لوح و قلم جس کے لیے نوحہ کناں ہیں

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نےاشرف المخلوقات بنایا ہے۔ وہ سورج کی شعاعوں کو گرفتارکر سکتا ہے، سمندر کی تہوں کو کھنگال سکتا ہے، غرض یہ کہ بہت سے مشکل کام کرسکتا ہے۔ لیکن انسان، انسان کی اُس شخصیت کا ادراک نہیں کرسکتا، جو کائنات کا سب سے پوشیدہ راز ہے۔ اورپھر اگر وہ شخصیت سر سید احمد خان جیسی جامع حیثیات ومجمع الکمالات ہو تو اس دشواری کا کیا ٹھکانہ! نہ قلم میں روانی، نہ زبان میں قوت گویائی! کیوں کہ سر سید احمد کی زندگی کا بیان دراصل ایک قوم کے حال اورایک ملت کے استقبال کی تفسیرہے۔
27/مارچ کو ملنے والی سرسید احمد خان کی وفات کی خبر ایسی نہ تھی کہ اپنا اثر ظاہر کیے بغیر رہتی۔ آپ کی شخصیت بے مثال تھی۔اس لیے آپ کی رحلت پر پوری دنیا نے ماتم کیا۔ملک وبیرون ملک، جہاں جہاں آپ کا نام اور آپ کی شہرت پہنچی تھی وہاں آپ کی وفات پر رنج و غم ہوا، تعزیتی نشستیں ہوئیں اور اہلِ قلم واہل زبان نے اپنے دل کا درد اور سید کی شخصیت کے علمی وفکری گوشوں کو اجاگر کیا۔ البتہ سر سید کی وفات سے خاص کرعلی گڑھ کے قلب وجگر پر ایک گہرا زخم لگا ہے، ایسا زخم جو مدتوں مندمل نہ ہو سکے گا۔
سید مرحوم ان شخصیات میںسے تھے جو جدید تعلیم کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتے تھے۔ تحریک علی گڑھ ان کی ذات میں پوری طرح جلوہ گر تھی۔ وہ علی گڑھ کو ایک عظیم تحریک، ایک اعلیٰ نصب العین کا ترجمان اور ایک علمی میراث کا آئینہ دار سمجھتے تھے۔اپنی صبح وشام کی مختصر وجامع گفتگو میں وہ تحریک علی گڑھ کے اعلیٰ مقاصد سے دل ودماغ کو سرشار کر دیتے تھے۔
سر سید مرحوم نے 80سال کی عمر پائی۔ عمر کا یہ طویل حصہ آپ نےتعلیم کی خدمات کے ساتھ ساتھ دین کی خدمت کے لیے بھی وقف کردیا، جس کی جیتی جاگتی مثال خطبات احمدیہ ہے۔ فرزندان علی گڑھ کے اندر آپ نے ایک حیاتِ تازہ پیدا کردی، خدمت گزاران قوم کی ایک جماعت کو میدان میں لا کھڑا کیا اور آپ نے ملت ہندیہ، بلکہ زیادہ واضح الفاظ میں عالم اسلام کی ایسی گراںبہا خدمات انجام دیں، جو رہتی دنیا تک یاد کی جاتی رہیں گی۔
سرسید مرحوم آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن آپ کے کارنامے ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے۔ جس ہراول دستے کے آپ سپاہی، بلکہ صف اول کے رہنما تھے، وہ محاذ ابھی بھی گرم ہے،حق وباطل کی کشمکش ابھی بھی قائم ہے، دین اور لادینی کی جنگ ابھی بھی برپا ہے اورایسے معرکوں میں آپ کے کارنامے وہ سنگ میل ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
آج آپ کا پیکرِ آب وگل نہیں لیکن آپ کی شخصیت زندہ ہے۔ لوگ اعزاز و احترام سے آپ کے کارنامے سنتے ہیں اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتےہیں،جن لوگوں نے آپ کی عظیم ہستی کو نہیں دیکھا وہ حسرت کریں گے کہ کاش ان کی آنکھوں نے آپ کی زیارت کی ہوتی۔جو آنکھیں شرف زیارت سے ممتاز ہوچکی ہیں، ان کی آرزو ہوگی کہ کاش انھیں فخر کلامی حاصل ہوتا اور جو خوبیِ بخت سے اس سے بھی مستفید ہوچکے ہیں، ان کی تمنا ہوگی کہ کاش یہ نعمتِ عظمیٰ ہم سے ابھی اور نہ چھینی جاتی۔ لیکن مشیت ایزدی پوری ہوکر رہی ۔ آپ کی گراں مایہ ہستی ہم سے رخصت ہو گئی۔ اب آپ کے روشن وزریں کارنامے ہیں، جو ہماری تسکین ورہنمائی کے لیے کافی ہیں۔
27 ؍مارچ کا وہ سیاہ دن کیسا تڑپادینے والا تھا اور وہ لمحہ کیسا دل خراش تھاجب ایک طرف عالم مادی کا سورج طلوع ہوا چاہتا تھا اور دوسری طرف علم وفکر کا آفتاب غروب ہونے کو تھا۔ وہ سورج طلوع ہوا، کیوں کہ اسے طلوع ہونا ہی تھا اور یہ آفتاب بھی غروب ہوا، کیوں کہ یہی خدا کی مرضی تھی۔مشیت الٰہی کے فیصلے ضروری نہیں کہ ہماری سمجھ میں بھی آجائیں۔
جسم کو جو عروج نصیب ہوا سب نے دیکھا، روح کو جو مقام حاصل ہوا ہوگا کس کو اندازہ؟جسے لوگ کاندھوں پر اٹھاکر لائے اسے سب نے دیکھا، جسے نورکے فرشتے ہاتھوں ہاتھ لے گئے، اس کے درجے اور مرتبے کو کون جانے!بقول شاعر
وہ لعل بدخشاں تھا جو کھو گیا ہے
وہ رحمت میں اللہ کے سو گیا ہے

ویڈیو :

آڈیو:

2 Comments

  1. waki

    please read about him in depth before ‘praising” him.

    Reply
    • نام *Mariya

      Khoobyon pe nazar rkhen aur khamyan bhula den

      Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢