حالِ دل وہ سنائے کس سے ؟

ہم ایب نارمل افراد میں دو طرح کے کردار کا سماج میں راست مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم نے یہاں افراد لکھا ہے، کیوں کہ ہم نے مرد و خواتین میں ایسے کردار دیکھیں ہیں۔
یہاں ہمارا فوکس صرف خواتین کے ایسے دو کرادروں پر ہے،جن کی تربیت ان کے افرادِ خاندان پوری لطافت و حساسیت کے ساتھ کرتے ہیں۔اسی لیے لطیف جذبے رکھنے والی حساس لڑکیاں ہوتی ہیں ۔تاہم گزرتے وقت کے ساتھ وہ زمانے کے ربط میں آتی ہیں اور انسانوں کے تیور سمجھ نہیں پاتی ہیں ۔باہر کی دنیا انہیں سفاک نظر آنے لگتی ہے ۔احساسات کچل دیے جاتے ہیں۔جذبات تنفر کا شکار ہوتے ہیںیاان کی صلاحتوں کی ناقدری ہوتی ہے، محبتوں کے بدلے ٹھوکریں ملتی ہیں ۔تاہم اس طرح کے کردار تکلیف کی اتنہا پر حوصلہ نہیں رکھ پاتے اور توازن کھو دیتے ہیں ۔
ان حالات کے نتیجے میں دو کردار سامنے آتے ہیں:
(1) ایک وہ جن میں زندگی کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہ پاتی۔ وہ خاموش زندہ لاش کی طرح روبوٹک انداز میں کام کرتے ہیں اور چپ چاپ دنیا سے چلے جاتے ہیں ۔وہ بہت زیادہ غیر محسوس ہوتے ہیں ۔
اس بات کو ایک واقعہ سے سمجھیے کہ ایک خاتون کے انتقال کا دوسرا دن تھا، ان کے نام سے کسی محلے کی خاتون کو مرحوم کے پسند کے کپڑے اور کھانے دینے کے لیے کسی بزرگ دانشور نے مشورہ دیا۔کسی نے مرحوم خاتون کے شوہر سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کی اہلیہ محترمہ کون سے رنگ کا لباس پسند کرتی تھیں اور کیا کھانا پسند کرتی تھیں؟موصوف خاموش زنان خانے میں آکراپنی بیٹی سے پوچھنے لگے۔ بیٹے آپ کی امی کون سا کلر پسند کرتی تھیں اورانھیں کیا کھانا پسند تھا ؟
بس ایسے کردار زمانے سے اپنی زندگی ہی میں پردہ کرلیتے ہیں۔ ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔وہ تو کب کے اندر سے مرچکے تھے، نہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی و ناقدری کی پرواہ نہ اپنی ذات کا احساس ۔زندہ ہوتے تو زندہ لوگوں کی طرح توجہ طلب ہی تو کرتے نا۔
(2)دوسرے وہ کردار جو برن آؤٹ ہوجاتے ہیں۔زمانے کی تلخیاں ان کے کردار میں ایسے گھل مل جاتی ہیں کہ انہیں زمانے سے اس کے سوشل کنڈکٹ سے بغاوت میں لطف آنے لگتا ہے۔وہ دانستہ و ناداستہ زمانے کو وہی لوٹارہے ہوتے ہیں جو زمانے سے پاتے ہیں۔
زمانہ ان کے باغی رویہ پر لاکھ برا کہے،حرف ریزی کرے، تنقید کرے، کراہیت آمیز کرادر سمجھ کر ان کی تذلیل کرے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وجہ وہی ہے کہ ان کے پاس سے تمیز رخصت ہوچکی ہوتی ہے اور صرف بغاوت بچی ہوتی ہے ۔ وہ دل کے اچھے ہو سکتے ہیں،لیکن تلخی، ترشی، سماجی نظام سے بغاوت ان کا شیوہ بن جاتی ہے ۔
ماہرین کے نزدیک ان دونوں ہی کرداروں کو بازآباد کاری کی ضرورت ہے ۔
جب کہ زمانہ اول الذکر کو توجہ ہی نہیں کرتا اور مؤخر الذکر کو پبلک پراپرٹی سمجھ کر اس کی تذلیل و بے توقیری کرنے لگتا ہے ۔
چاہے یہ باغی معاشی تنگ دستی کے نتیجے میں منظر پر آئیں یا جذبات کے کچلنے کے صلے میں یا ناقدری کے عوض میں، بہرحال ان سے ہمدردی اور ان کی باز آبادکاری ہماری ذمہ داری ہے ۔
جب کہ صحت مند دماغ تعمیری رول پلے کرتا ہے۔ ہمارا دماغ تخریبی انداز میں سوچنے لگے، تب ہمیں بھی کم ہی سہی کاؤنسلنگ کرولینے میں کوئی برائی نہیں ۔
آپ کیا سوچتے ……؟

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢