فلسطین سے لے کر ہندوستان تک اہل اسلام کے خلاف سازش
یوں تو ہر دور میں اسلام کے اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کی جاتی رہی ہیں، اسلام کی آمد کے بعد سے شاید ہی ایسا کوئی زمانہ رہا ہوگا، جب اس مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ظلم و ستم، عصبیت، بھید بھاؤ ،انھیں نیچا دکھانے کے لیے اقدامات اور پریشان کرنے کے لیے باطل طاقتوں کی جانب سے کوششیں نہ ہوئی ہوں۔ ہر دور ایک سے بڑھ کر ایک آزمائش اور مصیبت بھرا رہا ہے۔ مسلمانوں نے ہر دور میں ان سے نمٹا ہے اور اب بھی ہمیں ان سے نمٹنا پڑے گا۔ قران مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
’’کیا ان لوگوں نے یہ گمان رکھا تھا کہ وہ بس اتنا کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لائے، یونہی چھوڑ دیے جائیں گے اور ان کو آزمایا اور پرکھا نہ جائے گا۔‘‘ (العنکبوت۲:)’’اللہ تعالیٰ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟‘‘ (العنکبوت۳:)اسی طرح سورہ العنکبوت، آیت ۱۱ میں فرمایا گیا ہے:’’اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ ایمان والے کون ہیں اور منافق کون‘‘؟۔’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ محض ایمان کا دعویٰ کرکے جنت میں داخل ہو جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی تو اللہ نے جانا ہی نہیں کہ تم میں کون ہیں جنہوں نے حق کے لیے اپنی پوری جدوجہد کر ڈالی اور کون ہیں جو راہِ حق پر ہر حال میں جمنے والے ہیں۔‘‘ (آل عمران۱۴۲:)
ہر دور اور ہر زمانے میں ہر نبی اور اہل حق کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ان کو ابتلاء اور آزمائش کے مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔’’اور ہم نے ان سبھی مدعیان ایمان کو آزمایا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘ (العنکبوت۳:)۔ حقیقی ایمان سے استقامت حاصل ہوتی ہے اور آزمائش میں استقامت کے نتیجے میں ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: ’’جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی بڑی فوجیں جمع ہوتی ہیں، ان سے ڈرو تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘ (آلِ عمران۱۷۳:)
ان دنوں پوری دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، خاص کر مسلمانوں کے ساتھ اس نے ہر حساس دل کو مضطرب اور بے چین کرکے رکھ دیا ہے، ایک طرف فلسطین لہو لہو ہے، ہر طرف بم بارود اور مسجد اقصی کی بے حرمتی کی خبریں آرہی ہیں۔ خود ہمارے ملک عزیز میں مسلمانوں کا جینا دو بھر کر دیا گیا ہے۔ کبھی حجاب کے نام پر نفرت کا ماحول بنانے کی کوشش ہو رہی ہے تو کبھی لنچنگ کے ذریعے اسلام کے نام لیواؤں کو سبق سکھانے کی بات کی جا رہی ہے تو کبھی فسادات کراکر ان کی جان و مال کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کرنے پر ان کو جیل کی سلاخوں میں بھیجا جا رہا ہے تو کبھی ان کے گھروں اور املاک پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔ کبھی پروپیگنڈہ وار کے ذریعہ فلموں اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ فرقہ پرستی کو عام کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کو قرآن کی ان آیات کی روشنی میں غور کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن میں جہاں ان سب سے نمٹنے کے لیے باطل طاقتوں کو زیر کرنے کے لیے اہل ایمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین کی ہے وہیں انھیں صبر و عظیمت کا راستہ بھی اختیار کرنے کے لیے کہا ہے۔ ہمیں ان سب سے سیکھنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ جہاں حالات منفی ہیں وہیں حالات مثبت بھی ہیں۔
پوری دنیا میں جس تیزی کے ساتھ اسلام پر حملہ ہو رہا ہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ لوگ اسلام کو قبول بھی کر رہے ہیں، جس کی تفصیلات ہم آئے دن اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھ رہے ہیں۔ خود ہندوستان میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ عناصر خوف زدہ ہیں کہ اگر اسی تیزی کے ساتھ اسلام کے ماننے والوں میں اضافہ ہوتا رہا تو ان کی روزی روٹی کیسے چلے گی اور اسی وجہ سے وہ اسلام کی خلاف بر سر پیکار رہتے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں نا اسی نا امیدی کے ماحول سے امید کی کرن پھوٹتی ہے۔ ہم اس کی مثالیں آئے دن دیکھ رہے ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے، یعنی گزشتہ ماہ ہم نے دیکھا کہ اس حوالے سے مجلس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف قرار داد منظور کی گئی اور عالمی سطح پر تحمل اور امن کے کلچر کو فروغ دینے کے مقصد کے طور پر 15مارچ کو متفقہ طور پر عالمی یومِ انسداد اسلاموفوبیا قرار دینے کی منطوری دی گئی۔
ایسے میں ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اور اہل اسلام کے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور اسلام کی حقیقت سے دنیا کو روشناس کرائیں۔ جس انداز سے اسلام کی شبیہ بنا دی گئی ہے اس کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ جب تک ہم اس کے لیے بیدار نہیں ہوں گے اور کام نہیں کریں گے ،محض روتے رہنے سے یا شکایت کرنے سے کام بننے والا نہیں ہے۔ بلاشبہ دنیا میں اسلاموفوبیا ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ اب دنیا کے سینٹر اسٹیج پر ایک سنگین مسئلہ کے طور پر ابھر کر آیا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی قرارداد یا ہماری پریشانیوں سے کہیں زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ ہم خود بھی اپنے اندر اصلاح اور بہتری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
سوال یہ بھی ہے کہ پوری دنیا میں امن کے علمبردار مذہب کے ماننے والوں کے حوالے سے خوف و دہشت یا نفرت کا یہ ماحول کیسے بنا؟ ہمارے معاشرہ میں بھی کچھ عناصر نفرت پھیلانے کے لیے مذہب کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے، جب کہ نبی کریم ﷺ کو پوری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ اسلام مخالف پروپگنڈے کے تدارک کے لیے ہمیں اپنے عمل و کردار کے ذریعہ رحمۃ للعالمینﷺکے پیغام کو عام کرنے اور قرآن نیز اس کی تعلیمات سے لوگوں کو واقف کرانے اور خود بھی عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں کو قرآن کی ان آیات کی روشنی میں
غور کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرنے کی
کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن میں جہاں ان سب سے نمٹنے کے لیے باطل طاقتوں کو زیر کرنے کے لیے اہل ایمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین کی ہے وہیں انھیں صبر و عظیمت کا راستہ بھی اختیار کرنے کے لیے کہا ہے۔ ہمیں ان سب سے سیکھنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ جہاں حالات منفی ہیں وہیں حالات مثبت بھی ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢