وار (رہ نمائی)

زہرہ کے اس کیس اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی شادی کو بارہ سال ہو چکے ہیں ۔شوہر شرابی ہیں اور حالتِ نشہ میں ان پر بہت ظلم و زیادتی کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے زہراء سخت جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہیں۔
یہاں معاملہ صرف یکطرفہ پیش ہوا ہے ۔اگر زہرا کے شوہر حیدر کی طرف سے بھی کچھ بات آتی تب رہنمائی میں سہولت ہوتی ۔پھر بھی اللہ رب العالمین سے زہرا کی خوشگوار زندگی کی امید کے ساتھ کچھ نکات پیش خدمت ہیں :

1۔معاشرہ

اس معاملے میں سماج کو بہتر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ زہرہ اور حیدر کی اس تکلیف دہ زندگی کے لیے کچھ نہ کچھ حد تک معاشرہ بھی ذمہ دار ہے۔ رشتے دار، پڑوسی اور محلے کی مسجد کے ذمہ داران کی یہ ذمہ داری ہے کہ شرابی شخص سے نفرت نہ کریں، بلکہ ہمدردی کریں ۔اس کے مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ شراب کیوں پیتا ہے ؟اس کی اصلاح کے لیے کچھ تدبیر کریں۔ شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔نشے میں آدمی بے قابو ہو جاتا ہے ۔اپنی حرکات و سکنات پر اس کا کنٹرول نہیں رہتا ۔وہ کیا کرتا ہے؟ اسے خود خبر نہیں ہوتی ۔جب نشہ اتر جاتا ہے اور حقائق سامنے نظر آتے ہیں تو شدید پچھتاوا ہوتا ہے ۔

تدبیر کیا ہو سکتی ہے ؟

رشتہ داروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ شراب کی لت سے نجات کے مرکز سے رجوع کرکے کچھ دوائی وغیرہ زہرہ کو فراہم کریں ، تاکہ وہ اپنی شوہر کو کھلا سکے۔
نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ لہٰذا پڑوسیوں کی اور مسجد کے ذمہ داران کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حیدر سے میل جول رکھیں اور دوستانہ انداز میں نماز کے لیے مسجد ساتھ لے جائیں ۔
صالح لوگوں کی صحبت زندگی میں غیر معمولی تبدیلی لاتی ہے ۔بنی اسرائیل کا وہ 99 قتل کے بعد والا واقعہ ہمارے سامنے رہے ۔ میرا یہ احساس ہے کہ ٹی وی سیریلز اور فلمیں، مسلم معاشرے کی معصومیت ختم کرکے مجرمانہ روش پر لانا چاہتی ہیں۔ یہ اور اس طرح کے مسائل کو سنچیدگی سے لینے اور اس کے سد باب کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہاں معاشرے کو اخلاص اور ہمدردی کی سخت ضرورت ہے ۔

2۔ کچھ باتیں زہرا سے

مجھے زہرا کے کیس میں زہرہ کا یہ جملہ بہت پر امید لگا :’’ میں روزانہ ان کا ظلم یہی سوچ کر سہتی رہی کہ آج نہیں تو کل وہ سدھر جائیں گے ۔‘‘
امید کی نفسیات مسائل کے ہجوم میں نئی راہیں دکھلاتی ہیں ۔اگر امید و یقین کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو خود اپنے سائے اور واہمے بھی دہشت طاری کرنے لگتے ہیں ۔اللہ سے اچھی امید رکھنی چاہیے اور اس کے لیے دعائیں بھی کرنی چاہیے ۔دعائیں دلوں کو بدل دیتی ہیں اور تقدیر کو بھی بدل دیتی ہیں ۔ جو کچھ ہم اپنے دائرے امکان میں کر سکتے ہیں ضرور کرنا چاہیے ۔
پیاری زہرہ ! آپ کا مسئلہ سن کر میرا یہ تأثر ہے کہ آپ بہت جذباتی ہیں ۔اپنی اولاد سے محبت اور ان کے مستقبل کی فکر کرتی ہیں جو بالکل فطری ہے ۔اگر ان جذبات کے ساتھ حکمت کو شامل رکھا جائے تو یقیناً بگڑی بات بن جائے ۔
آپ کی شوہر کے ظلم و زیادتی اور نا انصافی کی اصل وجہ آپ کی بیٹی کی پیدائش نہیں بلکہ شراب کی لت ہے ۔ اپنی بیٹی کو اس کا حق دلانے کے لیے آپ کو اپنے شوہر کی اس لت سے نجات دلانا ہوگا ۔آپ کو کچھ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہو گی، مثلا جب آپ کے شوہر نشے کی حالت میں ہوں تو آپ کو چاہیے کہ ان کی ضرورت کی چیزیں سامنے رکھیں اور خود وہاں سے ہٹ جائیں۔کوئی بات نہ کرے ۔جب ان کا نشہ اتر جائے نہایت نرمی اور محبت سے ان سے گفتگو کریں ۔
کوشش کریں کہ اپنے شوہر کے چھوٹے موٹےکام آپ اپنی بیٹی سے کروائیں تاکہ باپ کے دل میں بیٹی کی فطری محبت جاگ اٹھے۔ شوہر کی دوسری شادی پر رنجیدہ نہ ہوں۔ یہ حق اسے اللہ نے دیا ہے۔ ہمیں روکنے کا کوئی اختیار نہیں۔شوہر کی محبت میں شراکت واقعی عورت کے لیے سخت تکلیف دہ بات ہے۔ ایسے میں اپنے آپ کو کچھ تعمیری کاموں میں مصروف کرلیں۔ خود کو وقت دیں، جس میں آپ کو دلچسپی ہو۔ کچھ سیکھنے کے لیے کوئی کلاس جوائن کرلیں۔مثلاً قرآن کلاس، جس سے دینی معلومات میں اضافہ ہو اور دل کا سکون میسر آئے۔
لوگوں سے میل جول بڑھائیے۔آپ کو دوسروں کے مسائل معلوم ہوں گے تو اپنا مسئلہ کم لگے گا۔ان کے مسائل حل کرنے کا سوچیے۔اللہ آپ کے لیے آسانی فرمائے گا۔
سب سے اہم بات اپنی بیٹی سے اپنے ازدواجی زندگی کے مسائل پر گفتگو نہ کریں۔ایسا کرنے سے کہیں وہ اپنے والد سے متنفر نہ ہوجائے۔آگے چل کر کہیں شادی کا ڈر اس پر حاوی نہ ہوجائے۔اس کو تمام مسائل سے دور رکھیں اور صرف تعلیم پر دھیان دینے کو کہیں۔اچھی تعلیم اور آپ کی تربیت اس کے مستقبل کی زندگی کو کامیاب بنائے گی۔
بیاری بہن! آپ نے خلع کی بات کی ہے ۔بے شک اسلام نے یہ عورت کو اختیار دیا ہے ۔لیکن ایک بار ذرا رک کر ٹھنڈے دل سے سوچیں ۔خلع لینے کے بعد کیا آپ دوسری شادی کے لیے تیار ہیں؟ اگر آپ کہیں کہ میں ایسی ہی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزار لوں گی، سنیے یہ حقیقت ہے کہ سماج میں بے شوہر عورت کی کوئی عزت نہیں اور اسلام میں شوہر والی عورت کو محصنہ ( حصار والی) کہا گیا ہے۔
ویسے بچوں کا مستقبل بھی کچھ خاص نہیں ہوتا۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہے۔ آپ استغفار کریں۔ ابنے شوہر سے اپنی غلطی کی معافی مانگیں ۔خوب خدمت سے دل جیتیں ۔ آپ کے شوہر کی شراب کی لت سے نجات ان شا ء اللہ آپ کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی لائے گی۔

ھادیہ ای۔میگزین کا جاری کیا گیا
نیا کالم ’’ کیس اسٹڈی‘‘پیش کیا جارہا ہے۔
اس کیس پر آپ کی رائے کیا ہے؟
ہمیں لکھ بھیجیں سب سے

بہترین رائے

کو میگزین میں شائع کیا جائے گا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢