معاشی جدوجہد
زمرہ : النور

عن ابن عمر عن النبی ﷺ قال:
إن الله يحب المؤمن المحترف

(لمنذری بہ حوالہ طبرانی)
’’ابن عمر نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:
اللہ اس مسلمان سے محبت کرتا ہےجو محنت کرکے روزی کماتا ہے۔‘‘

جس طرح توحید اور نماز کی اشاعت ِ دین کا اہم ترین فریضہ ہیں، اسی طرح مسلمانوں کی معاشی حالات کا سدھارنا اور انہیں غربت و افلاس سے دور کرکے معاشی سدھار پیش کرنا بھی قرآن و حدیث کی اہم ترین ہدایات میں شامل ہے۔
معاشی خوشحالی، دولت کے حصول اور وسائل کی فراوانی کو اسلام نے نفرت اور بے زاری کی نظر سے نہیں دیکھا، بلکہ اسلام نے کسبِ معاش، معاشی جدوجہد اور دولت حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
مال و دولت کو قرآن نے ’فضل‘ او ر ’خیر‘ جیسے الفاظ سے تعبیر کیا ہے:

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ
(الجمعہ :۱۰)

’’پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اوراللہ کا فضل تلاش کرو۔‘‘
یہاں خدا کے فضل سے مراد روزی ہے، جس کی تلاش کا اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔ آیت سے پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ اذانِ جمعہ سنتے ہی اپنے کام کاروبار بند کر دو اور اب کہا جارہا ہے کہ نماز سے فارغ ہو جاؤ تو پھر’’فضل‘ ‘کی تلاش کرو۔ معاش کی فکر تو ناگریز ہے۔ اس عمل میں کوئی قباحت ، ناپسندیدگی یا تحقیر و نفرت کی بات نہیں، بلکہ یہ تو مطلوب اور پسندیدہ عمل ہے۔ لہٰذا زمین میں پھیل جاؤ اور جو ذرائع حلال ممکن ہوں، ان سے حصول رزق کے لیے محنت و جستجو کرو۔
تلاشِ معاش اور خوش حالی کے لیے نشاط اور جدوجہد کو بعض ذہنوں نے ہر دور میں خالص دنیا داری کا عمل سمجھا اور کافی حقارت کی نظر سے دیکھا اور بعض نے تو یہ پروپیگنڈہ کیا کہ دنیا، مال و تجارت بہت بری چیزیں ہیں۔ اسلام تو صرف ذکر و شغل اور آخرت کو بنانے پر زور دیتا ہے اور یہ پروپیگنڈہ قرآن و حدیث کے ذریعے کیا جاتا رہا۔
صدیوں کے انحطاط زوال غلط پروپیگنڈے اور غلامی کے باعث مسلمانوں میں یہ تصور در آیا کہ دین داری فقط خستہ حالی، شکستگی، غربت و افلاس اور فقر فاقہ کا نام ہے۔ دنیا و دنیا کے ذرائع وسائل سےبے نیازی ، بےتوجہی اور اس کی تحقیر و تذلیل دینی معراج ہے۔ یہ ایک غلط تصور دین ہے۔ نہ تو قرآن اس کی تائید کرتا ہے اور نہ احادیث سے یہ صحیح ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی اسوۂ رسول اللہﷺ و سیرت صحابہؓ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ بلکہ قرآن میں تو اللہ پاک فرماتے ہیں:
مال زندگی کے قیام کی بنیاد ہے۔

وَلَا تُؤْتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمْوَٰلَكُمُ ٱلَّتِى جَعَلَ ٱللَهُ لَكُمْ قِيَٰمًا (النساء :۰۵)

’’اور بے وقوفوں کو ان کا مال مت دو، جسے خدا نے تمہارے قیام اور بقاء کا ذریعہ بنایا ہے۔ ‘‘
پیارے نبی ﷺ نے کسبِ معاش کے لیے نشاط و محنت کو راہِ خدا میں مصروفیت قرار دے کر اس کو بھی دینی عمل قرار دیا ہے۔
ایک بار رسول اللہﷺ اور آپ کے ہمراہ چند صحابہ کرام کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا، جو انتہائی محنت کے ساتھ مزدوری میں لگا ہوا تھا۔ صحابہؓ کو اس کی یہ جاں فشانی اور محنت بہت بھلی معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہﷺ ! یہ شخص کس قدر محنت اور عرق ریزی کے ساتھ کام میں ڈوبا ہوا ہے۔ کاش یہی محنت اور جاں فشانی وہ خدا کی راہ میں دکھاتا۔ اس کے جواب میں آپؐنے فرمایا:’’اگر یہ اپنی اولاد کے لیے روزی حاصل کرنے کی غرض سے جدوجہد کررہا ہے تو یہ اللہ کی راہ ہی میں لگا ہوا ہے اور اگر بوڑھے والدین کے لیے اپنی روزی کے حصول کے لیے محنت کررہا ہے، تب بھی خدا کی راہ ہی میں لگا ہوا ہے اور اگر اپنی روزی کمانے میں لگا ہوا ہے کہ خود دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہے، تو بھی خدا کی راہ میں ہے۔‘‘(طبرانی)
اس حدیث کے ذریعے رسول اللہﷺ نے اس ذہن کی اصلاح کی ہے، جو معاش کی جدوجہد کو دینی جدوجہد کے خلاف سمجھتا ہے اور اس راہ میں محنت اور جاں فشانی کرنے والے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایک اور حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے کاروبار میں سچائی اور امانت اختیار کرنے والوں کے لیے خوش خبری دی کہ ایسے لوگ قیامت کے دن خدا کے محبوب بندوں کے ساتھ ہوں گے۔ حدیث رسول ہے کہ سچے اور ایماندار تاجر قیامت کے روز انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوں گے۔
اکثر رسول اللہﷺ خطبہ میں یہ فرمایا کرتے تھے:’’ اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ مزید فرمایا کہ ’’ہوسکتا ہے فقر و فاقہ کفر سے قریب کردینے والا ہو۔ ‘‘
اس لیے ملت اسلامیہ کے افراد کو چاہیے کہ وہ تجارت، زراعت اور صعنت وحرفت کے میدانوں میں آگے بڑھنے اور اپنی جگہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ مسلمانوں کو ایک موقع پر ہدایت دیتے ہوئے رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’تم میں سے کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور یہ دعا کرتا رہے کہ اے اللہ! مجھے رزق عطا فرما، جب کہ وہ خوب جانتا ہے کہ آسمان سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوتی۔‘‘
قرآن وسنت کی یہ واضح ہدایات بتاتی ہیں کہ دنیا کی نعمتوں کا حصول، وسائل کی فراہمی، زندگی کے لیے جدوجہد اور مادی قوت کو حاصل کرنا ممنوع نہیں، بلکہ مطلوب ہے۔ البتہ حلال اور جائز طریقوں سے ہر طرح کے مادی وسائل فراہم کرنے کے باوجود اس یقین اور ایمان کے ساتھ زندگی گزاری جائے کہ یہ دنیا عارضی ہے، ابدی قیام گاہ جنت ہے۔ عیش پسندی، آرام طلبی اور صرف دنیا حاصل کرنا مومن کا مقصود نہیں ہے، بلکہ جفاکشی، قناعت پسندی، آخرت طلبی، فیاضی، کشادہ دلی اور فراخ دستی جیسے فضائل اخلاق کے ساتھ دنیا کی زندگی گزارنا ہی مومن کی شان ہے۔ اگر دنیا پاکر مومن اپنا مقصدِ زندگی بھول جائے، عیش وعشرت میں پڑ کر خدا سے غافل ہو جائے اور مال و جائیداد کو اپنا مقصود بنالے تو وہ مارا گیا۔ اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ خدا کی نعمتیں خوب حاصل کیجیے۔ مگر دنیا کے بندے نہ بن جائیے۔ نعمتوں کی لذت میں نہ کھو جائیے، بلکہ ان نعمتوں کو خدا کی راہ میں لٹائیے،اس کے بندوں تک پہنچائیے اور صبح و شام اللہ کی راہ میں تقسیم کیجیے۔ کیوں کہ یہی مطلوب ہے۔ یہی مومنانہ طرز فکر ہے اور یہی رسول اللہﷺ اور صحابہؓ کا اسوہ ہے۔ آپؐنے یہ بھی فرمایا ہے کہ: ’’ دو ہی انسان قابل رشک ہیں:(1) ایک وہ جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ صبح و شام اس علم کو پھیلانے میں لگا ہوا ہے۔(2) دوسرا وہ جس کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے اور وہ صبح وشام اللہ کی راہ میں لٹا رہا ہے۔‘‘

قرآن وسنت کی یہ واضح ہدایات بتاتی ہیں کہ دنیا کی نعمتوں کا حصول، وسائل کی فراہمی، زندگی کے لیے جدوجہد اور مادی قوت کو حاصل کرنا ممنوع نہیں، بلکہ مطلوب ہے۔ البتہ حلال اور جائز طریقوں سے ہر طرح کے مادی وسائل فراہم کرنے کے باوجود اس یقین اور ایمان کے ساتھ زندگی گزاری جائے کہ یہ دنیا عارضی ہے، ابدی قیام گاہ جنت ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢