باپ کے انتقال پروراثت کی تقسیم
سوال:

ایک شخص کے چار بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں۔ بڑا بیٹا اپنی پوری تنخواہ باپ کو دیتاہے۔ باپ کچھ بھی نہیں کماتا، حتّٰی کہ اس کے پاس رہنے کے لیے گھر بھی نہیں ہے۔بیٹوں کی کمائی سے پیسے جمع کرکے باپ گھر بناتاہے۔ اب اگرگھر باپ کے نام پر ہوتوکیا ایسا مکان باپ کی موت کے بعد ترکہ کہلائے گا اور اس میں سب بھائیوں بہنوں کے حصے ہوں گے؟

جواب:
کوئی شخص بے روزگار ہوگیاہو اور اس کے بیٹے کماتے ہوں توان کے ذمے داری ہے کہ اپنے باپ کی مدد کریں، اپنی کمائی میں سے اس کو دیں اور اس کی مالی ضروریات پوری کریں۔حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:’’میرے پاس کچھ مال ہے اور میرے بچے ہیں۔ میراباپ میرے مال میں سے لینا چاہتاہے۔‘‘(کیامیں اس کو دوں؟)آپؐ نے فرمایا:

’’أنتَ وَمَالُکَ لِوالِدِکَ۔‘‘

(تو اور تیرامال سب تیرے باپ کا ہے۔) آپؐ نے مزید فرمایا:
إنَّ أولادَکُم مِن أطیَبِ کَسبِکُم،فَکُلُوا مِن کَسبِ أولادِکُم(ابودائود: ۰ ۳۵۳)
’’تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی میں سے ہے۔تم اپنی اولاد کے مال میں سے کھائو۔‘‘
بچوں نے اپنے باپ کی زندگی میں جو کچھ کمایاہو، اگر وہ ا سے باپ کے حوالے کرتے رہے ہیں تواسے باپ کی ملکیت سمجھاجائے گا اور اسے اپنی مرضی سے آزادانہ طور پر خرچ کرنے کا اختیار ہوگا۔اسی طرح اگر باپ نے بچوں کی کمائی سے گھر بنایا اور اس کی رجسٹری اپنے نام سے کروائی تووہ مکان باپ کا سمجھاجائے گا۔ اس کے مرنے کے بعد اس پر ترکہ کے احکام نافذ ہوں گے اور اس کے تمام بچے اس کے حصہ دار ہوں گے۔
اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کے انیسویں فقہی سمینار منعقدہ گجرات ۲۰۱۰ء میں منظور کردہ تجویز کی ایک شق یہ بھی تھی:
’’باپ کی موجودگی میں اگر بیٹوں نے اپنے طورپر مختلف ذرائع ِ کسب اختیار کیے اور اپنی کمائی کا ایک حصہ والد کے حوالے کرتے رہے تواس صورت میں باپ کو اداکردہ سرمایہ باپ کی ملکیت شمار کی جائے گی۔‘‘
(نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے،طبع دہلی،۲۰۱۷،ص۲۵۶)
البتہ اگر کسی بیٹے نے باپ کوکوئی چیز دیتے وقت صراحت کردی کہ اس کا مالک میں ہوں، صرف اسے استعمال کرنے کے لیے باپ کو دے رہاہوں تواس پر بیٹے کی ملکیت باقی رہے گی اور باپ کے مرنے کے بعد اس پر ترکے کے احکام نافذ نہیں ہوں گے۔

ویڈیو :

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢