حالات گر نامساعد ہوں!
زمرہ : ادراك
ھادیہ کےماہِ مئی کا شمارہ منظر پر آتے ہی آپ رمضان المبارک کو رخصت کرچکے ہوں گے اور عید کی خوشیاں منارہے ہوں گے ۔رمضان المبارک میں جہاں اللہ تعالیٰ سے تعلق کو استوار کرنے کی سعی کی ہے، وہیں ہم نے صبر کی تربیت بھی لی ہے۔ قوّت برداشت کو بھی بھوک پیاس کی شدت میں آزمایا۔قرآن سے تعلق کو جوڑ کر ہم نے حکمت و دانائی کو بھی بڑھایا ۔
یہ تربیت اسی ماہ کے لیے نہیں تھی، بلکہ یہ قوت برداشت، صبر، تحمل بردباری، دانائی و حکمت کو اپنی عملی زندگی کے لیے سیکھا ہے ۔یہی تو اصل امتحان ہے کہ مومن یہ سبق کتنا عملی زندگی میں نافذ کرتا ہے ۔
17 رمضان میں ہم نے جنگ بدر کو بھی یاد کیا اور فتح مکہ کو بھی خاص طور پر پڑھا۔ موجودہ ماحول میں نفرت کی سیاست عام ہے۔ مساجد کی حرمت کو پامال کرنا، اذان پر پابندی کی کوشش کی گئی تو نتیجتاً نوجوانوں کی نظر بندی اور مکانات کے انہدام کی صورت سامنے آئی ہے۔ باطل قوتوں کو بے ضرر مسلمان سے زیادہ اسلام سے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ اس خطرے کی اصل وجہ عالمی سطح پر اسلامو فوبیا ہی ہے، جو پوری دنیا میں اسلام کے خلاف خوف کی صورت میں دلوں میں بیٹھا ہوا ہے ۔یہ دہشت گردی کا خوف نہیں،دراصل نظریۂ اسلام کے غلبے کا خطرہ ہے، جو دلوں پر اثر انداز ہوکر انسان کو فطرت کے قریب کردیتا ہے اور دلوں پر اس حقانیت واضح ہوجاتی ہے ۔اسی لیے ھادیہ کے ماہِ مئی کا موضوع ہم نے اسلامو فوبیا رکھا ہے ۔اس نفرت زدہ ماحول میں ہمیں پیارے نبیﷺ کی سیرت سے لی گئی حکمتوں کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ مایوس کن حالات میں بھی مثبت پہلو پر نگاہ رکھنا :
حالات مایوس کن بھی ہوں تو ہمیں مایوسی سے خود کو دور رکھتے ہوئے مثبت طرزِ فکر کشید کرنی ہوگی تاکہ ہم امکانات تلاش کر سکیں ۔مایوس کن حالات کا شکار ہوکرمشتعل ہوجاناباطل کی کامیابی ہے۔اس کے برعکس مایوس کن حالات میں مومن کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنی طاقت مجتمع کرتا ہے ۔مومن اپنی ذات کے مٹ جانے کے خوف سے زیادہ اسلام کی بقا کے لیے پُر عزم ہوتا ہے ۔
مثلاً صلح حدیبہ کے موقع پر نبی ﷺ معاہدے کے بعد بغیر عمرہ کیے لوٹ گئے۔ صحابۂ کرام بہت تکلف محسوس کررہے تھے۔ اللہ رب العالمین نے سورۃ الفتح کی ابتدائی آیات نازل فرمائیں:
اِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحًا مُّبِيۡنًا ۞ لِّيَـغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا ۞ وَّ يَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا(سورۃ الفتح: 1۔2)

’’اے نبی ؐ ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمھیں سیدھا راستہ دکھائےاور تم کو زبردست نصرت بخشے۔‘‘
صحابہ نے کہا ہم بغیر عمرے کے لوٹ آئے ہیں۔ ہم نے اپنی دو قیمتی ساتھیوں کو اس معاہدے کے تحت قریش کو لوٹا دیا۔ حضرت ابوجندلؓ کا غم و غصہ صحابہ میں موجود تھا۔ان آیات کو سن کر حضرت عمرؓنے پوچھا: یا رسول اللہﷺ کیا یہ فتح ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔(ابن جریر) ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی یہی سوال کیا۔ آپﷺنے فرمایا: والذی نفس محمد بيده انہ فتح۔ ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ ) کی جان ہے، یقینا یہ فتح ہے ۔‘‘ (مسند احمد۔ )
مدینہ پہنچ کر ایک اور صحابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا :’’ یہ کیسی فتح ہے ؟ ہم بیت اللہ جانے سے روک دیے گئے، ہماری قربانی کے اونٹ بھی آگے نہ جاسکے، رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ ہی میں رک جانا پڑا اور اس صلح کی بدولت ہمارے دو مظلوم بھائیوں (ابو جندلؓ اور ابو بصیرؓ) کو ظالموں کے حوالہ کر دیا گیا ۔‘‘ نبیﷺتک جب یہ بات پہنچی تو آپﷺنے فرمایا: ’’ بڑی غلط بات کہی گئی ہے ۔ حقیقت میں تو یہ بہت بڑی فتح ہے۔ تم مشرکوں کےاصل گھر پر پہنچ گئے اور انہوں نے آئندہ سال عمرہ کرنے کی درخواست کر کے تمہیں واپس جانے پر راضی کیا۔ انہوں نے تم سے خود جنگ بند کر دی اور صلح کر لینے کی خواہش کی، حالاں کہ ان کے دلوں میں تمہارے لیے جیسا کچھ بغض ہے۔‘‘
اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے مثبت پہلو کو نہ صرف یہ کہ کشید کیا، بلکہ امکانات بھی واضح کیے ۔ہماری قیادت کو بھی ان مایوس کن حالات میں حوصلہ بڑھانے والے امکانات کی نشاندہی کرنے والا ہونا چاہیے وہ رہا بھی تاہم ان حالات میں ہر فرد کی ذمہ داری بدل جاتی ہے فرد کو اپنی ذمہ داری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔ کیوں کہ مومن حالات کا جائزہ متأثر ہونے کے لیے نہیں کرتا، لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے کرتا ہے۔

دشمن کی قوت کا اندازا لگاکر لائحہ عمل تیار کرنا :

تاریخ شاہد کہ صلح حدیبہ کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے قریش کے معاہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہود کی سازشوں کا قلع قمع کیا ۔ یہ وہ دشمن تھے جو اسلام کے مقابل ہمیشہ ایک ہوکر لڑا کرتے تھے ۔ پیارے نبیﷺ نےصلح حدیبہ کے بعد قریش کے معاہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہود کو دور کردیا اور اسی اثنا میں خیبر فتح کرلیا ۔ دشمن کی صفوں میں دراڑ تو ہوتی ہی ہے، ہمیں بھی ان کی صفوں کے انتشار اور کم زور کرنے والے عوامل پر غور کرنا چاہیے ۔ انہیں اسلام کے قریب کرنے والے رویے کو اپنا شعار بنالینا چاہیے ۔ہر فرد پر مشن کا غلبہ ہونا ہی دراصل انقلاب کی بنیاد ہے ۔

مہلت عمل سے فائدہ اٹھائیں :

بظاہر یہ کسی دوسرے شہر کی خبر ہے، ہم اپنے شہر میں کیا کرسکتے ہیں؟ اس پر غور کریں ۔ اسی مہلت میں اللہ کے نبی ﷺ نے مدینہ کے اطراف کے قبائل کے درمیان دعوت کی رفتار کو تیز تر کردیا ۔دوستانہ تعلقات بڑھانے کوشش ہماری بھی ہونی چاہیے۔ ان حالات میں کھلے عام دعوت پر باطل چوکنہ ہے تو ہم تجارتی تعلقات میں، تعلیمی اداروں میں کالج کیمپسس میں دوستی بناکر دلوں متأثر کرنے کی سعی جاری رکھیں ۔شدید متعصبانہ ماحول میں بھی جب ہم دوستی کا عزم رکھتے ہیں تو وہ جاگتے آنکھوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں ۔

دفع و اقدام کو راز رکھنے کی حکمت :

جب مایوس کن خبریں فضا میں گردش کرنے لگیں تو جوش سے دل کا بھر جانا اور غصہ آنا نارمل عمل ہے۔ انسان دل میں زیادہ ظلم پر کڑھتا بھی ہے، دل بھی جلتا ہے اور ردعمل کی کیفیت بھی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ سب تو انسانی فطرت ہے، تاہم ہمارے پیش نظر اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت ہو کہ اس سے زیادہ سنگین حالات آپؐ پر گزرے ہیں ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے دفع و اقدام کو ہمیشہ راز رکھا۔ اس حکمت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ظالم کو مومنین صبر کی چٹان ہی نظر آئیں ۔صبر دراصل انرجی سیور تیکنیک کا دوسرا نام ہے ۔مثلاً جنگ احزاب کی تیاری میں دفع کو راز رکھا۔ اسی طرح فتح مکہ کی تیاری میں بھی دشمن کے مغالطے کو قائم رکھا۔
ہر فرد سیرت کا مطالعہ کرے تو ان حکمتوں کو سمجھ سکتا ہے ۔ان حالات میں تعلق بااللہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بلاشبہ ہر آزمائش اسی طرف سے ہے اور نکلنے کی راہ بھی وہی سجھاتا ہے ۔

اصول ضوابط کا پاس ولحاظ :

اللہ کے نبیﷺ اصول وضوابط اور اخلاق کے دامن کو کسی طور کم نہ ہونے دیتے تھے۔یہی تلقین صحابہ کو بھی کی ہے۔ غزوۂ خیبر کے دوران میں ایک حبشی چرواہا (اسود راعی) اسلام قبول کرلیتا ہے۔ قبول ِ اسلام کے بعد انھوں نے اللہ کے نبیﷺ سے پوچھا :اے نبیﷺ ! میرے پاس یہودیوں کی بکریاں ہیں۔ کیا کروں ؟اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: انھیں مالکوں کے حوالے کردو ۔
( محسنِ انسانیتؐ ۔ نعیم صدیقی )
اسی طرح قریش نے معاہدہ توڑا تو اللہ کے نبیﷺ نے قریش سے لیگل جواب طلب کیا اور شرائط پیش کیں ۔ہماری کوشش بھی یہ ہوکہ ہم مظلوموں کی داد رسی کریں، عدالتوں میں کیس درج کروائیں، حکومتوں کو متوجہ کریں ، کیوں کہ جمہوری ملک میں حکومت کسی اکثریت کی نہیں بلکہ پوری عوام کی حکومت ہوتی ہے ۔
ہمارا رویہ زبانی ردعمل کا نہ ہو۔ الفاظ سے اشتعال انگیزی باطل کا طرز تو ہوسکتا ہے، لیکن مومنین کا نہیں ہوسکتا۔صرف برائے نام نہیں، بلکہ ہمارے مال میں مظلوموں کا حصہ محسوس کریں ۔اپنی ذات کے خول یا مادہ پرستی کے حصار سے نکل کر ہم ہندوستان میں اسلام کی بقا کی بساط بھر کوشش کا عزم کریں ۔ہم بھی مظلوموں کو لمحہ بھر کے لیے نہ بھولیں اور ان کی داد رسی کی تدبیر کریں۔

ہر فرد سیرت کا مطالعہ کرے
تو ان حکمتوں کو سمجھ سکتا ہے ۔ان حالات میں تعلق بااللہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بلاشبہ ہر آزمائش اسی طرف سے ہے اور نکلنے کی راہ بھی وہی سجھاتا ہے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢