ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے! (بچوں کی تربیت قرآن و رمضان کے سائے میں)

’’عبدالہادی اٹھ جاؤ…..بیٹا دیر ہورہی ہے، اٹھ جاؤ عبدالہادی۔‘‘
عبدالہادی کے کانوں کو امی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ لیکن اس کی آنکھیں کھل ہی نہیں پارہی تھیں۔
تھوڑی دیر بعد اسے کسی بھی طرح کی آواز آنا بند ہوگئی۔ کیوں کہ وہ دوبارہ گہری نیند کی وادی میں چلاگیا تھا۔ لیکن وہ زیادہ دیر تک نہیں سوپایا۔ کچھ ہی لحظوں میں اس کی آنکھ کھل گئی اور نظریں سیدھی وال کلاک کی جانب اٹھیں۔
’’او مائی گاڈ! آٹھ بج گئے۔ امی نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟‘‘ وہ تیزی سے بیڈ سے اتر کر کمرے سے باہر نکل آیا۔ امی کو ڈھونڈتا ہوا وہ ہال نما کمرے میں آگیا۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اس کے قدم تھم گئے۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔ اندر امی، تائی امی اور تایا ابو کے ساتھ عبداللہ بھائی بیٹھے تھے۔ خوشی کی رمق اس کے چہرے پر دوڑ گئی۔
’’ عبداللہ بھائی!‘‘ اس نے حیرانی سے انھیں دیکھا۔
’’ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا؟‘‘ اس نے اپنی آنکھیں مسلیں اور اگلے ہی لمحے دوڑتا ہوا عبداللہ بھائی کے پاس گیا۔
’’السلام علیکم عبداللہ بھائی۔‘‘وہ عبداللہ بھائی سے لپٹ گیا۔
’’وعلیکم السلام! کیسے ہو ٹائیگر؟‘‘ عبداللہ نے اسے پیار کیا اور اپنے ساتھ بٹھایا۔
’’آپ کب اور کیسے آگئے؟ چھٹیاں تو شروع نہیں ہوئیں ابھی۔‘‘
’’ہوں۔ چھٹیاں شروع نہیں ہوئیں، لیکن کل رَمَضَان شروع ہورہا ہے۔‘‘ عبداللہ نے اس کے گرد بازو حمائل کیا۔
’’اچھا۔‘‘اس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
’’کیوں؟ آج تمھاری اسکول کی چھٹی ہے؟‘‘
’’نہیں چھٹی نہیں ہے۔ امی نے اٹھایا ہی نہیں۔‘‘
’’عبدالہادی میں نے تمھیں اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ تم اٹھے ہی نہیں۔‘‘
’’نہیں اٹھایا آپ نے۔ عبداللہ بھائی آگئے تو آپ مجھے اٹھانا بھول گئیں۔‘‘ وہ منھ پھلائے بیٹھ گیا۔
’’عبدالہادی میں بھی تمھیں جگانے آئی تھی۔‘‘ تائی امی نے کہا۔
’’اچھا چلو اٹھو شاباش۔ ابھی تیار ہوجاؤ اور اسکول جاؤ۔‘‘
’’ابو آج میں اسکول سے چھٹی کروں گا۔ ویسے بھی ہماری ٹیچر لیٹ اسکول آنے پر ڈانٹتے ہیں۔‘‘
’’عبدالہادی! چھٹی نہیں کرنی۔ چلو اسکول جاؤ۔‘‘ امی نے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی۔
’’آج تو عبداللہ بھائی بھی آئے ہیں۔ آج چھٹی کرنے دیں ناں۔ پلیز….. پلیز…..‘‘ اس کا اتنا معصومانہ انداز دیکھ کر انھیں اس کی بات ماننا ہی پڑی۔
’’اوکے صرف آج۔ لیکن گھر پر بھی تم پڑھائی کرو گے۔‘‘ اور وہ خوشی سے اچھل پڑا۔
عبداللہ کافی کا بھاپ اڑاتا مگ لیے صحن میں آگیا۔ چبوترے پر عبدالہادی اپنی چیزیں پھیلائے بیٹھا تھا۔ عبداللہ بھی وہیں بیٹھ گیا۔ ’’ڈرائنگ کررہے ہو؟‘‘
’’ڈرائنگ آتی ہے تمھیں؟‘‘
’’میں کلاس ون میں ہوں اور اب ٹو میں جانے والا ہوں۔‘‘
’’اوہ! کیا بنا رہے ہو؟‘‘ عبداللہ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے اس کی ڈرائنگ کو بغور دیکھتے پوچھا۔
’’Spider Manواؤ!اچھی ڈرائنگ ہے تمھاری۔‘‘ عبداللہ نے اس کی ڈرائنگ کو سراہا۔
جواباً اس کے’’تھینک یو‘‘ کہنے پر عبداللہ مسکرا دیا۔
’’چاچی بتارہی تھیں تم دیر رات تک کارٹون دیکھتے ہو اور گیمز کھیلتے رہتے ہو؟‘‘
’’امی نے کہا؟ امی تو میری شکایتیں ہی کرتی رہتی ہیں۔ پہلے تو صرف ابو اور تایا ابو سے کرتی تھیں،لیکن اب تو آپ بھی آگئے ہیں۔‘
’’تو تم گیمز نہیں کھیلتے؟‘‘
’’اَ۔۔۔۔۔کھیلتا ہوں۔ لیکن بہت تھوڑی دیر۔‘‘ اس نے ہکلاتے ہوئے جھوٹ کا سہارا لیا۔ لیکن عبداللہ اس کا جھوٹ سمجھ گیا۔
’’ہوں۔ تھوڑی دیر کھیلتے ہو یہ اچھی بات ہے۔ کوئی بھی گیم تھوڑی ہی دیر کھیلنا چاہیے۔ لیکن اب تمھیں گیم کھیلنا چھوڑ دینا چاہیے۔ اب رَمَضَان شروع ہورہا ہے اور اس رَمَضَان تمھیں یہ بری عادت چھوڑ دینی ہے۔‘‘ عبداللہ نے سنجیدگی سے اس سے کہا۔ عبدالہادی ڈرائنگ سے ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگا۔
’’امی اور تائی امی بھی رَمَضَان کی تیاری کی باتیں کرتی ہیں۔ اتنے پہلے سے رَمَضَان کی کیا تیاری کرنی ہے؟‘‘ اس نے کلر پنسل لبوں میں دبائے استفسار کیا۔
’’اچھا تو تم نے کب سے شروع کی رَمَضَان کی تیاری؟‘‘
’’میں کرہی رہا ہوں۔‘‘
’’کیا کررہے ہو؟‘‘
’’عید کے لیے کپڑے لینے ہیں، چپل لینی ہے، گاگل لینا ہے…..‘‘ وہ انگلیوں پر گن کر بتا رہا تھا۔ عبداللہ ہنس پڑا۔
’’یہ تو ساری عید کی تیاریاں ہیں۔‘‘
’’میں رَمَضَان کی کیا تیاری کروں؟ گھر کی صفائی ستھرائی تو امی اور تائی امی نے کر لی ہے۔‘‘
’’ہممم ۔ عبدالہادی تم نے آج اسکول سے چھٹی کرلی ہے، کیوں؟‘‘
’’آپ کو پتہ تو ہے میں دیر سے اٹھا تھا۔‘‘
’’دیر سے کیوں اٹھے تھے؟‘‘
’’رات میں دیر سے سویا تھا ،اس لیے۔‘‘
’’اور رات میں دیر سے کیوں سوئے تھے؟‘‘عبداللہ کے اس سوال پر عبدالہادی کی گردن ہلکی سی جھک گئی۔
’’میں…..گیم کھیل رہا تھا۔‘‘ اس نے اٹکتے اٹکتے جواب دیا۔’’سوری! میں نے آپ سے جھوٹ بولا۔‘ عبدالہادی نے سر اٹھایا۔
’’اگر آج اسکول میں تمھارے ٹیچر نے کچھ بہت امپورٹنٹ پڑھایا ہوگا تو؟ آج کی کلاس تو مِس ہوگئی تمھاری۔‘‘
’’میں کسی دوست سے لے لوں گا آج کا۔‘‘
’’تو تم روزانہ اپنے دوستوں سے ہی کیوں نہیں لے لیتے۔ اسکول جانے کی کیا ضرورت؟‘‘
’’میرے دوست ٹیچر تھوڑی ہیں۔ ٹیچرز اچھی طرح سمجھاتے ہیں۔ اس لیے میں اسکول جاتا ہوں۔‘‘
’’پھر آج کا کلاس ورک تمھارا دوست کیسے تمھیں سمجھا پائےگا؟‘‘
’’اوہ شِٹ۔آج کا تو سچ میں مِس ہوگیا۔‘‘اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
’’چاچی بتا رہی تھیں تم اکثر دیر سے اٹھنے پر چھٹیاں کرتے ہو۔ دیکھا ناں ایک ہی دن کا کتنا Loss ہوگیا تمھارا۔ یہی نہیں عبدالہادی! تمھاری آنکھیں دیکھو، اتنی بڑی بڑی پیاری آنکھیں کیسے باریک اور سرخ ہورہی ہیں۔‘‘
عبدالہادی نے بے اختیار اپنی آنکھوں کو چھوا۔
’’یہی نہیں۔ تمھاری نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے تمھاری صحت بھی ڈاؤن ہوتی جارہی ہے۔ اگلی دفعہ میں جب چھٹیوں میں گھر آیا تھا، تم کتنے ہیلدی، کتنے موٹے تھے۔‘‘عبداللہ نے کافی کا خالی مگ اپنے برابر میں چبوترے پر رکھ دیا۔
’’عبدالہادی وقت بہت قیمتی چیز ہے۔‘‘
’’Diamond سے بھی زیادہ؟‘‘
’’ڈائمنڈ سے بھی زیادہ۔‘‘ اس کے معصومانہ انداز پر مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’اور اپنی اتنی قیمتی چیز کو تم فضول گیمز کھیلنے میں ضائع کررہے ہو۔ جو گیمز تم کھیلتے ہو….. کیا نام ہے اس کا؟‘‘
’’پب جی، فری فائر۔ ‘‘
فری فائر!پتہ ہے تمھیں اس گیم سے تمھاری صحت پر کتنا اثر ہوتاہے۔ دماغ کی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اور پتہ ہےفری فائر (Free Fire)گیم کے ذریعے ہمارے دین اسلام کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے۔ اس میں ہمارے انبیاء علیہ السلام کی توہین کی گئی ہے۔ ‘‘وہ ٹھہر ٹھہر کر کہہ رہا تھا۔ عبدالہادی بغور اسے سن رہا تھا۔
’’اچھا مجھے گیم کےCharacters (کیریکٹرز)کے نام تو بتاؤ۔‘‘
عبدالہادی نے فوراً نام گِنوانے شروع کیے۔
“Andrew, Caroline, Adam, Joseph, Hayato, Laura, Eve”
’’بس بس۔‘‘عبداللہ کو ہاتھ اٹھا کر اسے روکنا پڑا۔
’’تمھیں معلوم ہے Adam کسے کہتے ہیں؟‘‘
’’حضرت آدم علیہ السلام کو ایڈم کہتے ہیں۔ اور ایو حضرت حوّا علیہ السلام کو کہتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو جوزف کہتے ہیں۔ اب یہ بتاؤ اس گیم میں سب سے زیادہ پاؤرز کس کریکٹرز میں ہیں؟‘‘
’’ڈی جے آلوک (DJ Alok) کے۔‘‘ اس نے تیزی سے جواب دیا۔
’’بھئی تمھیں تو بہت کچھ معلوم ہے! اور سب سے کم Skills کس کے پاس ہیں؟‘‘
’’سب سے کم ایبلٹی (Ability) ایڈم(Adam) اور ایو(Eve) کی ہے۔‘‘
’’عبدالہادی کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ زمین پر پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، حضرت حوّا علیہ السلام ان کی بیوی ہے اور ان کے پاس کوئی اسکل(Skill)، کوئی پاؤر(Power)، کوئی ایبلٹی(Ability) نہ ہو؟‘‘
’’نہیں ہوسکتا۔‘‘ عبدالہادی نے نفی میں سر ہلایا۔
’’جو Free Fire کھیلتے ہوں گے، ان سب کے ذہنوں میں یہ بات پیوست ہو گئی ہوگی کہ ایڈم جنھیں مسلمان نبی کہتے ہیں، جنھیں اللہ نے خود سکھایا، وہ Powerless, Skill less and Unable ہیں۔ اور جوزف کے کیریکٹر کو پلے بوائے(Play Boy) یعنی عیاش بتایا گیا ہے۔ جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام تو بہت ہی نیک اور پارسا تھے۔ تو کیا یہ سب صحیح ہے؟‘‘
’’نہیں عبداللہ بھائی۔ یہ غلط ہے۔‘‘
’’پھر ایسے گیم سے ہمارا عبدالہادی اور اس جیسے کئی بچے کیوں کھیل رہے ہیں؟‘‘
’’میں آئندہ یہ Free Fire گیم نہیں کھیلوں گا۔‘‘
’’صرف Free Fire ہی نہیں، PUBG بھی اچھا گیم نہیں ہے۔ مجھے یہ بتاؤ، کیا PUBG میں ایک وائٹ(White) پتھر ہے، جس کے سامنے جھکنے سے پاؤرز مل جاتی ہیں؟‘‘
’’ہاں بھائی، بالکل ہے۔ PUBG میں نیا اپ ڈیٹ (Update) آیا تھا،جس میں ایک وائٹ(White) مورتی ہے، اس کی آنکھیں بھی ہیں۔ اگر ہم اس کے سامنے جھک کر ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے تو ہمارے لیے پاورز(Powers) کھل جاتے ہیں۔‘‘
’’ہمیں صرف کس کے سامنے جھکنا ہے عبدالہادی؟‘‘
’’اللہ تعالیٰ کے سامنے۔‘‘
’’ہاں! ہمارا سر صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا چاہیے۔ اس گیم کے ذریعے بت پرستی کی طرف مائل کیا جارہا ہے۔ عبدالہادی، تم نے PUBG کا سیزن 6 کھیلا ہے؟‘‘
’’نہیں۔ میرا تیسرا سیزن چل رہا ہے۔ میرے ایک دوست کے بڑے بھائی کا سیزن 6 چل رہا ۔‘‘
’’اچھا۔ سیزن 6 میں ایک کارڈ بورڈ باکس(Card Board Box) بنا ہوا ہے، جس پر نشانہ لگا کر توڑنا ہوتا ہے اور وہ کارڈ بورڈ باکس کیسا ہے؟ بالکل خانہ کعبہ کی طرح۔‘‘
’’ہاں میں نے دیکھا ہے۔‘‘ عبدالہادی درمیان میں بول پڑا۔
’’ہاں، اللہ کے گھر کو توڑنے پر آمادہ کیا جارہا ہے اور بھی کئی چیزیں ہیں Free Fire اور PUBG میں، جن کے ذریعے تم جیسے معصوموں کے ذہنوں کو غلط سمت لے جایا جارہا ہے…. اور بھی کئی گیمز ہیں، جیسے ریزیڈنٹ ایوِل فور(Resident Evil 4)، کال آف ڈیوٹی – ماڈرن وارفیئر ٹو (Call of Duty – Modern Warfare 2)‘‘
’’لیکن عبداللہ بھائی میں یہ گیمز نہیں کھیلتا۔‘‘
’’نہیں کھیلتے ہو، لیکن تمھیں معلوم ہونا چاہیے۔ کیوں کہ کل اگر تمھارا کوئی دوست ایسے گیمز تمھارے سامنے لے آئے تو تم اسے کھیلنے سے منع کردو۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ عبدالہادی نے سمجھتے ہوئے سر کو خم دیا۔
’’ان گیمز میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں، کہیں باتھ روم میں تو کہیں دیواروں پر اور گیم میں اگلی اسٹیپ(Step) پر جانے کے لیے ان دیواروں کو توڑ کر گرانا ہوتا ہے جن پر قرآنی آیات لکھی ہیں۔ ایسے کئی گیمز ہیں جن میں اسلام کی غلط تصویر پیش کرکے اس دین کی توہین کی گئی ہے اور جن کے ذریعے تم جیسے بچوں کی ذہن سازی غلط طرز پر کی جارہی ہے۔‘‘
’’سوری عبداللہ بھائی! میں PUBG بھی نہیں کھیلوں گا اور Free Fire بھی نہیں کھیلوں گا۔‘‘
’’تم بھی نہیں کھیلوگے اور اپنے دوستوں کو بھی یہ گیم کھیلنے سے روکوگے اور کارٹون بھی نہیں دیکھوگے۔‘‘
’’لیکن میرے دوست میری نہیں سنیں گے۔ وہ مجھے بھی کھیلنے کے لیے فورس کریں گے۔‘‘
’’تو تم انھیں بتاؤ کہ یہ گیمز اچھے نہیں ہیں۔ Detail میں سمجھاؤ انھیں۔‘‘
’’اوکے۔ لیکن آج کے دن کھیلوں؟ کل سے نہیں کھیلوں گا۔ پرامِس(Promise)۔‘‘
’’عبدالہادی تمھیں بھی اس گیم کا Addiction (لت) ہورہا ہے۔‘‘ عبداللہ نے نگاہوں میں خفگی لیے اسے دیکھا۔’’تبدیلی کبھی بھی کل سے نہیں، آج سے شروع کی جاتی ہے۔‘‘
’’رَمَضَان شروع ہوچکا ہے۔ اب تم تیاری کرلو کہ اس رَمَضَان تمھیں اپنی ایک بری عادت ترک کرنی ہے اور ایک اچھی عادت اختیار کرنی ہے۔ اور تمھاری بری عادت گیمز کھیلنا ہے۔ چاہے تھوڑی دیر ہی تم اس قسم کے گیمز کیوں نہ کھیلتے ہو۔ وہ بھی بری عادت میں شمار ہوگا۔‘‘ وہ سانس لینے کے لیے رکا۔’’عبدالہادی رَمَضَان رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ نیکیوں کا مہینہ ہے۔ سب سے بڑھ کر قرآن کا مہینہ ہے۔ کیوں کہ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا۔ تم قرآن کے ساتھ تعلق جوڑو۔ ایک آیت ہی سہی، ترجمے کے ساتھ پڑھو، اسے سمجھو۔ گھر کے بڑوں کے ساتھ بیٹھو، وہ تمھیں قرآن سمجھائیں گے۔ پھر دیکھو تم اپنے آپ کو کتنا Powerful(پاؤر فُل) فیل کروگے۔ DJ Alok سے بھی کہیں زیادہ پاؤرفل۔ اللہ تم سے بہت خوش ہوگا۔ تم موبائل میں کوئی اچھی چیز دیکھ سکتے ہو۔ Islamic Stories(اسلامک اسٹوریز) دیکھ سکتے ہو۔ تمھارے پاس گیمز کا کتنا Knowledge(نالج) ہے۔‘‘ اس نے توصیفی انداز میں اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔’’اگر تم اسی طرح’قرآن‘ کا Knowledge(نالج) لوگے تو تم اپنے دوستوں میں Unique(یونیک) ہوجاؤگے۔ تمھارے کسی دوست کے پاس قرآن کا تمھارے جتنا Knowledge(نالج) نہیں ہوگا۔ ایک مہینہ بعد تم تو سارے دوستوں میں یونیک ہوگے عبدالہادی! اور تمھارے دوست بھی تم سے متاثر ہوکر قرآن کا Knowledge لینا شروع کریں گے۔‘‘ عبداللہ نے پرجوش مسکراہٹ کے ساتھ اس سے کہا۔ عبدالہادی کا چہرہ کھل اٹھا۔
’’Unique؟‘‘ اس نے سوالیہ ابرو اٹھائیں۔
’’ہاں! یونیک۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر میں اس رَمَضَان میں گیمز نہیں کھیلوں گا۔‘‘
’’اوہوں۔‘‘ عبداللہ نے انگلی اٹھا کرنفی میں گردن ہلائی۔
’’صرف رَمَضَان میں نہیں، رَمَضَان کے بعد بھی نہیں کھیلنا ہے۔ نہ کارٹون دیکھنا ہے۔ رَمَضَان میں تمھیں اپنی عادتوں کو بدلنا ہے۔ نیکیوں کے مہینے میں نیک کام کرنے ہیں۔ 30 دن تم اپنی عادت کو ترک کیے رکھو گے تو Automatically (آٹومیٹکلی) تمھاری بری عادتیں ٹوٹ جائیں گی۔ ان شاءاللہ۔‘‘
’’ان شاءاللہ۔‘‘
’’عبداللہ بھائی رمضان میں مجھے تو کوئی روزہ رکھنے ہی نہیں دیتے۔ پھر میں کونسے نیک کام کر سکتا ہوں؟‘‘
’’Good Question۔‘‘ عبداللہ مسکرایا۔
’’تمھیں جو پاکٹ منی(Pocket Money) ملتی ہے، تم اس میں سے کچھ حصّہ غریبوں کو صدقہ کردو۔ اس سے اللہ بھی خوش ہوگا اور تمھارے اندر انفاق کا جذبہ بھی پروان چڑھے گا۔ کسی ایک غریب کو اپنے گھر افطار کرواسکتے ہو، افطاری تو ہم پڑوسیوں کو دیتے ہی ہیں،تم اپنے کسی غریب دوست یا غریب پڑوسی کے گھر ایک دن کا افطار کا سامان مہیا کرواسکتے ہو، ایسی بہت سی چھوٹی چھوٹی نیکیاں تم کرسکتے ہو۔ تھوڑا سوچوگے تو خود سمجھ آجائے گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ عبدالہادی کھل کے مسکرا دیا۔ عبداللہ بھائی جب بھی آتے تھے، اسے ایسی ہی اچھی اچھی باتیں بتاتے تھے۔ وہ ان کی کمپنی میں بہت خوش خوش اور مطمئن رہتا تھا۔
’’ٹھیک ہے تم اپنی پینٹنگ کرو اب۔‘‘
’’اوکے بھائی۔‘‘
’’میں نے جو کہا سب یاد ہے نا؟‘‘
’’ہاں یاد ہے۔‘‘
’’عمل کروگے یا اس کان سے سن لیا تو دوسرے کان سے چھوڑ دوگے؟‘‘
’’نہیں۔ ڈونٹ وری(Don’t Worry) عبداللہ بھائی۔ میں آپ کی تمام باتوں پر عمل کروں گا، ان شاءاللہ۔‘‘
’’ان شاءاللہ۔ اللہ حافظ۔‘‘ عبداللہ اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کافی کا خالی مگ اٹھا کر کمرے کی جانب چل دیا۔
’’یارب! اس قوم کے تمام عبدالہادی اسلام دشمن کوششوں، مغربی سازشوںاور دجالی فتنوں سے محفوظ رہیں۔‘‘ عبداللہ کے دل سے صدا آرہی تھی۔
’’شعوری، پختہ اور تازہ ایمان و مجاہدانہ اوصاف کے ساتھ ان بچوں کی تربیت ہو۔
اِن شاہینوں کو بال و پر دے یارب!‘‘

’’تو تم گیمز نہیں کھیلتے؟‘‘
’’اَ۔۔۔۔۔کھیلتا ہوں۔ لیکن بہت تھوڑی دیر۔‘‘ اس نے ہکلاتے ہوئے جھوٹ کا سہارا لیا۔ لیکن عبداللہ اس کا جھوٹ سمجھ گیا۔
’’ہوں۔ تھوڑی دیر کھیلتے ہو یہ اچھی بات ہے۔ کوئی بھی گیم تھوڑی ہی دیر کھیلنا چاہیے۔ لیکن اب تمھیں گیم کھیلنا چھاوڑ دینا چاہیے۔ اب رَمَضَان شروع ہورہا ہے اور اس رَمَضَان تمھیں یہ بری عادت چھوڑ دینی ہے۔‘‘ عبداللہ نے سنجیدگی سے اس سے کہا۔ عبدالہادی ڈرائنگ سے ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢