زمرہ : ادراك
انسان کا خالق اللہ ہے ،اور انسان کی فطرت کو اس کے خالق سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ۔انسانی فطرت کے پیش نظر اللہ رب العالمین نے دنیا کی زندگی گزارنے کے لیے جو ہدایت نامہ انسانوں کے لیے بھیجا ہے، وہ قرآن مجید ہے ۔قران مجید کا مخاطب انسان ہے ۔انسان کو قرآن کی عظمت سمجھانے کے لیے اللہ رب العالمین نے عملاً رہنمائی کا نمونہ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کو اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے ناَزل فرمایا ۔
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ(الروم : 30)
(پس (اے نبیؐ اور نبیؐ کے پیرؤو!) یک سُو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو، قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نےانسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔)
اس دین سے مراد وہ خاص دین ہے جسے قرآن پیش کر رہاہے۔ عبادت اور اطاعت کا مستحق اللہ وحدہ لا شریک کے سوا اور کوئی نہیں ہے، جس میں الوہیت اور اس کی صفات و اختیارات اور اس کے حقوق میں قطعاً کسی کو بھی اللہ تعالی کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔جس میں انسان اپنی رضا ورغبت سے اس بات کی پابندی اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اللہ کی ہدایت اور اس کے قانون کی پیروی میں بسر کرے گا ۔ جہاں قرآن نے سیاسی، سماجی اورمعاشی نظام کی تربیت اپنے ذریعہ کی ہے، وہیں عائلی نظام سے متعلق اسلامی احکام بھی پیش فرمائے ہیں ۔
اللہ چاہتا ہے کہ انسان خودکوسب سے زیادہ محفوظ اپنے خاندان اور افراد خاندان کے درمیان محسوس کرے۔ اس لیے خاندان کے ہر فرد میں احساس ذمہ داری ہونا چاہیے ۔عائلی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے قرآن نے نکاح ، طلاق، حیض و نفاس، پاکی و صفائی، احکام حضن و قانونِ متبنیٰ، احکام نسب ، نان و نفقہ نیز قانونِ وراثت،، قانون حرمت، رضاعت، قانون تعدد ازدواج، حقوق الزوجین ،پردہ، والدین و اولاد کے حقوق اور عائلی زندگی میںدیگر ضوابط اصلاح جیسے قوانین وضع کیے ہیں ۔
خاندان کو مستحکم کرنے کے لیے قرآن کے ان احکام سے بہتر دنیا میں کچھ نہیں ہوسکتا ۔قرآن صرف مسلمانوں سے مخاطب نہیں، بلکہ جگہ جگہ قرآن نے ’’یاایھاالناس‘‘ کہہ کر انسان کو مخاطب کیا ہے ۔
قانون نکاح
قانون نکاح کی حکمتیں جوں جوں انسان پر کھلتی ہیں، اللہ رب العالمین سے محبت سوا ہونے لگتی ہے،اور ان کی حقانیت پر انسان دل سے قائل ہوتاجاتا ہے ۔سورۃ النساء آیت نمبر 3 میں اللہ نے ارشاد فرمایا :
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا
اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیّت میں لاوٴ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین ِصواب ہے۔)
شرع میں نکاح ایسے عقد کو کہتے ہیں جو قصداً ملکِ متعہ یعنی نفع اٹھانے پر وارد ہوتا ہے۔
امام ابو منصور الازہری نے بھی نکاح کے شرعی معنی بتائے ہیں کہ’’ کلامِ عرب میں نکاح کا مطلب ’وطی‘ یعنی عملِ اِزدواج ہے۔ تزویج یعنی شادی کرنے کو بھی نکاح اِسی لیے کہتے ہیں کہ وہ عملِ اِزدواج کا سبب ہے۔‘‘
گویا اسلام میں نکاح عورت اور مرد میں ایک پختہ شریفانہ عمرانی معاہدہ ہے، جس کے ذریعہ مرد و عورت کے درمیان جنسی تعلق جائز اور اولاد کا نسب صحیح ہو جاتا ہے۔اللہ نے عورت کو مہر کا حق دیا، بیویوں کے ساتھ نرمی برتنے کا حکم دیا، مرد پر عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عائد کی، مرد کو قوام کی حیثیت سے زیادہ ذمہ دار بنایا اور عورت پر بچوں کی پیدائش ان کی دیکھ بھال اور مال و متاع اور عزت کی حفاظت کی ذمہ داری عائد کی ۔
قرآن کا قانون ِ طلاق و خلع
میاں بیوی کے درمیان اگر تفرقہ ہوجائے اور حل کی صورت نہ نکلے تو اللہ نے قانون طلاق مرد کے لیے اور قانون خلع عورت کے لیے رکھا ہے ۔طلاق و خلع کا قانون بھی ناگزیر حالات میں ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔ انسان کی فطرت سے اللہ واقف ہے کہ کبھی کبھی ہونے والی ناچاقی کو اس طرح ختم کرکے دوسری شادی کی جاسکتی ہو۔
ناپسندیدہ شخص کے ساتھ گزارنا انتہائی تکلیف دہ ہے ،اس لیے انسان کی فطرت کا خیال رکھتے ہوئے اللہ نے دونوں کو علحیدگی اختیار کرنے کا حق دیا ہے، تاہم یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کی اصل روح کو سمجھے بغیر اسے ایک ڈومینشین ٹول، اور بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کرکے اس قانون کی شکل ہی بدل دی ۔جو انسانی تکریم اور امان کا قانون تھا، غلط استعمال نے اسے معیوب بنادیا ۔قرآن سے رجوع کرنے پر انسان اس قانون کے احکام کو سمجھنے کے قابل بنتا ہے ۔
یہاں تفصیل مقصود نہیں ،مثال پیش کرنا مقصود ہے ۔
اسی طرح قرآن نے خاندنی نظام کو مستحکم کرنےکےلیے مہرکو رکھا، محرم رشتوں کی فہرست بتا ئی ہے، اس کے باوجود قرآن پر عمل نہ کرنے کے سبب نامحرم رشتوں کےحدود کی پائمالی ہم معاشرے میں برملا پاتے ہیں ۔
پردہ بھی اگر قران کا حکم جان کر کیا جائے تو عملاً اس کی حکمت کو سمجھنے میں آسانی رہتی ہے ۔قرآن دراصل بصیرت ہے، بصارت ہے، انسان کے لیے اس کے احکام عمل کرنے اور عملی زندگی میں بروئے کار لانے ہی کے لیے قرآن ہے ۔موجودہ معاشرے میں ہم اپنی عائلی زندگی قرآن کے مطابق گزاریں تو زندگی نہ صرف یہ کہ آسان بنےگی،بلکہ دیگر مذاہب کے پیرؤوں کےلیے پر کشش بھی بنےگی۔
عملاً نفاذ کی کوشش :انفرادی سطح پر
گھروں میں قرآن کا ماحول بنایا جائے ۔روزانہ تلاوت کے ساتھ ترجمہ و تفسیر کو پڑھنے کا معمول بنائیں۔ بچوں کے گفتگو قرآن کی زبان میں کی جائے۔ جیسے وہ تجسس کریں تو والدین کے زبان سے نکلے ’’ولاتجسسوا‘‘، جب وہ لڑنے لگیں تو زبان کہے، قرآن کا حکم ہے’’ انصاف سے کام لو ‘‘، کسی کی غیبت کرتے دیکھیں تو زبان سے برملا نکلے’’ ولایغتب بعضکم بعضاً‘‘ ،اس طرح نسلوں کو احساس ہوگا کہ یہ صرف برکت کے لیے تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ عملی زندگی کے احکام سے متعلق ہے ۔
آپ کبھی غور کریں !دیگر اقوام نے اپنی پالیسی یا اپنی فکر کو پھیلانے کے لیے اسی طرح الفاظ کو زبانِ زدعام و خاص کیا ہے ۔مثلاً آپ نے آفسز یا تعلیمی اداروں میں، بورڈ لگا دیکھا ہوگا:
“.Honesty is the best policy”
جبکہ پالیسی تو وقت کے ساتھ انسان بدل لیتا ہے، ہمارے نزدیک یہ پالیسی نہیں۔ ایمانداری، ایمان کا حصہ اورپارٹ ہے ۔
اسی طرح ہمیں بھی قرآنی افکار و نظریات زمانے کو دینے کے لیے ترویج کے مختلف طریقوں پر کام کرنا چاہیے ،تاکہ ہم اس قرآن کے آفاقی نظام کو پوری دنیاکےسامنےایک مفید اور قابل عمل نظام کے طور پر پیش کر سکیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ اکتوبر