ماں کی عظمت

یہ جنگ حنین ہے ۔نبی کریم ﷺ کی رضاعی ماں آپؐ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتیں ہیں۔آپؐاستقبال کے لیے آگے بڑھتے ہیں ۔ فرحت و محبت میں اپنی چادر مبارک ہاتھوں سے زمین پر بچھا دیتے ہیں ،جسے آپؐاوڑھا کرتے تھے ۔ صحابہ یہ خوبصورت منظر دیکھ رہے ہیں۔
وقت کے نبی کے جسم اطہر پر رہنے والی چادر ایک خاتون کی تعظیم میں زمین پر خود نبی کریمﷺنے بچھادی اور اپنی رضاعی ماں کو بہت محبت وخلوص سے اپنی چادر پر بٹھایا ۔جب تک ماں حلیمہ بیٹھیں رہیں ۔آپؐجنگ کی تمام صعوبتیں بھلاکر ان سے باتوں میں مشغول رہے۔
ماں گرچہ رضائی تھیں، لیکن پیارے نبی کریمﷺایک لخت جگر ، سگے بیٹے کی طرح پیش آرہے تھے۔اور ایسا کیوں نا ہوتا؟ اپنی والدہ محترمہ کو یاد کرکے اکثر اشک بار جو ہوجایا کرتے تھے۔
ماں کی عظمت کا درس پیارے نبی ﷺ نے جس طرح پڑھایا، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔اس قیمتی درس کو آپؐکے چاہنے والے کس حد تک یاد رکھے ہیں، یہ تو آج کی مائیں زیادہ بہتر بتائیں گی۔
کہیں ماں کی سسکیاں اپنی اولاد کی نافرمانی کا ماتم کررہیں ہیں ۔
توکہیں اپنی اولاد کی بے رخی سے دل برداشتہ اور اداس دکھائی دے رہیں ہیں۔دنیا کی رنگینیوں اور مصروفیتوں نے ماں کی خدمت سے صرف غافل ہی نہیں کیا، بلکہ رویے بالکل غیروں جیسے ہوگئےہیں۔اور اگر ماں کی ممتا کا لحاظ ہو تو اولاد کے سینے میں ایک احساس کروٹیں لیتا رہتا ہے،جس کی ترجمانی علّامہ اقبالؒ کے یہ خوبصورت اشعار کرتے ہیں؎

کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
دفتر ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
تجھ کو مثلِ طفلک بے دست و پا روتا ہے وہ
صبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہ

ماں،اللہ ربّ العزت کا ایک ایسا قیمتی تحفہ ہےجس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دلوں کا حال خود بخود جان جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر والدین کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ فرمایا ہے۔

وَإِذْ اَخَذْناَ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَ بِاالْوَالِدَیْنِ اِ حْسَاناً ۔(البقرۃ:۸۳)

’’اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اس بات کا کہ عبادت نہ کرنا اللہ کے سوا کسی کی اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔

وَاعْبُدُواللّٰہ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَا نًا (سورۃالنساء:۳۶)

اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو۔
ماں کی عظمت کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے کہ رب نے اپنے نام کے ذکر کے ساتھ والدین کی خدمت کا حکم دیا ہے۔
جس دل میں ماں کی محبت آباد ہوتی ہے ،وہ اولاد اس کی خدمت میں دل کا سکون پاتی ہے، اس کی قدر کرتی ہے، اس کی عزت و احترام کرتی ہے اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو اپنے لیے بہت بڑا اعزاز سمجھتی ہے۔
اس کے لیے اس کو کسی مصنوعی سلیبریشن کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ جسے آج ہم نے ’مدر ڈے ‘تک محدود کر رکھا ہے۔ماں کی محبت، خلوص اور شفقت کو بھول کر سال میں صرف ایک دن اس کے نام کردیں، یہ کون سا کمال اور کہاں کا انصاف ہے؟بلکہ ہماری پوری زندگی، پوری زندگی کا ہر ہر سال اور ہر سال کا پورا پورا مہینہ اور مہینہ کا ہر ہر دن اور دن کا ہر ہر لمحہ ماں کے نام ہونا چاہیے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر
میری شہ رگ پہ میری ماں کی دعا لکھی تھی

کہیں ماں کی سسکیاں اپنی اولاد کی نافرمانی کا ماتم کررہیں ہیں ۔
توکہیں اپنی اولاد کی بے رخی سے دل برداشتہ اور اداس دکھائی دے رہیں ہیں۔دنیا کی رنگینیوں اور مصروفیتوں نے ماں کی خدمت سے صرف غافل ہی نہیں کیا، بلکہ رویے بالکل غیروں جیسے ہوگئےہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢