حجازی انقلاب
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں :’’چوں کہ ابراہیمؑ کے زمانے میں انسانی سوسائٹی اللہ تعالیٰ کی توحید کو بھول چکی تھی، اس لیے حضرت ابراہیم توحیدکی اشاعت ہی کے لیے آئے۔ چنانچہ انہوں نے طہارت نماز، حج، زکوۃ، روزہ اور ذکر کی عبادتیں جاری کی۔ لیکن نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ملتوں میں گڑ بڑ پڑ چکی تھی، ان کے ارتفاقات (معاشی زندگی) خراب ہو چکے تھے اور یہ خرابی اس خرابی سے کہیں زیادہ تھی جو حضرت ابراہیم زمانے میں ظاہر ہوئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو جہاد قائم کرنے، عبادتوں کی اشاعت کرنے اور ان کے اوقات متعین کرنے کے لیے بھیجا ۔ نیزحکمت الٰہی نے فیصلہ کیا کہ رومی اورایرانی امپریلزموں کو برباد کرکے نبی کریم ﷺ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی حکومت قائم کی جائے۔
میری یہ تحریر ان فرسودہ ذہن مسلمانوں، علماء و قائدین کی جماعتوں کے لیے ہے جو خود کو پاک و صاف رکھنے کے لیے سیاست سے دور رہنے کے مشورہ دیتے ہیں۔ جنہوں نے ان بادشاہوں کی تقلید کی، جنہوں نے پچھلے زمانے میں اسلامی شریعت کی ہلاکت کا کام کچھ اس طرح انجام دیا کہ دین کو سیاست سے الگ کردیا ۔!
ان بادشاہوں اور امیروں کے نزدیک دین کیا تھا؟ نماز، روزہ،زکوٰۃ، حج، وغیرہ کے مسئلے! اور باقی رہی حکومت اوراس کے متعلق چیزیں ،جیسے ٹیکس وصول کرنا، جزیہ جمع کرنا، فوجداری اور دیوانی انتظام، مخالفوں کے ساتھ جنگ یا صلح کرنا اور معاہدے کرنا،یہ سب سیاست کی باتیں ہیں۔ ان میں امراء اور بادشاہ اپنی مرضی کے مطابق چلتے تھے اور علمائ کی جماعت صرف نکاح کے خطبے اور زکوۃ کےمسائل کے لیے رہ گئی۔ غرض مسلمان حکمرانوں نے دینِ شریعت کے قوانین کو یکسر فراموش کردیا۔
نتیجتاً ہزاروں سال ہندوستان پر حکومت کرنے کے باوجود بھی امن و سلامتی،اسلامی فرمودات کی بقاء کے وسائل نہ اس وقت موجود تھے نہ مستقبل کے لیے اس کا کوئی تصور تھا۔ ہندوستان کے آج کے جو حالات ہیں، یہ مسلمان حکمرانوں کی کوتاہیوں کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
دور حاضر میں جو لوگ سیاست کو گندی قرار دے کر مسلمانوں کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں، میرا ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ ساری عمر جہاد و عدل و انصاف قائم کرنے میں لگے رہے، نماز، روزہ وغیرہ جیسے فرائض ادا کرنے کے بعد آپؐ کی زندگی کا زیادہ تر وقت انہی’دنیاوی‘ باتوں میں گزرتا تھا۔
قرآن کی اشاعت ، باہر سے آنے والے لوگوں سے ملاقاتیں، بادشاہوں کو قرآن کی دعوت دینا ،مقدموں کے فیصلے ،لشکروں کی تیاری،جو حکمران آپ ؐ کی دعوت نہیں مانتے اور اپنی رعایا پر ظلم کرتے ، ان پر لشکر کشی ، بیت المال کا نظم،تعلیم کا انتظام ،یتیموں کی جائیدادوں کی حفاظت کا اہتمام، ان کے قرضوں کو ادا کرنے کا کام وغیرہ ہیں جنھیں بعد میں ’سیاسی‘ قرار دے کر علماء نے ہاتھ اٹھا لیے۔ سیاست ’مذہب‘اور’دین‘ سے الگ کوئی چیز ہےاور سیاست کا تعلق دنیاداری کے ساتھ ہے، تو کہنا پڑتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی پاک اور بابرکت زندگی ’مذہبی ‘ کی بہ نست ’دنیاوی ‘ زیادہ تھی !
اگر آپ سیاست سے باز رہیں گے، حکمرانی کا ٹھیکہ کفار و مشرکین پر چھوڑ دیں گے تو پھر ملک میں انصاف کیوں کر ہوگا؟ ظلم و جبر کا وحشیانہ کھیل کیوں نہیں کھیلا جائے گا؟ جس بستی سے عدل و انصاف اٹھ جائے، وہاں پھر بچتا کیا ہے ؟ ظلم ! جبر ! کم زوروں پر ظالموں کا راج…!
اس حجازی انقلاب کو سمجھ لینے کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ تعمیری زمانے میں انقلاب کی روح کو بہت مضبوطی سے پکڑ نے کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ تعمیر ادھوری رہ جاتی ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان آج ظلم و تشدد کی زد میں ہیں۔ معاشی ،سماجی، جانی و مالی نقصانات اٹھارہے ہیں۔ مسلمانوں کی جان و مال کو پبلک پراپرٹی سمجھ کر توڑ پھوڑکا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ موجودہ حالات کا موازانہ کیا جائے تو یہ وہی حالات ہیں جونبی کریم ﷺ کے زمانے میں مکہ وعرب سمیت ساری دنیا کے حالات تھے۔ زمانۂ جاہلیت کے تمام ابو جہل و ابو لہب مسلمانوں پر یکساں طور پر ٹوٹ پڑتے اور ظلم و ستم کرتے نظر آتے ہیں۔
ایسے میں مسلمانوں کو بھی حجازی انقلاب برپا کرنا ہوگا۔ سیاست کو اپنا سب سے بڑا میدانِ عمل کے طور پر چننا ہوگا ، شریعت کی تعلیم کو خود پر نافذ کرنے ساتھ ساتھ دیگر علوم و فنون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔ آج ہماری حالت ویسی ہی ہے جیسی اسلام سے قبل عرب کے بدوؤں کی تھی۔ سائنس وٹکنالوجی کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا ،محدود وسائل سے نکل کر اجتماعی طور پر قوم و ملت کی تعلیم و تربیت کے سامان پیدا کرنے ہوں گے، نوجوان نسل کے اندر داعیانہ و مجاہدانہ صلاحیتیں پیدا کرنی ہوگی۔ وہی منصوبہ بندی اپنانی ہوگی جو قاعد اعظم نبی رحمتﷺ نے اپنائی تھی۔ ہندوستان کے موجودہ حالات ایک بہت بڑے تعمیری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
خوف و ہراس میں مبتلا ہونے کی بجائے اللہ پر کامل یقین رکھیں کہ اللہ کی فتح و نصرت آج بھی ہمارے ساتھ ہے، شرط یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ اسے تھامنے کے قابل ہوں۔

اگر آپ سیاست سے باز رہیں گے،
حکمرانی کا ٹھیکہ کفار و مشرکین پر چھوڑ دیں گے تو پھر ملک میں انصاف کیوں کر ہوگا؟ ظلم و جبر کا وحشیانہ کھیل کیوں نہیں کھیلا جائے گا؟ جس بستی سے عدل و انصاف اٹھ جائے، وہاں پھر بچتا کیا ہے ؟
ظلم ! جبر ! کم زوروں پر ظالموں کا راج…!

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢