بین الاقوامی اسلامو فوبیا مخالف دن

نیوزی لینڈ کے شہر Christchurch میں ایک مسلح شخص کے ذریعے مسجد میں 51 افراد کے قتل کے ٹھیک 3 سال بعد اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن منانے کی قرارداد منظور کی ہے۔
پاکستان کے نمائندے نے اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کو مستحکم کرنے کی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا Racism کی ایک نئی شکل ہے، جس میں امتیازی سفری پابندیاں، نفرت انگیز تقاریر اور لڑکیوں اور خواتین کو ان کے لباس کی وجہ سے نشانہ بنانا، اس کے علاوہ دیگر چیزیں شامل ہیں۔ Resolution کے متن نے ایک عالمی مکالمے کی تشکیل کے لیے وسیع بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا جو انسانی حقوق کے احترام، مذہب اور عقائد کے تنوع اور امن کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
اس Resolution پر اعتراض صرف تین اطراف سے آیا ہے: فرانس، انڈیا اور یورپی یونین کے نمائندے، جس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔بھارت میں مسلم مخالف پالیسیوں کا ایک طویل ریکارڈ ہے، خاص طور پر دائیں بازو کی Bjp government کے دور میں، جہاں ماہرین Genocide کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔
فرانس کے نمائندے نے کہا کہ بین الاقوامی قانون میں اسلاموفوبیا کی کوئی متفقہ تعریف نہیں ہے۔ فرانس تمام مذاہب اور عقائد کے تحفظ کی حمایت کرتا ہےاور زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی دن کا قیام ہر قسم کے امتیازی سلوک کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو کہ بنیادی طور پر 50 سے زیادہ مسلم اکثریتی ممالک کی نمائندگی کرتی ہے، جس نے 1981 کی قرارداد کو یاد کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’’ہر قسم کی عدم برداشت اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو۔‘‘اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دینے کے لیے ایک قرارداد تجویز کی گئی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 193 رکن ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اتفاق رائے سے قرارداد کو منظوری دی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کےلیے اس دن کو سالانہ یاد دہانی کے طور پر منایا جائے گا۔
اسلامو فوبیا کی اصطلاح پہلی بار 20ویں صدی کے آغاز میں متعدد مسلم ممالک کے ذریعے French colonisation کے دوران وضع کی گئی۔بعض یورپیوں اور عیسائیوں کے نزدیک مسلمان فطری اور باطنی طور پر دشمن ہیں۔
اسلامو فوبیا پوری دنیا میں ایک Hot topic بنا ہوا ہے اور اقلیتی برادریاں اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں پہلے سے کہیں زیادہ تعصب کو محسوس کر رہی ہیں اور یہ مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے۔ جس کے پیچیدہ اثرات مسلمانوں کی زندگیوں پر تیزی سے مرتب ہو رہے ہیں۔
اسلام فوبیا ایک حقیقت ہے۔نفرت انگیز تقاریر،امتیازی سلوک اور مسلمانوں کے خلاف تشدد دنیا کے کئی حصوں میں پھیل رہا ہے۔نتیجتاً انسانی حقوق کے معیارات پر بھی اس کے مضمرات واضح ہیں۔اسلامو فوبیا کی تعریف مسلمانوں کی تمام چیزوں کا بلاجواز خوف کے طور پر کی جا سکتی ہے، جو پہلے سے طے شدہ تصورات پر مبنی ہے، جو اسے پر تشدد مذہب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔جب کہ بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ مسلمانوں کا نسل پرستی (Racism)اور جدید دور کی دہشت گردی(Terrorism) کے ساتھ غیر مربوط تعلق ہے۔
اسلامو فوبیا، Terrorism کا سبب ہے یا نتیجہ؟ اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہے۔لیکن ایک چیز یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ اسلامو فوبیا بڑے پیمانے پر پھیل گیا ہے۔بہت سے مغربی مفکرین کا کہنا ہے کہ اسلام مخالف جذبات ایک صدی سے زیادہ پرانے ہیں۔
بحرحال اقوام متحدہ کا اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن درست سمت میں ایک قدم ہے۔

اسلامو فوبیا کی اصطلاح پہلی بار 20ویں صدی کے آغاز میں متعدد مسلم ممالک کے ذریعے French colonisation کے دوران وضع کی گئی۔بعض یورپیوں اور عیسائیوں کے نزدیک مسلمان فطری اور باطنی طور پر دشمن ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢