ہنگامۂ شام و سحر دیکھتے چلو…!
ٹک ٹک ٹک ٹک…. گھڑی کی آواز۔
روم میں سناٹا تھا…. میری آنکھ فجر سے پہلے کھل گئی۔ چھت کو گھورتے ہوئے، میں ماضی میں چلا گیا۔
میں بہت گرم بستر میں ہوں۔ اچانک میرے پیر سے لحاف ہٹا اور میں نے تکلیف محسوس کی اورمنھ سے کراہ نکلی تھی کہ ایک مشفق چہرا سامنے آیا اور…. میرا لحاف برابر کیا، جو آواز میری سماعت سے ٹکرائی….’’میرا بچہ‘‘….تھی۔
منظر بدلہ
میں چلنے کی کوشش کررہا تھا۔ ابھی پکڑ کر اٹھنا چاہتا تھا کہ گر پڑا۔ میرے کان میں آواز گونج….آآآآآ….یا اللہ میرا بچہ….!
منظر پھر بدلہ
اسکول کا ہوم ورک مکمل کیا اور اپنی بک دکھائی ہی تھی کہ میری ہمت افزائی کرتے ہوئے جو آواز کان میں گونجی….’’ ماما دیکھیں، زید کتناذہین ہے۔ کتنے جلدی ہوم ورک کیا…. ‘‘اور پھرآواز آئی:’’ میرا بچہ بہت ذہین ہے۔‘‘
منظر بدلہ
بھائی آپ کھانا کھائے بغیر چلے نہ جائیے گا۔ مما فکر مند ہوتی ہیں…!
منظر پھر بدلہ
اسکول میں ہوں۔ کلاس میں ٹیچر کے آتے ہی میں نے بیگ میں ہاتھ ڈالا۔ پینسل تو بھول ہی گیا۔ ابھی میرے چہرے کا تأثر بدلہ ہی تھا کہ مدد کے لیے اگلی بینچ سے ایک نسوانی ہاتھ آگے بڑھا۔ مسکراتے ہوئے کہا:’’ یہ لو زید! یہ میری پینسل….۔‘‘
منظر بدلہ
اسائنمنٹ دیا گیا۔میرا کام سب سے پیچھے تھا۔ لیکچرر کے ناراض ہونے پر ابھی تفکر کی چادر چہرے پر کھولے کھڑا ہی تھا کہ ایک نسوانی آواز گونجی :’’زید یہ میرا اسائنمنٹ مکمل ہے، آپ اسکو کاپی کر لیں۔‘‘
منظر پھر بدلہ
اہر پارکنگ میں گاڑی لگا کر اندر بہت تھکے قدموں سے اندر آیا کہ ضعیف نسوانی آواز نے استقبال کیا:
’’ آگئے زید! پورے اپنے باپ کی پرچھائی ہے، میرا پوتا۔‘‘
اور کہتے ہوئے شفقت بھرا ہاتھ کا لمس سر کے بالوں پر تھا….اور سر اٹھایا ہی تھا کہ آواز آئی:’’ بھائی یہ لیں پانی….باہر بہت دھوپ ہے تھک گئے ہوں گے۔‘‘
منظر بدلہ
میں انٹرویو کے کیو میں کھڑا ہوں۔ کاؤنٹر سے نسوانی آؤاز آئی:’’ مسٹر زید! اب آپ کی باری ہے اور سر اٹھاکر دیکھا تو مجھ کو چار خواتین کو کراس کرکے بلایا گیا تھا۔
پھر بدلہ منظر
آپ ایک ہونہار کینڈیٹ ہیں۔ آپ کو موقع دیا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک نسوانی آواز تھی۔
ابھی فرم جوائن کرکے ابھی دوگھنٹے گزرے تھے۔ لیٹر ٹائپ کررہا تھا کہ کاؤنٹر سے نسوانی آواز آئی:’’ مسٹرزید! باس نے یاد کیا ہے۔ گھبراہٹ طاری تھی….مسکراتا ہوا چہرا ابھرا اور نسوانی آواز آئی…. میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں….؟
منظر بدلہ
آواز سماعت سے ٹکرائی۔ زید اٹھیں۔ آپ کے کپڑے آئرن کردیے، ناشتہ لگادیا۔ آفس کا وقت ہوگیا ہے…. اٹھیں بھی زید….آفس جانا ہے۔
منظر آخری تھا،بدلہ
میں بڑے سے ہاسپٹل کے بینچ پر بیٹھا کسی خبر کا انتظار کررہا تھا۔نسوانی آواز گونجی…. مسٹر زید! مبارک ہو۔ آپ کی بیٹی ہوئی ہے…. اور سر اٹھاکر دیکھنے سے پہلے ہی میرا سر شرمندگی سے جھک گیا ۔
خبر سننے کے بعد اداس شام سے اب تک نڈھال سوتا رہا تھا۔ اب آنکھ کھلی تو میرا تخیل ماضی کی مٹر گشتی مکمل کر چکا تھا۔کیوں کہ فجر کی آواز میرے کان میں گونجی تھی ….اور میں نے گہری سانس لے کر جو سوچا وہ یہ تھا کہ یہ بات نہیں کہ سارے منظر میں صرف عورت رہی، نہیں مجھ کو یاد ہے مرد بھی ساتھ ساتھ تھے۔ لیکن وہ ہر روپ میں مدد کے لیے سب سے پہلے اپنی بے لوث خدمات پیش کردیتی ہیں۔
جس کو ھم کہتے ہیں عورت جذباتی ہے، عورت جلدباز واقع ہوئی ہے، اس کی اسی جلد بازی اس کی جذباتیت کے زیرِ سایہ مرد پلتا ہے اور وہی مدد کے لیے سب سے پہلے اسی نے آواز لگائی ہے۔
عورت ہی ہے جو چہرے کے تأثر سے حالت سمجھ کرگزری ۔
’’ تو سراپا محبت ہے، تیرا خمیر ہی محبت ہے۔ بے لوث محبتوں کے باوجود ہر جگہ تو مجھ کو سہارا دے کر عزت و ناموس کی حفاظت کا سہرا بھی میرے سر باندھ دیتی ہے۔ اس لیے کہ تو عورت ہے، مطلب پوشیدہ…. میں نے تجھ کو ہر روپ میں مشفق و مہربان پایا۔ماں کی شکل میں محبت کی انتہا پر،بہن کی شکل میں باپ اور بھائی کے لیے فکر مندی کا عروج، بیوی کی شکل میں وفا شعاری اور ایثار و قربانی کی بلندی پر اور بیٹی کی شکل میں محبت سے لبریز دل کے ساتھ ۔‘‘
مؤذن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی اور میں سجدۂ شکر بجالاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔

میں بڑے سے ہاسپٹل کے بینچ پر بیٹھا کسی خبر کا انتظار کررہا تھا۔نسوانی آواز گونجی…. مسٹر زید! مبارک ہو۔ آپ کی بیٹی ہوئی ہے…. اور سر اٹھاکر دیکھنے سے پہلے ہی میرا سر شرمندگی سے جھک گیا ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢