بچوں کی تربیت میں مساجد کا رول
سوشل میڈیا پر کچھ دن پہلے ایک تصویر گردش کرتی ہے ترکی حکومت نے ننھے بچوں کے مقابلہ رکھا ہے کہ جو بچے پابندی سے رمضان کے پورے ماہ نماز میں اول صف میں شامل ہوں گے، انھیں سائیکل انعام میں دی جائے گی۔
ایک سال بعد پھر ایک تصویر گردش کرنے لگی کہ اس سال رمضان میں جو بچے قرآن کا کچھ حصہ یاد کریں گے، انہیں تعلیمی ٹیب انعام دیا جائے گا۔اس سلسلے میں حکومت کے جانب سے اقدامات کیے گئے۔
اسی طرح یہ تصویر بھی ان دنوں گردش میں ہے کہ تراویح کے بعد ترکی کی ایک مسجد میں امام صاحب کے ہمراہ بچے ٹرین بنے ہوئے ہیں۔
مساجد سے بچوں کو جوڑنے والا انداز ایسا جدت بھرا ہوتو بچے کیوں نہ مساجد سے جڑیں، محبتیں بٹوریں اور اپنے بڑوں کی تقلید کریں؟
تعلیم گاہوں میں نظام بچوں کے لیے دوستانہ ہوتو تعلیم گاہ میں زندگی دوڑتی ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ دنیا میں سب سے بہترین کوئی جگہ ہے تو وہ اللہ کے گھر ہیں۔ مساجد اللہ کے گھروں کے سلسلے میں قرآن کریم میں ہے :
وَّاَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا ۞(سورۃ الجن : 18)

’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘
جس مقام پر خالص اللہ کی عبادت وبندگی کا اظہار ہو اور وہاں کسی اور کو نا پکارا جائے سوائے شہنشاہ کائنات کے۔ اس سے تو بڑ ھ کر کوئی اور مقام نہیں ہوسکتا اور انسان کی تربیت کا اہم جز یادِ الٰہی اور خوف خدا ہی تو ہے۔
جس قدر انسان میں خدا کے موجود ہونے کا احساس پختہ ہوگا ،اتنی ہی اس کی شخصیت میں نکھار آئے گا اور وہ بہترین اخلاق وکردار کا مالک بنے گا۔
کہا جاتاہے کہ بچپن کا علم پتھر کی لکیر کی مانند ہوتا ہے۔ پتھر پر جو نقش پڑ جائے وہ جلد نہیں مٹ سکتا۔ لہٰذا بچوں کا ہر دور میں مساجد سے تعلق رہا ہے۔ دین دار مسلمانوں نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ بچوں کو بھی اپنے ساتھ مساجد میں لے جاتے رہیں اور وہاں نمازیوں کا ایک عظیم مجمع ،نہایت باادب ، اور خاموش ذکر الٰہی میں مست، پھر ایک امام کی پیروی میں صف بندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی اور نماز کے بعد آپس میں لوگوں کا ملنا ، مصافحہ کرنا ، خیر خیریت جاننا۔ بچے اپنے والدین کے ساتھ دن میں پانچ مرتبہ یہ منظر دیکھیں۔ ابھی انہیں کوئی شعور نہیں، لیکن نگاہیں چپکے چپکے ان مناظر کے شخصیت پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ دل ودماغ میں ایک روشنی کی کرن نمودار ہوتی ہے۔ جیسے جیسے یہ بچے اپنی پختہ عمر کو پہنچتے ہیں، ان میں اپنے مسلم ہونے اور اللہ کے گھر میں اللہ کی بندگی کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے۔
لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بچے بہ ہر حال بچے ہیں۔ شعور کی ناپختگی ناسمجھی اور بچپن کی طبیعت کی شرارتوں سے وہ عاری نہیں ہوتے۔ اللہ کے گھر میں دھیرے دھیرے مساجد سے اچھی طرح آشنائی کے بعد ان میں ادب و تہذیب کی رمق پیدا ہوتی ہے۔ تربیت کے مرحلے کا تقاضہ ہے کہ لوگ ان بچوں کو بچے ہی سمجھیں اور ان کے ساتھ ان کی اپنی شرارتوں یا کچھ شور شرابے پر یا صفوں میں شامل ہوجانے پر ایسا کوئی رویہ اختیار نہ کریں کہ بچہ اس کا کچھ ایسا اثر لے بیٹھے کہ وہ مسجد میں آنا ہی چھوڑ دے۔
ہمارے پاس اپنے بچوں کو مسجد سے جوڑنے کے لیے احمد عروج قادری صاحب نے ’ننھا نمازی‘ جیسے نغمے لکھے :

وہ ہو چلا سویرا وہ رات جارہی ہے
امی اٹھو سفیدی ہر سمت چھا رہی ہے
اے میری اچھی امی اے میری پیاری امی
ابو کے ساتھ مسجد جاؤں گا آج میں بھی

کئی کہانیاں بچوں اور مسجد سے متعلق ماضی میں لکھی گئیں۔ جہاں بچوں کے عربی مکتب چلا کرتے اورحفظ کی کلاسیسز ہوتی تھیں۔
بدلتے زمانے ساتھ بچے مسجد سے رخصت ہو ئے۔ نوجواں کی عدم موجودگی کا مسجدیں مرثیہ پڑھنے لگیں۔ باقی رہ گئے بزرگ۔ انہوں نے مساجد کو تقدس کا وہ تصور دیا وہ مساجد میں بچوں کا ذرا شور ،بھا گ دوڑ اور ادنی سی بھی شرارت برداشت نہیں کرتے۔ اور ان کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کبھی تو غصہ میں ایک دو طمانچہ رسید کر کے بچوں کو گھروں کو بھیج دیتے ہیں۔ اسی حرکت پر بعض اوقات بڑے لوگوں میں جھگڑا بھی کھڑا ہوجاتا ہے۔ اور کچھ موسمی نمازی تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی بچہ صف میں نظر آجائے اور یہ بڑے اطمینان سے تاخیر سے نماز کے لیے پہنچ رہے ہیں تو بچوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بڑی بے دردی سے صف سے باہر نکال کر ایک کونے میں دبوچ دیتے ہیں۔ بعض لوگ نوابی ذہنیت لے کر مسجد میں آتے ہیں اور پیر کی ٹھوکر سے بچوں کو الگ کر کے صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام انتہائی جہالت پر مبنی مثالیں ہیں اور نمازیوں میں اسلامی شعور اور انسانی اقدار کے علم کا فقدان نظر آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج عالی شان مساجد کی عمارتوں کے باوجود ملت کے بچوں کی تربیت اور ان میں اسلامی جذبوں کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔ اب تو اپنی کمائی میں اور ملازمت میں مصروف والدین کو یہ بھی توفیق نہیں ہوتی کہ کم از کم وہ نماز کے لیے اپنے ساتھ بچوں کو لے جایا کریں او ر جو بچے اپنے شوق سے بچوں کے ساتھ آجاتے ہیں تو ، مسجد میں منتظمین اور مقتدیوں کا ناروا سلوک بچوں کی دینی تربیت میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
اب اگر بچہ ماں کی گود کے بنیادی مدرسے سے محروم ،پھر شعائرے اسلام مساجد میں بھی تربیت گاہ کا نظام بد دماغ لوگوں کے سبب خطرے میں پڑ جائے تو آخر مسجدیں کیوں نہ مرثیہ خوانی کریں گی؟ اور پھر گھروں سے بے زار چند بزرگوں کی رونق ہی مسجدوں کو آباد رکھے گی۔
آہ ! آج ملت کس حال کو پہنچ گئی ہے کہ اسے اپنے نونہالوں اور جوانوں کی تربیت کا بھی کوئی خیال نہیں۔ لیکن جو لوگ باشعور ہیں اور جنھیں اسلام کے مستقبل کی فکر ہے، وہ الحمداللہ بچوں کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں اور ان کی تربیت میں وہ خود بھی دلچسپی لیتے ہیں۔
دراصل یہ بچے جنت کے پھول ہیں۔ انہیں سے تو چمنِ اسلام کی رونق ہے۔ یہ تو ہمارا مستقبل ہیں۔ بعض مربین بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتے ہیں اور کھیل کھیل میں ان کے ذہنوں کو متأثر کرتے ہیں۔ ماشاءاللہ یہ ہماری مساجد صرف دو رکعت نماز کے لیے ہی نہیں ، بلکہ یہاں بچوں کے دینی مکاتب بھی ہوں اور مساجد کے وسیع علاقے میں کھیل کھیل میں بچوں کی تربیت بھی ہو۔ ان کی دلچسپیوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ یہ مسلم معاشرے کی تعمیر کا پہلا زینہ ہے۔
انسان کی زندگی میں یہ بچپن کی تعلیم وتربیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ بچہ اس تربیت کے نظام کو زندگی میں کابھی نہیں بھولتا۔ ملت کے اس قیمتی سرمایہ کو ضائع نہ ہونے دیجیے۔ یہ بچے آج ہاتھ سے نکل جائیں گا تو پھر کبھی ہاتھ نہ آئیں گے۔

بچے اپنے والدین کے
ساتھ دن میں پانچ مرتبہ یہ منظر دیکھیں۔
ابھی انہیں کوئی شعور نہیں، لیکن نگاہیں چپکے چپکے
ان مناظر کے شخصیت پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔
دل ودماغ میں ایک روشنی کی کرن نمودار ہوتی ہے۔
جیسے جیسے یہ بچے اپنی پختہ عمر کو پہنچتے ہیں،
ان میں اپنے مسلم ہونے اور اللہ کے گھر میں
اللہ کی بندگی کا احساس پیدا
ہونے لگتا ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢