غزل

تکلیف دہ ہےسوزشِ تعبیرِ خواب بھی
نعمت ہے نیند اور سزا بھی عذاب بھی

پڑھ ڈالی میں نے زیست کی ساری کتاب بھی
ازبر ہوا نہ مجھ کو مگر ایک باب بھی

ہروقت کھیل کود میں گزرا ہے بچپنا
غفلت میں ہی گزر گیا دورِ شباب بھی

بس کر خدا کے بندے ذرا مجھ پہ رحم کھا
ہوگا ترے ستم کا پھر اک دن حساب بھی

اک عرصے تک تھی میری سمندر سے دوستی
سیراب مجھ کو کر نہ سکا زورِ آب بھی

خواہش ہے چاندنی میں لبِ بام آ کے دیکھ
کتنا ہے مستنیر رخِ بے نقاب بھی

وہ جس کو گفتگو کا سلیقہ نہیں ثناء
اس شخص سے ضروری ہے کچھ اجتناب بھی

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢