عید کارڈ: قدیم تہذیب و روایت
عید کی پاکیزہ روایتوں میں ایک روایت عید کارڈ بھی ہے،جو آج کل مفقود ہے۔رمضان میں افطار کے لیے لگے بازار لذیذ اور خوشبو دار پکوان سے سجائے بازار کی رونق تو پورا مہینہ رہتی ہے ۔ رمضان کے آخری عشرے ہی سے عید کے موقع پر بازار کی رونق کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ مٹھائیاں، مغزیات، گھروں کی سجاوٹ کے سامان اور نئے کپڑوں کی دکانیں باراز کی رونق ہوتی ہیں ۔ ان سب کے ساتھ پہلے کبھی عید کارڈ کی دکانیں بھی ہوا کرتی تھی ۔ ایک قدیم روایات میں عید کارڈ بھی ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے۔ عید کارڈ کی روایت کو رشتوں سے اظہارِ محبت کی روایت کہنا بے جا نہ ہوگا ۔
اس محبتوں کی روایتوں کا بھلا کیا بدل، جہاں رمضان میں پیسے جٹا کر عید کارڈ خرید کر بہن بھائی کو اور بھائی بہن کو احساس دلاتے ہوئے شعر یا دو سطر بے قراری بیان کرتے ہوئے لکھتے۔ اس میں طرح داری ہوتی، اپنائیت ہوا کرتی ۔جذبے بولا کرتے ہیں:

عید کی سچی خوشی بہن بھائی کی دید ہے
جب بہن ہی قریب نہ ہوتو پھر کس کی عید ہے

اور بہن اس ایک جملے کو پڑھ کر سارا دن سرشار رہتی ہوگی۔تلاشِ روزگار میں دور دراز شوہر اپنی بیوی کو مخاطب کرکے ایسے اشعار لکھ بھیجتے کہ مخاطب نازاں ہی رہتا۔بڑے اہتمام سے عزیزوں کے کارڈ صندوقچی میں سنبھال کر رکھے جاتے ۔

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال
وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

اور جواب دیا جاتا:

عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوس
جس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس

محبتوں کی گواہی دیتے ہوئے، سادہ الفاظ، دوریوں میں بھی رشتوں کو نہ بھولنے کا احساس دلاتے ہوئے جملے، محبت و الفت میں ناز و ادا سے گوندھی ہوئی تحریریں، انتظار کررہے عزیزوں پر شبنم کی طرح ٹھنڈی میٹھی قربتیں تخیل ہی میں سرشار کردیتیں اور اس اظہار کے ذریعہ چند لمحوں میں دیرینہ رقابتیں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتیں ،سرمایہ کم تھا، فاصلہ زیادہ،مسافت جاں گسل تھیں،لیکن جذبے قیمتی اور احساس سلامت ہوا کرتے تھے۔محبتوں کی گواہی دیتے ہوئے، سادہ الفاظ، دوریوں میں بھی رشتوں کو نہ بھولنے کا احساس دلاتے ہوئے جملے، محبت و الفت میں ناز و ادا سے گوندھی ہوئی تحریریں، انتظار کررہے عزیزوں پر شبنم کی طرح ٹھنڈی میٹھی قربتیں تخیل ہی میں سرشار کردیتیں اور اس اظہار کے ذریعہ چند لمحوں میں دیرینہ رقابتیں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتیں ،سرمایہ کم تھا، فاصلہ زیادہ،مسافت جاں گسل تھیں،لیکن جذبے قیمتی اور احساس سلامت ہوا کرتے تھے۔ عید کارڈ مختلف کمپنیاں ہر سال نئے الفاظ اور ڈزائن کے ساتھ بنایا کرتیں تھیں۔عید کارڈ روایت کی ڈان نیوز نے ایک تحقیق پیش کی ،جس میں مختلف کمپنیوں کے عید کارڈ کے نمونوں سے پتہ چلتا ہے کہ’’ برصغیر پاک و ہند میں عید کارڈ بھیجنے کی روایت کا آغاز انیسویں صدی کے آخری سالوں میں ہوا۔ ویسے تو کئی دولت مند مسلمان گھرانے صدیوں سے سجاوٹ والے خطاطی شدہ پیغامات بھیجا کرتے تھے، لیکن عید کارڈز کی وسیع پیمانے پر دست یابی اور ان کا ڈاک کے ذریعے بھیجا جانا انیسویں صدی کے اواخر میں ہی شروع ہوا۔‘‘

عید کارڈ کے تاریخی نمونے imagesofasia.com کے کلیکشن سے پتہ چلتا ہے کہ عید کارڈ کی روایت مغرب کے کرسمس کارڈ کو دیکھ کر وجود میں آئی۔ابتدائی عید کارڈ کے نمونے کرسمس کارڈ ہی پر کچھ ترمیم کے ساتھ عید مبارک لکھا گیا تھا ۔بعض عید کارڈ پوسٹ کارڈ پر ڈاک کی سہولت کے پرنٹ کیے جاتے تھے اور بعض پر خطاط اور مصور کے ذریعہ بنوائے جاتے تھے ۔

اب وسائل ارزاں تریں، سہولتیں دستیاب لیکن رشتوں سے اپنا ئیت کے لیے وقت خواب ہوا، مصروفیت میں ڈیجیٹل اظہار ایک روایت کی شکل اختیار کرگیا، جیسے کاغذی پھول جس میں خوشبو کا کوئی اتا پتہ نہیں ۔
تبدیلی آتی ہے، تہذیبی و روایات کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہے۔ ایسا نہیں کہ ہم تبدیلی کے خلاف ہیں،بالکل نہیں۔ تبدیلی آئے تو استقبال ہے، لیکن کیا کیجیے کہ ہمیں مادہ پرستانہ طرز کی آئی تبدیلی کے میں آنکھ کھولنے کے بعد قصۂ پارینہ بننے والے محبتوں کے قصے سپنوں کی دنیا کے کوہ قاف کی پریوں کی طرح اب غیر حقیقی ہی لگتے ہیں۔ محبتوں کے بغیر بھی بھلا کوئی زندگی زندگی ہوتی ہے ۔اظہار کے بغیر میاں بیوی کے رشتے بھی روبوٹ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔جو تیاریاں بھی کیں تو اپنے رشتوں سے زیادہ انہیں نیچا دکھانے کے لیے یا انہیں احساس دلانے کے لیے کہ اب ہم بھی کسی سے کم نہیں رہے ۔
تخیل کے دریچے سے ذرا ماضی میں جھانک ان احساس میں گندھے رشتوں کا اندازا تو کریں کہ عید بازار میں بے شمار رنگ برنگے عید کارڈز جن میں تحریریں پہلے ہی سے تیار ہوتیں اور آپ انتخاب کرتے ہوئے بڑے رسان سے خرید کر عزیزوں کو بھیجواتے اب عنقا ہوئے ۔
اپنے عزیزوں و قرابت داروں و ساری زندگی کے سرمائے سمجھے جانے والے اب اپنوں سے غیر اچھے کا راگ الاپتے ہیں ۔
عید کارڈ کی جگہ اب ایک ساتھ بیک وقت دس دس سچی محبتوں پر کھوکھلے ویلنٹائن کارڈز نے اس کی جگہ لے لی۔مارکیٹ میں برتھ ڈے کارڈ فرینڈشپ کارڈز اور ویلنٹائن کارڈز تو مل جائیں گے، لیکن امی، ابو، بہن بھائی اور دوست کو بھجوانے والے عید کارڈز مجال ہے جو نظر آئیں ۔
قصے جب بڑوں سے سنیں تو احساس وہی کہ جس طرح بوڑھے لکڑھارے ، انفاق کا سبق دینے والے کبوتروں کی کہانیاں ، کابلی والا جیسے مشرقی کہانیوں کی جگہ اب ، رپینزل، سنووائٹ، سینڈریلا کی کہانیوں نے لے لی ہے۔عید کارڈ کی روایت نے بھی ڈیجیٹل میسیج نے لے لی ۔

ہماری دادی جان سناتی تھیں کہ عمدہ کارڈز کا انتخاب چاند رات سے پہلےہی کرلیا جاتا تھا۔ ساتھ ہی بہنوں کے لیے رنگ برنگی چوڑیاں اور کمخواب کے سوٹ پر چندری کے دوپٹے پر کامدانی کی کڑھائی، لکھنوی چار کلی کے کرتے، چوڑی دار پاجامہ، زردوزی کے واسکوٹ ، داماد کے لیے رومی ٹوپی یا قندھاری ٹوپی اور بچوں کے لیے کھلونے مٹھائیاں جلیبی، نقطیاں اور مضعفیر و متنجن کے تشت ہاتھ سے کڑھے ہوئے خوان پوش سے ڈھکے چاند رات کو ہی قریبی سمدھانوں بھجوادیے جاتے ۔
میکے سے آئے تحفوں میں بہن سب سے پہلے ہاتھ بڑھاکر اس عید کارڈ کو چومتی، سینے سے لگاتی، جو بھائیوں نے یا بہنوں نے بھجوائے ہوتے ۔شوہر کے بیوی کو بھجوائے کارڈز سے لے کر سہیلی، دوست ، نانانانی، دادا دادی، چچا چچی، پھوپو کی عیدی کے ساتھ کارڈ بھی بچے سنبھال کر رکھا کرتے۔ کارڈز گواہ ہوتے کہ ان رشتوں کو نبھانا چاہتے ہیں۔ عزیزوں کو اپنی خوشی و غم میں نہیں بھولتے ۔ہاتھ سے بنے کارڈز اپنے رنگوں اور دوسطری مضمون میں محبت کی کل کائنات رقم ہوتی۔
بلاشبہ تبدیلی آنی چاہیے لیکن مادہ پرستی میں ’تیری دیوار سے اونچی میری دیوار بنے‘ کے لیے نہیں، بلکہ تبدیلی آپ کے علم میں ہو، اخلاق بلندی کی طرف گامزن ہو، انسانیت کا سچا درد سے دل روشن رہے، دماغ آئیڈیا سے روشن ہو اور رویہ احساس سے مملو رہے ۔تبدیلی آپ کو مشین بنادے اور انسانی رشتوں کو اجنبی تو جان لیں تباہی منتظر ہوگی ۔

پچھلے قصے سن کر تو اب خواب ہی لگتا ہے۔ اب تہذیبی مفقود ہوئیں ،ناز و ادا میں روبوٹک انداز در آیا ۔واٹس ایپ و سوشل میڈیا پر کاپی پیسٹ کرتے ہوئے کئی نمبروں سے آنے والے عید مبارک ویڈیوز میں وہ احساس کی بات کہاں۔
تاہم اب رشتوں کی لطافت نہیں، بھیجنے والے کو بھی اس کاپی پیسٹ میں احساس کا لطف نہیں آتا۔ اس روایت کو زندہ کرنے کے لیے بچوں سے کارڈ بنوائیے اور اپنی پھوپی، خالہ، ماموں، چچا چاچی کو بھیجنے کی تاکید کیجیے ۔ رشتوں سے محبت کا اظہار اعزاء و اقربا کے دل میں بچے کے احترام کو بڑھاتا ہے۔ بچے کا اعتماد بحال ہوتا ہے ۔

قصے جب بڑوں سے سنیں تو احساس وہی کہ جس طرح بوڑھے لکڑھارے ، انفاق کا سبق دینے والے کبوتروں کی کہانیاں ، کابلی والا جیسے مشرقی کہانیوں کی جگہ اب ، رپینزل، سنووائٹ، سینڈریلا کی کہانیوں نے لے لی ہے۔عید کارڈ کی روایت نے بھی ڈیجیٹل میسیج نے لے لی ۔

1 Comment

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ٢٠٢٢