ہیں شکوہ کناں یہ معصوم تصویریں

کورونا کے بعد پھر سے وہ خوبصورت مناظر دکھائی دےرہے ہیں کہ بچے خوبصورت یونیفارم میں کتابیں اور بستے لیے اسکولوں کی جانب چل پڑے ہیں۔ اسکولوں و مدرسوں میں رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ پڑھنے پڑھانے اورسیکھنے سکھانے کا ماحول بن گیاہے۔ بچے گھروں کے باہر بے فکری سے کھیلتے کودتے بھی نظر آنے لگے ہیں۔ والدین کے ساتھ سیر و تفریح کے مزے لیتےبھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بہر حال کورونا کا خوف کم ہوگیا۔ پچھلے دو سال سے جن پریشان کن حالات کا سامنا تھا وہ دور ہوگیا۔
لیکن…….اب بھی کچھ بچے ہیں جو اس سے ذیادہ پر خطر ماحول میں جی رہے ہیں۔ جن کی راتیں ڈرون کی اور بموں کی بھیانک آوازوں کو سنتے گزرتی ہیں اور جن کی صبحیں اپنے ہی گھروں کے ملبوں پر طلوع ہوتی ہیں۔ عزیزوں رشتہ داروں کے زخمی جسم ان کے معصوم دلوں کو بھی زخمی کیے دیتے ہیں۔
بہن بھائیوں کی کٹی پھٹی نعشیں دیکھ کر معصوم ذہن غم وغصے سے بھر جاتے ہیں۔ آنکھوں میں سجے روشن مستقبل کے خواب ، غصے اور انتقام کے جذبات کے پیچھے کہیں دب کر رہ گئے ہیں۔ پھر یہ قلم اور کتاب پکڑنے والے ہاتھ ہتھیار پکڑنے لگتے ہیں۔ یہ ہاتھ چاہے یوکیرینی ہوں، افغانی ہوں یا غاصب اسرائیل کے ظلم کے شکار ننھے فلسطینی ہوں، ہر ایک ظلم کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ظالم طاقتوں کے ظلم و سفاکیت نے پڑھنے لکھنے اور کھیلنے کودنے کی عمروں میں ہاتھوں میں بلیٹس، بندوقیں اور پتھر پکڑوادیے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے کہ استعماری قوتیں جہاں چاہیں وہاں اپنا غاصبانہ تسلط چاہتی ہیں۔ اس کے حصول کے لیے بے لگام فوجی کاروائی اور بے دریغ اسلحہ کا استعمال کرتی ہیں۔ شہری کالونیوں کی کالونیاں تباہ کردی جاتی ہیں۔ عورتیں بوڑھے بچے یہاں تک کہ معصوم شیر خوار بھی ان کی سفاکیت سے بچ نہیں پاتے۔ پھر شہریوں کو بھی اپنی مدافعت کے لیے ہتھیار اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔
فلسطین کےہزاروں اسکولوں اور کالجس کو پناہ گزیں کیمپوں میں تبدیل کردا گیا کیوں کہ ان کے گھر سالوں سے چلی آرہی اسرائیلی بربریت کے نذر ہوگئے۔ بلکہ کئی اسکولوں کو تواسرائیلی بمباری نے مکمل مسمار ہی کردیا ۔اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق سیکڑوں اسکول تو مکمل تباہ اور کئی اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسکول اور کالجز جانے والے ہزاروں بچوں کا مستقبل تاریک ہوگیا ۔
یہ بچے نہ صرف تعلیم جیسی اہم ضرورت سے محروم کردیے جاتے ہیں، بلکہ غذا اور طبی امداد جیسی بنیادی ضرورتیں بھی روک دی جاتی ہیں۔
ان حالات میں بھی ان کی مزاحمتی اور مدافعانہ کاروائیاں عزم و حوصلہ کے بل بوتے پر جاری رہتی ہیں اور کئی بار ایسا ہواکہ یہ کم قوت اور قلیل اسلحہ کے ساتھ ظالم اور طاقتور اقوام پر بھاری پڑگئے اور انہیں بری طرح پسپا کردیا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢