثيين‘‘ بظاہر یہاں عورت کی پوزیشن کمزور نظر آتی ہو لیکن اسلام کے عطا کردہ نظام حیات کے مطابق کمزور نہیں ہے ،کیونکہ اسلام نے حق مہر ،مال و زر ،تحفے تحائف مزید مختلف حیثیتوں سے جائداد میں حق، مزید اگر اس کی اپنی کمائی ہے سب میں اسے خود مختار بناکر مستحکم کر رکھی ہے اس کے اوپر کسی کا نفقہ بھی فرض نہیں کیا۔
2 ۔ اس کی کفالت کی ذمہ داری تعلیم و تربیت، شادی و دیگر اخراجات کی ذمہ داری سرپرستوں پر ڈالی گئی ہے اور بعدِ عقد اس کے شوہر اور سسرال والوں کو اس کے اخراجات اٹھانے ہیں اسی بناء پر عورت کا حق نصف رکھا گیاہے۔
اسلام کا عورت پر عظیم احسان حق خلع ہے،اگر شوہر ظالم و ناکارہ ہے تو بیوی کو شرعی عدالت کے ذریعے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
(اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔)(البقرة 229-)
اس کی دلیل حدیث میں مذکور ہے۔حدیث مبارکہ میں ہے: 
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا)پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ثابت کے اخلاق اور اُن کی دین داری کے بارے میں تو کوئی عیب نہیں لگاتی ؛ لیکن مجھے اُن کی ناقدری کا خطرہ ہے ( اِس لیے میں اُن سے علیحدگی چاہتی ہوں ) تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : ’’ اُنہوں نے جو  باغ تمہیں مہر میں دیا ہے وہ تم اُنہیں لوٹادوگی ؟ ‘‘ اہلیہ نے اِس پر رضامندی ظاہر کی ، تو پیغمبر اسلام نے حضرت ثابت کو بلاکر فرمایا : ’’ اپنا باغ واپس لے لو اوراِنہیں طلاق دے دو ‘‘ (سنن ابی داؤد)
یہاں اسلام اور محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواتین کو عطا کردہ چند حقوق کا تذکرہ ہے ۔بنظر غائر اسلام کا مطالعہ کرنے والے بخوبی اس بات کا ادراک کرسکتے ہیں کہ اسلام نے مکمل نظام حیات میں خواہ اس کا تعلق عبادات و معاملات سے ہو یا نظام خاندان و معاشرتی احکام سے ،کہیں بھی اس کی شخصیت کو مجروح نہیں کیا ۔البتہ اس کے اصل محاذ بچوں کی پرورش و پرداخت اور نسل انسانی کی آبیاری کے لیے اس کو جمعہ ،جماعت ،جنازہ و صلوۃ عیدین وغیرہ میں عدم شرکت کی اجازت دیدی تاکہ اس کا حقیقی دائرۂ کار متاثر نہ ہو ۔
ضرورت ہے مسلمان خواتین بطورِ خاص جدید علوم سے آراستہ بہنیں الله تبارک و تعالیٰ کے عطاکردہ حقوق سے کماحقہ واقف ہوں اور انسانیت کو واقف کرانے کی کوشش کریں تاکہ معترضین کے اعتراضات کا سد باب وابطال ممکن ہوسکے ۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. فردوس جہاں

    بہت بہترین تحریر ہے انشاءاللہ ضرور کوشش کریں گے

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر