گٹر میں ملی نوزائیدہ بچی قصوروار کون؟
گٹر اور نالے میں ملنے والی نوزائیدہ بچی انسانوں سے سوال کررہی ہیں کہ کیا ’انسانیت‘ زندہ ہے؟انسان کا وجود باقی رہے، لیکن طرزِ زندگی وحشی درندوں کی طرح ہو، دل پتھر کی سِل کی طرح ہو اور فطری احساس کو مردہ خانے میں قید کردیا جائے توعورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والی بچی کو گٹر کی نذر کر دیا جاتا ہے ۔
18 ؍نومبر 2021کو ممبئی کے ایک گٹر میں کون نوزائیدہ بچی کو پھینک کر چلا گیا؟ بلیاں اس کو دیکھ کر غرّا رہی تھیں۔ تبھی پولس اہلکاروں نے اس بچی کو وہاں سے نکالا۔ سردی کی وجہ سے بچی کے دونوں بازو نیلے پڑ چکے تھے ۔اس کا بچی کا رجواڑی ہاسپٹل میں علاج چل رہا ہے اور وہ روبہ صحت ہورہی ہے ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ پانچ دن پہلے پیدا ہونے والی اس بچی کی حالت فی الحال اچھی ہےاورہاسپٹل کا عملہ مسلسل اس کی صحت کا جائزہ لے رہا ہے۔
ممبئی پولیس کا کہنا ہے علاقے کے رہائشیوں کو گٹر میں پڑی ہوئی اس بچی کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب سڑک کے کنارے کچھ بلیاں جمع ہو کر زور زور سے غُرانے اور چلانے لگیں۔پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ مذکورہ بچی گندے پانی کے نالے تک کیسے پہنچی؟ پولیس کسی قسم کی افواہ کو ہوا دینے سے پرہیز کر رہی ہے، لیکن بھارت میں نوزائدہ بچیوں کو لاوارث چھوڑنے کے واقعات کا ذمہ دار اکثر اس بات کو قرار دیا جاتا ہے کہ کئی لوگ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔
بھارت کی کل آبادی میں مردوں اور خواتین کا تناسب دنیا میں سب سے خراب ہے۔ اگرچہ بہت سی ایسی بچیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی غیرقانونی طور پر کسی کلینک کے عملے کی مدد سے ضائع کر دیا جاتا ہے، یا پیدائش کے بعد بھی بچیوں کو مار دینے یا انھیں لاوارث چھوڑ دینے کے واقعات آئے دن خبروں میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ بچیوں کو اس طرح کوڑے کرکٹ میں پھینک دینے کی خبریں معمول کی بات ہے۔
آج سے دو برس قبل ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک نوزائیدہ بچی ملی تھی، جسے زندہ درگور کر دیا گیا تھا۔اسی طرح 2016 میں دارالحکومت دہلی میں بھی ایک نوزائدہ بچی ملی تھی، جس کے تن پر کوئی کپڑا نہیں تھا اور وہ پلاسٹک کے ایک تھیلے میں پڑی ہوئی تھی۔اسی طرح اترپردیش میں ایک ملاح کے اس عمل کو بہت سراہا گیا تھا، جب اس نے دریائے گنگا میں ایک کشتی پر پڑی ہوئی لاوارث بچی کو بچا لیا تھا ۔
زندگی اللہ رب العالمین دیتاہے۔ نوزائیدا بچیوں کو کوڑے، کچرے اور نالیوں میں پھینک کر جانے والے والدین اس بات سے نابلد ہیں کہ یہ زندگیاں بچائی گئیں ہیں۔ تاہم یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ بڑے ہونے کے بعد ان لڑکیوں کو کیسا محسوس ہوگا کہ جب انھیں یہ معلوم ہوگا کہ وہ گٹر، نالے اور کچرے کے ڈھیر سے اٹھاکر لائی گئیں ہیں ؟
انسانیت موجود ہوتی ہے تو انسان دور کا سوچتا ہے۔موجودہ سماج میں نہ صرف یہ کہ بچیوں کو نالوں میں پھینک کر جان چھڑائی جارہی ہے بلکہ رحم مادر میں لڑکیوں کی موجودگی کا پتہ لگاکر قتل کرنا معمول کی بات بنتی جارہی ہے ۔یہ پتہ لگانے کا طریقہ کسی بھی واسطے سے ہو، چاہے جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ ہو یا روایتی اندازے

سے پتہ لگا کر ابورشن سینٹر کو آباد کرنا بھارت میں عام بات ہے ۔
دورِ جاہلیت میں مشرکین لڑکی کے پیدا ہونے کوعار سمجھتےتھے اور ان کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔ قرآن کریم نے ان کی اس قبیح عادت کو اس طرح بیان کیا ہے :
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہمْ بِالْأُنثَى ظَلَّ وَجْہہ مُسْوَدًّا وَہوَ كَظِيمٌO يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِہ أَيُمْسِكُہ عَلَى ہونٍ أَمْ يَدُسُّہ فِي التُّرَابِ أَلاَ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ( النحل58:59)
’’اور جب ان میں سے کسی کو بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غصہ میں گھٹتا جاتا۔ وہ (بزعم خویش) اس ’بری خبر‘ کے عار کی وجہ سے قوم سے چھپتا پھرتا۔ وہ (سوچتا ہے کہ) آیا اس کو ذلت کی حالت میں لیے پھرے یا زندہ زمین میں دبا دے۔ خبردار! کتنا برا خیال ہے، جو وہ کرتے ہیں۔‘‘
لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم قبیح کو قرآن مجید ایک دوسرے مقام پر اس طرح بیان کرتا ہے :
وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُئِلَتۡ ۞بأاىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ( التکوير 8:9)
(اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟)
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ لڑکی،چاہے وہ پیدائش سے پہلے ضائع کردی گئی، یا پیدائش کے بعد زندہ درگور کی گئی یا لاورث دریابرد کی گئی، گٹر میں چھوڑ دی گئی یا کوڑے کرکٹ میں ڈال دی گئی، اس جرم پر اللہ کے حضور جواب دینا پڑے گا۔
اس جرم ِ عظیم کو روکنے کے لیے انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس سوچ کو ’قومی بے شرمی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے نوزائیدہ بچیوں کو بچانے کے لیے ایک ’جنگ‘ کا اعلان کیا تھا اور سنہ 2014میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بیٹیوں کو قتل کرنا بند کریں۔
حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بلا تفریق مذہب و ملت اس جرم ِ عظیم کو روکنے کی تدابیر کرنی چاہییں ۔اس سلسلے میں مسلمانوں کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ برائیوں کی روک تھام ان کی اولین ذمہ داری ہے ۔
سماج میں کچھ خاموش مجرم وہ بھی ہیں، جنھوں نے سماج میں لڑکی کی پیدائش کو شادی بیاہ کے اخراجات کی وجہ سے مشکل ترین بنادیا۔ اس میں ذمہ دار وہ عورتیں بھی ہیں جو بہو لانے کے لیے خوبصورتی کو معیار بناتی ہیں۔ قصوروار وہ بھی ہیںجو نکاح کو مشکل بناتے ہیں اور لوگ رنگ نسل اور ذات پات یا مادی دولت کو معیار بناکر چھپ کر شادی کرنے یا ناجائز تعلق بنانے پر مجبور کرتے ہیں ۔ اس غیر انسانی سلوک کو روکنے لیے نکاح کو آسان کرنا،ناجائز تعلقات اور فحاشی پر پابندی لگاکر انسانوں کے لیے انسانی سماج کو بہت پریکٹکل بنانے کی ضرورت ہے ۔

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ لڑکی،چاہے وہ پیدائش سے پہلے ضائع کردی گئی، یا پیدائش کے بعد زندہ درگور کی گئی یا لاورث دریابرد کی گئی، گٹر میں چھوڑ دی گئی یا کوڑے کرکٹ میں ڈال دی گئی، اس جرم پر اللہ کے حضور جواب دینا پڑے گا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دسمبر ٢٠٢١