نگاہیں منتظر ہیں دل تمہیں آواز دیتا ہے !

۱۵؍ اپرل ۲۰۲۲ کی صبح صیہونی فوج اپنے دجالی مذہب کی رسومات کے لیے اقصٰی کے صحن میں داخل ہوتی ہے اور پھر جارحیت کے فن پارے پیش کرتی ہے۔
واٹس ایپ پر آئی ویڈیوز دیکھ کر دل آبدیدہ ہو گیا، کیوں کہ سر زمین فلسطین پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا اور انہیں اقصٰی کے صحن میں نماز ادا کرنے اور عبادت کرنے سے روک دیا۔ یہ وہی مسجد اقصٰی ہے جس کے آنسو دو ہزار سالوں سے بھی زیادہ عرصہ سےبہہ رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ ان کے اشکوں سے جو سیلِ رواں طوفان بن کے بہنا چاہیے، وہ سرد ہو گیا ہے۔
کئی برسوں سےمسجد اقصٰی کسی ایّوبی کی منتظر ہے ،مگر ہماری قوم کی ماؤں نے قبلہ ٔاول کی محبت بچوں کے سینوں میں پیدا ہی نہیں کی کہ وہ اپنے قبلۂ اول کے لیے صف بستہ ہوں ۔ مسجد اقصی کے اوپر وقتی طور پر آنسو بہانے کا وقت ہوگیا ہے۔ چند دن ہم سب سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ بنتے ہیں اور پھر سب بھول جاتے ہیںکہ فلسطین ستر سالوں سے یہود کے قبضے میں ہے۔
موسمی انقلاب، موسمی جہاد اورموسمی مسلمانوں کو دیکھ کر فکر ہوتی ہے کہ آخر مسجد اقصی کو ستر سالوں سے آزاد کیوں نہیں کیا جاسکا؟ کچھ تو ذہنی توانائی خرچ کرتے، کچھ تو حل تجویز کرتے، کچھ تو اس حل پر کام کرتے۔ ہم ذہنی غلام اور فکری مفلوج قوم بن گئے ہیں۔ ہمیں تو قوموں کو بدلنا تھا، لیکن نہیں، ہمیں تو دو چار دن کے لیے واٹس ایپ کی ڈی پی بدلنا ہے اور کچھ Aesthetic posting کرنا ہے۔ بظاہر اسرائیلی پسپائی اورنہتے فلسطینیوں کی فتح پر اچھل کود کرتے ہیں اور پھر سب اسرائیلی جارجیت اور قبضے پر تحریریں مقابلہ آرائی کرتے ہیں اور پھر کچھ خاموش اور مطمئن ہوجاتے ہیں۔
اگر مجھے اور آپ کو واقعی مسجد اقصی کی فکر ہے، جو کہ ہونی بھی چاہیے، تو ہمارا ردعمل صرف جذباتی اور وقتی نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیسے خلافت کی غیر موجودگی میں مسلمان اپنی ڈھال سے محروم ہیں، اپنے دفاع سے محروم ہیں، اپنے قبلۂ اول کہ حفاظت سے محروم ہیں، حتی کہ اپنے ہی ملک میں مجرموں کی سی زندگی بسر کر رہےہیں۔ہمیں ان وجوہات ا ور اسباب کو جان کر اس کے سدّ باب کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے وقتی اور جزوی اعمال کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا لانگ ٹرم ہدف بنانا چاہیے۔ تاکہ ہم اپنی جان و مال کی قربانی قبلۂ اول کی نذر کر دیں ۔ہم ہندوستانی مسلمان اپنے ملک میں ہی ہراساں ہیں، لیکن قبلۂ اول کے لیے ہمیں آوازیں بلندکرنی ہی ہے۔دنیا کے ہر ملک سے’’اسرائیل گو‘‘ کی صدائیں آنی چاہییں اور حریت کا جزبہ بیدار ہونا چاہیے ۔ملکی مسائل کو قومی مسائل سے جدا ہو کر اس تعلق سے ہی فکری انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اور نظریاتی و فکری انقلاب ہو تو قومیں فاتح ہوا کرتی ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹ کے دیکھیں کہ اسلاف کیا تھے؟ آج نوجوان میں اس سلسلے میں کوئی توجہ نہیں ہے، یہ نہایت افسوس کا مقام ہے۔
یہ وہی فلسطین ہے، جہاں کی زمین کو اللہ نے بابرکت بنایا اور انبیاء کرام کی دعوت کا مرکز بھی۔یہی وہ مبارک سرزمین ہے جہاں داؤد علیہ السلام کو بادشاہت اور نبوت کا تاج پہنایا گیا۔ ان کے بیٹے کو بھی اسی سرزمین پر مبعوث فرمایا۔ حضرت عیسیؑ کی جائے پیدائش کی جگہ یہی پاک سرزمین ہے۔ علمائے کرام نے اسی سرزمین سے دعوت دین کی خاطر تبلیغی سلسلے کو آگے بڑھایا ۔
یہودی، حضرت موسیؑکے زمانے سے فلسطین پر آباد ہورہے ہیں ،جس کا نقطۂ عروج حضرت سلیمان کا دور 925 قبل مسیح تھا۔ پھر یہودیوں کے ملک کی دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ سلطنت یہودیہ کو شاہ بخت النصر نے 599میں مسخر کرلیا اور ہیکلِ سلیمانی کو پیوندخاک کر دیا۔ اس کے بعد شاہ فارس خورس نے بابل فتح کرکے پھر سے یہودیوں کو آباد کرایا۔331 قبل مسیح سے سکندر اعظم نے فلسطین پر قبضہ کیا ۔بہت سارے مراحل سے گزر کر بالآخر 1897 میں ’’صہیونی تحریک ‘‘معرضِ وجود میں آئی، جس کا مقصد ہیکل سلیمانی کی تعمیر تھی۔ یہودیوںنے وہاں زمین خریدی اور آباد ہونا شروع ہوگئے۔ 1901 میں ہر ٹزل نے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید کو لالچ دینا چاہا کہ اگر زمین فلسطین پر یہودی مملکت کے قیام کی اجازت دیں تو یہودی ترکی کے تمام کے تمام قرض ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر سلطان نےحقارت سے پیشکش ٹھکرا دی اور کہا:
’’اس وطن کی زمین، جسے ہمارے آباؤاجداد نے خون دے کر حاصل کیا تھا، چنددرہم کے بدلے ہم اسے نہیں بیچیں گےاور ایک بالشت برابر زمین بھی اس وقت تک نہیں دیں گے، جب تک اس پر ہمارا خون نہ ملے۔‘‘
اس کے بعد یہودیوں نے سب سے پہلے 1960 میں ترکی کے ٹکڑے کیے اور یہی یہودیوں کی کامیابی کی منزل تھی۔ انہوں نے فلسطینیوں کو ستانا شروع کیا، ان کا بےدریغ خون بہا ناشروع کیا۔ حضرت عمرؓ کے بعد عثمانیوں کے زیر نگرانی 450 سال امن سکون سے گزرے۔ مگر یہ حقیقت باطل کے ایوانوں میں خوف و ہراس پھیلا رہی تھی۔ لہٰذا انہوں نے خلافت کا خاتمہ کرکے سازشوں کا بازار گرم کیا۔ حق و باطل کے معرکے میں جہاں اللہ کے سپاہی میدان کارزار میں فاتح ہوا کرتے تھے، وہ انہوں نے دیکھا کہ دشمن کی صف اول میں ان کے اپنے ہی مشکور و ممنون لوگ احسان فراموش بن کر کھڑے ہوتے اور مسلمان میدانوں کی جنگ اپنوں کی غداری سے ایوانوں میں ہار گئے اور فاتح فلسطین ایوبی کی محنت اور شہداء کے خون کو شرمسار کیا گیا۔ لہٰذا1967 میںعرب اسرائیل جنگ کے بعد بیت المقدس پر مکمل یہودی قابض تھے اور مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
یاسرعرفات کی پراسرار موت کے بعد فلسطین کی تشخیص کو مکمل ختم کیا گیا اور بالآخر درہم و دینار اور سازباز کے ذریعے فلسطین کی تباہی و بربادی کا پروانہ حاصل کیا۔ بیت المقدس آج تک خون کے آنسو رو رہی ہے۔ ماضی میں بھی اس کا لہو بہہ رہا تھا اور آج بھی اس کا لہو بہہ رہا ہے۔ یہ خون کسی کا نہیں، بلکہ ایوبی و عمر کا خون ہے۔ یہ داستان ماضی کی ایک زندہ کتاب ہے اور حال کا دردناک فسانہ۔ فلسطین کا لہو کبھی بدر ہے، تو کبھی احد ۔ یہ مسلمان کے ہر ایک فرد کا خون ہے۔ آج فلسطین پکار رہی ہے کہ ہے کوئی عمرؓجو اسے یہودیوں سے چھڑائیں؟ ہے کوئی اللہ کا جاںباز سپاہی، جو اللہ کی اس زمین کو باطل کے شکنجے سے آزاد کروائے؟ہے کوئی اللہ کا شیر جو سسکتی زخمی تڑپتی ہوئی اقصی کی حرّیت کے لیے حق کا علمبردار بن کر کفر کے مقابلے میں صف آراء ہو جائے ؟
ہم بس تقریر وں اور تحریروں میں کھو گئے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کوئی عمر آئے، کوئی صلاح الدین آئے،کوئی خالد آئے، کوئی طارق آئے اور کوئی موسی بن نصیر آئے۔ مگر ہم کیوں نہیں اپنے اولادوں کی تربیت ایسی کرتے کہ ہم اپنے لخت جگر بیٹوں، اپنے نور نظر بھائی اپنے نورالعین شوہروں کو قبلۂ اول کی حفاظت کے لیے غازی بنا کر بھیجیں۔ اللہ اس قوم کی مدد ہر گز نہیں کرتا جو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردہ ہو۔ بیت المقدس کی نگاہیں منتظر ہیں اور دل پکا رہا ہے کہ اپنے رب سے جنت کا سودا کرنے آئیں، لیکن مغربی تہذیب اور ٹیکنالوجی کی چیزوں نے ہماری ضمیروں کو گہری اور میٹھی نیند میں سلا دیا ہے۔کب تک ہم ضمیر کا سودا کرتے ہوئے اپنے آپ کو بے خبر اور بے حس بناتے رہیں گے ۔ رمضان کے ختم ہونے میں بس کچھ ہی دن ہیں۔ تو آئیے ہم سب مل کر امت مسلمہ کی کامیا بی اور فلسطین کی بازیابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔

ہم بس تقریر وں اور تحریروں میں کھو گئے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کوئی عمر آئے، کوئی صلاح الدین آئے،کوئی خالد آئے، کوئی طارق آئے اور کوئی موسی بن نصیر آئے۔ مگر ہم کیوں نہیں اپنے اولادوں کی تربیت ایسی کرتے کہ ہم اپنے لخت جگر بیٹوں، اپنے نور نظر بھائی اپنے نورالعین شوہروں کو قبلۂ اول کی حفاظت کے لیے غازی بنا کر بھیجیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢