عید الفطر اورصلہ رحمی
مومنین کے لیے دو ہی تیوہار ہیں۔ ایک عید الفطر اور دوسرا عیدالاضحیٰ۔ قرآن مجید رمضان کے روزوں سے متعلق دومصلحتیں بیان کرتا ہے:
(1)ایک یہ کہ مسلمانوں میں تقویٰ پیدا ہو
(لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ )اور
(2) دوسرے اس کی اس نعمت کا شکرادا کرنا چاہیے جواس نے ماہِ مبارک میں نازل کیا۔

( لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ۔)

اللہ کا حکم ادا کرکے ایک مسلمان مہینہ بھر کی مشقت اٹھا کر نہ صرف روزہ رکھتا ہے، بلکہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئےاپنے روزے میں مکمل ایمان و احتساب کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے،تاکہ وہ اس روزہ سےوہ اجر حاصل کرسکے،جس کا ذکر کیا گیااور جس کا وہ حق دار بھی ہوگا۔
روزہ کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہو۔ تقویٰ اللہ کا وہ خوف ہے جس کی وجہ سےآپ حالتِ روزہ میں حلال چیزوں سے رکے رہتے ہیں۔ ایک مہینہ کی اس سخت ٹریننگ سے گزارنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم میں جو تقویٰ ماہِ رمضان میں پیدا ہو جاتا ہے، ہم اسے اگلے گیارہ ماہ تک برقرار رکھ سکیں۔ اگر ہم نے اس ٹریننگ سے یہ فائدہ اٹھالیا توہم کامیاب لوگوں میں شامل ہوجائیں گےاور عید جس کے معنیٰ خوشی کے ہیں، اس کے حقیقی حقدار بھی ہوں گے۔جو لوگ رمضان سے اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں، عید تو حقیقی معنوں میں انہی کی ہوتی ہے۔
عید صرف نئے لباس زیب تن کرنے، عمدہ پکوان بنا کر کھالینے کا نام نہیں بلکہ عید تو اللہ کے عطا کردہ انعامات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جو وہ ماہِ رمضان کی آخری رات لیلتہ الجائزہ میں اپنے روزے دار بندوں میں بانٹتا ہے۔
پھر عید اپنے علاوہ دوسروں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا نام ہے۔ صلہ رحمی کا معاملہ کرنے کا نام ہے۔اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اللہ کے بنائے قوانین ہمیشہ انصاف اورحسنِ سلوک کا معاملہ کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔عید سےقبل صدقۂ فطرادا کرکے ہم تمام مساکین کے لیے کچھ طعام کا انتظام کردیتے ہیں، وہیں اپنے روزوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشیں معاف کروالیتے ہیں۔
عید الفطر میں لوگ نئے لباس اور عمدہ غذاؤں کا اہتمام کرتے ہیں اور عید کی خوشی میں ہر چہار جانب میٹھا، زردہ اور سیویاں بنتی ہیں ۔ اور ہر شخص جہاں اپنے لیے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے ہر قسم کی خریداری کرتا ہے۔ وہیں اسلام سکھاتا ہے کہ زکوٰۃ اور انفاق کے ذریعے دوسروں کے ساتھ صلہ رحمی، مواخاۃ اور ہمدردی کا معاملہ روا رکھے۔
ہمارے اطراف میں ایسے کئی غرباء و مساکین ہوں گے، جن کے پاس کھانے کا انتظام نہ ہوا ہو، جن کی کچھ اہم ضروریات کاانتظام نہ ہوا، ہو ایسے افراد کو تلاش کرکے ان کے بھی کھانے، کپڑے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے عید منانا ہی دراصل عید ہے۔
جس روزہ دار نے عید پر اپنے مومن بھائی کی ضروریات کاخیال نہ رکھا، پھر اس نے نہ ان روزوں سے کچھ حاصل کیا اور نہ ہی اس عیدسے فائدہ اٹھا سکا۔اور یہ لاپرواہی اللہ کے انعامات سے بھی محرومی اس کا سبب بن سکتی ہے۔معاذ اللہ!
اللہ تعالیٰ تمام مومنین کو عیدالفطر کا صحیح حق ادا کرنے والا بنائے، آمین ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢