اسلامو فوبیا اور ملک کا بدلتا ہوا منظر نامہ
اس وقت ہندوستان اور کم و بیش پوری دنیا میں گزشتہ کچھ دہائیوں سے اسلام کے خلاف نفرت اور اسلام دشمنی کی فضا کو ہموار کیا جارہا ہے۔ اس کے لیےہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہےاور ہر وہ حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، جو انہیں کامیاب بناسکے۔
انڈیا ٹومارو کی رپورٹ کے مطابق:’’ امریکہ اور یورپی ممالک گزشتہ چند دہائیوں سے اسلام کے خلاف نفرت اور اسلام دشمنی کا مرکز و محور رہے ہیں، لیکن 2020 اور 2021 کے دوران اسےمزید نمایاں طور پر دیکھا گیا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے علاوہ اسلامو فوبیا کے واقعات میں بھارت ، سری لنکا ، میانمار ، آسٹریلیا اور سنگاپور میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ فروری 2020 میں تنظیم اسلامی تعاون (اوآئی سی) کی جانب سے تیار کردہ ’’اسلامو فوبیک مانیٹرنگ‘‘ کے مطابق حکومتوں کی امتیازات پر مبنی پالیسی زبانی اور جسمانی حملے نفرت انگیز تقاریر ، آن لائن نفرت کا پھیلاؤ ، حجاب مخالف واقعات اور مساجد پر حملے اسلامو فوبیا کی مختلف شکلیں ہیں۔‘‘
لیکن اس وقت ہم ہندوستان کے تناظر میں بات کریں گے جہاں 2014 کے بعد سے حالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں اور اسلامو فوبیا کی ایک لہر سی دوڑتی نظر آرہی ہے۔ مختلف حربے استعمال کرکے اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے کی کوشش پورے زور و شور کے ساتھ ایک پلاننگ کے تحت انجام دی جارہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ہندوستان میں جس طرح کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور ہنوز جاری ہے وہ 1947 سے لے کر اب تک 70 سالہ تاریخ میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔آزادی کے بعد سے ہم شاید سب سے بدترین دور میں جی رہے ہیں۔ خصوصاً یہ اپریل کا مہینہ ،2022 کا یہ سال ہمارے لیے ایک بدنما داغ کی طرح ہے۔ اس میں نفرت کی جو ہوا چل رہی ہے ،یہ ڈر ہے کہ وہ سب کچھ جلاکر خاک نہ کردے اور جب سب کچھ نفرت کی آگ میں جل کر ختم ہوجائے گا تو پھر کچھ کہنے کے لیے باقی کیا بچے گا؟
واقعات و واردات کا نہ تھمنے والا ایسا سلسلہ شروع ہوگیا ہے کہ اگر اس کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جو کہ باقاعدہ ٹریننگ یافتہ ہے۔ اس کا کام ہی تشدد پھیلانا ہے اور اسے سرکاری طور پر کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اسے کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے اور نہ ہی قانون کی کوئی گرفت ہے۔
یکے بعد دیگرے عوام کو استعمال کرکے دو فرقوں میں منافرت کی فضا قائم کرکے انہیں بانٹنے کا کام کیا جارہا ہے۔ لوگوں کے اندر اس طرح طرح سے نفرت کی کھائی کھودی جارہی ہے اور وہ اتنی گہری ہےکہ اس میں گرنے کے بعد اٹھنا اور پھر دوبارہ وہ آپسی میل محبت بھائی چارہ واپس لانا بہت مشکل ہوگا۔ صدیوں سے چلی آرہی ملی جلی گنگا جمنی تہذیب متأثر ہورہی ہے۔
یہی وہ ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب پر عقیدہ رکھنے والے مختلف ذات اور برادریوں کے لوگ رہا کرتے تھے۔ لیکن ان میں سے اگر کوئی مسلمان ڈاکٹر ہے تو وہ سب کا مسیحا تھا، اگر کوئی ہندوٹیچر ہے تو وہ سب کے لیے محبت اور ہمدردی رکھنے والا استاد تھا۔ اس کی نظر میں ہر بچہ اس کا اپنا ہی تھا۔ اس پاکیزہ اور پر مسرت فضا کو اس طرح سے مکدر کیا جارہا ہے کہ یہ نفرت کی آگ جنگل میں آگ مانند بڑھتی ہی جارہی ہے، رکنے کا نام ہی نہیں لیتی ہے اور اس کی زد میں اسکول ، کالج تمام تعلیمی بڑے بڑے ادارے سے لے کر اب بزنس اور بازاروں میں اس کے اثرات مرتب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ سودا فروش چھوٹے چھوٹے لادی والے ، سبزی والے ، فروٹ بیچنے والے بھی اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے نام سے ان کے کپڑوں سے انہیں پہنچانا جارہا ہے۔ تعلیمی اداروں کو ہی لے لیں۔ برسوں سے چلی آرہی ملی جلی تہذیب کوئی ساڑھی پہنتا ، کوئی بندی لگاتا ، کوئی سرپر دوپٹہ پہنتا، کسی کو کوئی قباحت نہیں تھی۔ دیوالی کی مٹھائی اور عید کی سویوں کا پڑوسی، دوست اور احباب سب انتظار کرتے، خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلم ہوں یا کوئی اور۔ آج وہ تمام چیزیں ختم ہوچکی ہیں اور اس کے ساتھ شاید انسانیت بھی مرتی اور ڈوبتی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ آج تشدد کرنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ یہ بھی ایک انسان ہے ہمارا ہی بھائی یا بہن ہے۔
اکثریتی طبقہ کے ایک شدت پسند گروپ نے مسلمانوں کو اس طرح نشانہ بنالیا ہے کہ وہ کیا کھائے گا؟ کیا پہنے گا؟ کیسے رہے گا؟ کس کی مرضی سے اس ملک میں جیے گا؟ یہ بھی وہ طے کریں گے۔ کھلے عام یہ نعرہ دیا جارہا ہے کہ اس ملک میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہے۔ اسکولوں میں مخصوص مذہبی کتابوں کو پڑھانا لازمی کیا جارہا ہے یعنی سیدھے لفظوں میں جمہوریت اور دستور ہند میں ملی مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی آزادی کو پامال کیا جارہا ہے۔ صاف لفظوں میں یہ بات ذہن نشین کرائی جارہی ہے کہ تعلیم یا حجاب دو میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا ۔یہ ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘ نعرے کی خلاف ورزی نہیں تو اور کیا ہے۔ مسلم خواتین سے ہمدردی کے دعوے کرنے کے بعد مسلم خواتین کی نیلامی اور بولی لگائی جاتی ہے اور سائبر کرائم

میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میڈیا بک چکا ہے۔ سچائی پر پردہ پڑھا ہوا ہے۔
حالیہ مدھیہ پردیش راجستھان، گوا، کرناٹک، گجرات اور دہلی کے واقعات دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آنے والے اور کچھ جرأت مند صحافیوں کی رپورٹ کے مطابق ایک ساتھ پورے ملک میں ظلم و تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ اس طرح شروع ہوچکا ہے کہ جیسے جنگل میں آگ لگتی ہے۔
مگر جب آگ لگتی ہے تو وہ سب کچھ جلا کر خاک کردیتی ہے پھر بقول مرحوم شاعر راحت اندوری؎

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

ایک سینئر صحافی اجیت انجم کہتے ہیں کہ یہ نفرت جو لگائی جا رہی ہے تو کیا اس سےکچھ ہی لوگوں کویا خاص طبقہ، جس کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے، وہی متأثر ہوگا؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جب ملک جلنے لگے گا تب ہند و بھی نہیں رہے گا، مسلمان بھی نہیں بچے گا۔ کوئی باقی نہیں بچے گا۔ اس لیے خدارا اس نفرت کی آندھی کو روکیے۔انہوں نے نیوز 18 کے ایک صحافی کی مثال دیتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان کے ساتھ بھیڑ نے کس طرح کی بدسلوکی کی کہ جب وہ رات 11 بجے ڈی جے پر چل رہے ایک پروگرام کو روکنے کی اپیل کرتے ہیں تو بھیڑ انہیں بھی نشانہ بناتی ہے اور انہیں آتنک وادی پاکستانی ایجنٹ بتاتی ہے، جبکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں سوربھ شرما (Saurabh Sharma) ہوں۔ لیکن پولیس کی موجودگی میں وہ پرتشدّد لوگوں کا شکار بنے اور پٹنے سے نہیں بچ پائے۔ وہ بھاگ کر اپنی جان بچاتے ہیں۔ بھیڑ سے آواز آتی ہے کہ ’’اسے ٹھکانے لگا دو۔‘‘ یہ واقعہ راجدھانی دلّی سے لگے ہوئے نویڈا Extension کی ایک سوسائٹی میں رہنے والے نیوز 18 میں کام کرنے والے ایک رپورٹر کا ہے۔ اسے ہم نیوز 18 کی ویب سائٹ پر تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔ تو بات یہ سمجھنے کی ہی کہ جہاں آگ لگتی ہے خواہ وہ نفرت کی ہو یا حقیقت میں، آگ تو آگ ہے ۔وہ پھر کسی کو نہیں بخشے گی۔ کسی کا گھر پرسکون نہیں رہے گا۔ ہر ایک کو خوف و ہراس کی فضا میں جینا پڑے گا۔
دی وائر (The Wire) کی ایک خبر کے مطابق چند دنوں قبل جنتر منتر پر ایک مظاہرہ ہوا۔ اس میں وائر کی رپورٹر سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی اور ایک سیکولر ذہن رکھنے والے معزز شخص جناب اپوروانند کہتے ہیں کہ:
’’دنگے پہلے بھی ہوتے اور اکثر ہوتے رہے، لیکن ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ مسلمانوں کے گھر آپ بلڈوزر سے توڑ رہے ہیں اور کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوتی۔ پولیس محکمہ جو کہ ہمیشہ اپنا فرض بجاتے تھے اور تشدد کو روکنے کا کام کرتے تھے، وہ خاموش ہیں۔ لا اینڈ آرڈر ختم ہو چکا ہے، آخر یہ کس طرح کی سیاست ہے؟‘‘
سوشل ایکٹیوسٹ شبنم ہاشمی اسی مظاہرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہتی نظر آئی ہیں کہ :’’آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر وہ کونسی مائیں ہیں، جو اپنے بچوں کو اس طرح غنڈوں کی شکل میں تیار کررہی ہیں۔ انھیں اپنے بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر دکھ نہیں ہوتا کہ یہ کیا کررہے ہیں؟وہ آگے کہتی ہیں کہ پورا ماحول اس طرح کا بن چکا ہے کہ اس میں ایک چیز عنقا وہ یہ کہ ہمت اور حوصلہ(Courage)اس وقت لوگوں میں غلط کے خلاف بولنے کی طاقت اور ہمت نہیں رہی۔
جب کہ ہمارے Constitution پر ہماری Judiciary پر ہماری democracy پر حملہ ہورہا ہے۔ ایسی سائیکولوجی پیدا کردی گئی ہے کہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں ایک Fear Psychosis کی فضا Develop کی جارہی ہے۔ اس میں اقلیتی اور اکثریتی دونوں طبقے ڈر اور خوف کا شکار بن رہے ہیں۔ اس ڈر اور خوف سے لوگوں کو باہر نکالنا چاہیے۔ عام آدمی کا جو حق ہے ، اس کے لیے لڑائی لڑی جائے ورنہ آنے والا وقت ایسا ہوگا کہ دیش اس قابل نہیں ہوگا کہ اس میں ہندو رہے یا مسلمان۔‘‘
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یہ وقت آنے والے دنوں میں دونوں کمیونٹی کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔ ڈر اور خوف کا ماحول جو پیدا کیا جارہا ہے، اس میں ہندو کو یہ ڈر ہے کہ مسلمان ہمارے لیے خطرہ ہے اور مسلمان کو تو اس وقت ڈر ہے ہی جو ان کے ساتھ ہورہا ہے اور ہونے والا ہے۔
گائے کے نام پر، لو جہاد کے نام پر، حجاب کے نام پر، حرام و حلال گوشت کی خرید و فروخت کی پابندی کے نام پر کوئی کیا کھائے؟ کب کھائے؟ کیا پہنے اور کیسے رہے؟ ڈر اور خوف پیدا کرنے کے لیے، حجاب سے دور کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے کا استعمال کیا جائے اور ’’کوئی دھرم گرو گیروا لباس پہن کر اپنے آپ کو منی بتاکر یہ کہے کہ مسلمان لڑکیوں کا ریپ کیا جائے گا اور اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھے گا۔ اگر اس طرح کا ماحول اس ملک میں بنے گا تو اس کے لیے ہم مکمل طور پر سرکار کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ ہم اس دیش کے دستور کومضبوط کریں گے اور نفرت کے ماحول کو ختم کریں گے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس وقت جو ہو رہا ہے، اسے کون کرم کانڈ کہے گا؟ جن کے گھر جلیں گے، ٹوٹیں گے، مسجدیں جلیں گی، میناروں پر چڑھ کر بھگوا جھنڈے لہرائے جائیں گے، تو پھر یہ کہا جائے کہ پتھر کہاں سے آئے؟ ہم اس نفرت کے ماحول کو ختم کریں گے۔‘‘
( سوشل ایکٹیوسٹ میمونہ ملا)
یہیں پر سماجی کارکن کویتا کریشنن(Kavita Krishnan) کا یہ کہنا ہے کہ ’’کوئی بلاتکار کی دھمکی دے رہا ہے، کوئی حجاب نہ پہننے دینے کی دھمکی دے رہا ہے، کوئی نان ویج نہ کھانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ کیا یہ ہندوتیوہار مسلمانوں کو گالی دینے کے لیے اور ڈرانے دھمکانے کا تیوہار بن کر رہ گیا ہے ؟ جنگل میں آگ جب لگتی ہے تو آم کا پیڑ بھی جلتا ہے اور جامن کا بھی۔‘‘
اب ہمیں اپنے ملک کے دستور(Constitution) کو بچانا ہوگا۔ ہم کو اٹھنا ہوگا اور عہد کرنا ہوگا کہ جس طرح سے حکومت چپ ہے، عدلیہ چپ ہے ،تو ہم کو یہ لگتا ہے کہ ہمیں جنتا کو جگانا ہوگا۔ لوگ ڈر سے اندر ہوگئے ہیں۔

کووڈ نے انہیں اور بھی اندر کردیا ہے۔ ہم انہیں باہر لائیں گے کہ وہ اس نفرت کے خلاف بولیں۔
اس وقت ہندو خطرہ میں نہیں، بلکہ اس ملک کا لوک تنتر خطرہ میں ہے۔ روزی روٹی خطرہ میں ہے۔ مہنگائی مسئلہ ہے۔ اس خطرہ کے خلاف جو ملک کی جمہوریت اور سالمیت کو لاحق ہے، ہمیں عوام الناس کو جگانا ہوگا۔ اپنے حق کے لیے لڑنے کی ہمت پیدا کرنی ہوگی۔‘‘
The wireکی مشہور صحافی عارفہ خانم شیروانی سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر تاریخ نگار رام چندر گوہا کہتے ہیں کہ:’’پہلے بھی تشدد کے واقعات ہوئے تھے، لیکن پہلے اور آج کے واقعات میں فرق یہ ہے کہ ایک ساتھ بہت سے اسٹیٹ میں یہ وارداتیں ہوئیں اور ہورہی ہیں اور پہلی بار یہ دیکھا گیا کہ حکومت ان کا ساتھ دے رہی ہے اور مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ سرکار قانون کو بالائے طاق رکھ کر کام کررہی ہے۔ پلاننگ کے تحت تہوار کے موقع پر جلوس کا نکالا جانا اور بھیڑ کا مساجد اور ممبروں پر حملہ کرنا لوگوں کے گھروں کو بلڈوزر سے گرانا بلا کسی قانون کو لاگو کیے۔
وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ہم جیسے چاہیں گے تم کو ویسے ہی رہنا ہوگا۔ کورٹ کی کاروائی میں سرد مہری اور عدالت عظمیٰ کی خاموشی ،ہندوستان کی تاریخ جب کبھی لکھی جائے گی تو اس میں عدلیہ کے بارے میں بھی یہ ضرور لکھا جائے گا کہ انہوں نے اپنے فرض کوانجام نہیں دیا۔‘‘
ہم دیکھ رہے ہیں کہ 1984,1992 اور 2002 میں جو ہوا اب حالات اس سے بالکل الگ ہیں۔ یہ تمام فسادات اسٹیٹ تک ہی محدود تھے۔ لیکن اب تو یکے بعد دیگرے بہت سے اضلاع اور ریاستوں کو ایک ساتھ لپیٹ میں لیتے یہ واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مجرموں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور ستم تو یہ ہے کہ یہ سارے کام وہ اس نام پر کررہے ہیں کہ ہندو خطرہ میں ہیں۔ مسلمانوں سے اور اسلام سے انہیں خطرہ ہے۔ وہ اذان پر پابندی صرف آواز پر روک لگانے یا ساؤنڈ پولیوشن کے لیے نہیں کررہے، بلکہ انہیں اذان کے بول اس کے الفاظ اور اس کے معنی سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ بھلا سوچیےیہ کس طرح کا فوبیا اور ڈر و خوف ہے جو پر امن الفاظ اور پر سکون فضا پیدا کرنے والی چیزوں سے خوفزدہ کررہا ہے۔ اس ڈر اورفوبیا کاجوسائیکولوجیکل اثر ڈالا جارہا ہے یہ آنے والی نسلوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔ ملک کی ایکتا اور سالمیت کے لیے سنگین غلطی ہوگی۔ آنے والی نسلوں کو، ہمارے نوجوانوں کو خصوصاً ہماری بیٹیوں کو اس ڈر اور خوف سے باہر لانے کے لیے ایک سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے اور وہ سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ مایوسی اور ناامیدی کی فضا کو پروان نہ چڑھنے دیا جائے۔ ہر حال میں پر امید اور حوصلہ بحال رکھتے ہوئے ملک کی فضا کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ امید کی کرن ہمیں حالات کو بدلنے میں کامیاب کرے گی اور آنے والا دور ایک بہتر دور ہوگا۔ بقول شاعرانقلاب شبنم سبحانی؎

انجام پہ شاکر ہے راضی بہ مقدر ہے
اک ڈوبتی کشتی میں اک مرد قلندر ہے

آزادی کے بعد سے ہم شاید سب سے
بدترین دور میں جی رہے ہیں۔ خصوصاً یہ اپریل کا مہینہ ،2022 کا یہ سال ہمارے لیے ایک بدنما داغ کی طرح ہے۔ اس میں نفرت کی جو ہوا چل رہی ہے ،یہ ڈر ہے کہ وہ سب کچھ جلاکر خاک نہ کردے اور جب سب کچھ نفرت کی آگ میں جل کر ختم ہوجائے گا تو پھر کچھ کہنے کے لیے باقی کیا بچے گا؟

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. Sabiha kalim

    Bohat hi zabardast article h jo aaj k halaat ko zahir karraha ho sabhi insan ko jhinjhor dene wala h. Allah isse logo me asar paida kare Aameen

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢