قرآن کریم کی خوبصورت محفل میں آپ سب کا ایک بار پھر استقبال ہے ۔جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں آل انڈیا ھادیہ قرأت مقابلہ کی۔
قرآن کریم کی آیات کو اپنی آوازوں سے مزین کرتے ہوئے جب یہ قافلہ ریاست راجستھان سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ پہنچا، تواس قافلے میں خواتین اور طالبات جوق در جوق شامل ہونے لگیں۔ یوں محسوس ہونے لگا گویا وہ علامہ اقبال کے اس شعر سے مانوس ہو گئی ہیں:

گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بقرآں زیستن

(اگر تم مسلمان کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہوتو یاد رکھو ایسی زندگی قرآن کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی۔)
یہ ھادیہ ای میگزین کی جانب سے کروایا جانے والا دوسرا ای قرأت مقابلہ تھا۔ جس میں تقریبا 95 امیدواران نے شرکت کی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ مقابلہ دو گروپس پر مشتمل ہے ۔گروپ A میں 10 تا 18سال کی طالبات نے حصہ لیا اور گروپB میں19 تا30 سال کی خواتین نے شرکت کی اور 20 اگست بروز ہفتہ کی شام ھادیہ ای قرأت قرآن مقابلے کے نتائج کی تقریب کی پرنور شام تھی۔جس کا بے صبری سے تمام امیدواران اور ان کے متعلقین کو انتظار تھا۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جسے سمیہ ارم نے پیش کیا۔محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ (چیف ایڈیٹر: ھادیہ ای میگزین و آل انڈیا سیکریٹری حلقہ خواتینجماعت اسلامی ہند) اور محترمہ خان مبشرہ فردوس صاحبہ (ایڈیٹر: ھادیہ ای میگزین) بطور مہمان خصوصی شامل تھیں۔
محترمہ خان مبشرہ فردوس نے افتتاحی کلمات میں ھادیہ ای میگزین کو متعارف کرواتے ہوئے کہاکہ ھادیہ ای میگزین نے خواتین کی دنیا میں جن امور کا بیڑا اٹھایا ہے، اس میں خواتین کی صلاحیتوں کو جلا بخشنا،خواتین کی صلاحیتوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا،Mainstream Media میں آنے سے جو خواتین پیچھے رہ جاتی ہیں انہیں اس طرف رہنمائی کرنا، اسی طرح جو خواتین لکھنے کی یا آڈیو ریکارڈنگ وغیرہ کی صلاحیت رکھتی ہیں، ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے مثبت جہت میں استعمال کرنا وغیرہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں اس میگزین نے اس سوال کا بھی جواب پیش کر دیا جس میں کہا جاتا تھا کہ خواتین تصنیفی میدان میں خال خال نظر آتی ہیں۔ الحمدللہ آج اس میدان کی 400 خواتین تک ھادیہ نے رسائی حاصل کر لی ہے، جو تصنیفی میدان کو معیاری حسن بخشے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اسی طرح ھادیہ کے ذریعہ ایک اور خوش آئند بات یہ سامنے آئی ہے کہ اب خواتین اپنے مسائل مردوں سے نہیں پوچھتیں بلکہ خواتین ہی ان کے مسائل کا حل پیش کرنے میں ماہر ہو گئی ہیں۔لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ھادیہ نے متعدد جہتوں میں خواتین کو Empower بنا دیا ہے، الحمدللہ ۔
پروگرام کا اگلا مرحلہ قارئین کی آراء پر مشتمل تھا۔جس میں شفاعت ثمرین،طہورا فردوس اور مصیفہ ترنم نے حصہ لیا۔ محترمہ شفاعت ثمرین نے ھادیہ کو اسلامی معاشرے کی تعمیر میں ایک انقلابی قدم بتاتے ہوئےکہا کہ یہ میگزین خواتین میں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان میں سیاسی،سماجی اور مذہبی بیداری کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ محترمہ نے تفصیلا ًھادیہ کے ہر ہر زمرے کو بے حد خوبصورتی کے ساتھ متعارف کروایا۔محترمہ کے مطابق تمام زمرہ ہائے ھادیہ خواتین کی ترقی اور رہنمائی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں،جو خواتین کو اس بدلتے دور میں اپنے اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ بخشتے ہیں۔ھادیہ نے جہاں ادبی ذوق رکھنے والی خواتین کی تشنگی دور کی ہے، وہیں خواتین میں تعلیم اور روزگار جیسے مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے- محترمہ نے ھادیہ سے متعلق ہر فرد کو بےشمار دعائیںدیں اور مبارکباد پیش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اس ای میگزین کو کتابی شکل میں بھی مہیا کروایا جائے تاکہ اس سے مزید استفادہ کیا جاسکے۔
اس کے بعد ایک اور خوبصورت رائے محترمہ طہورا فردوس کی زبانی ھادیہ کی نذر کی گئی۔ محترمہ قرأت مقابلے کی بھی امیدوار تھیں۔ انہیں ھادیہ کے عنوانات نے بے حد متأثر کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ھادیہ کے عنوانات خواتین کی ضروریات کے تحت ہی نہیں ہیں، بلکہ خواتین کے ہر معاملے میں ان کی رہنمائی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور سے زمرہ ’’قاری کی رائے‘‘ کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہاکہ یہ زمرہ ان خواتین کے لئے بے حد مفید ہے جو منتخب مضامین پڑھنے کی دلدادہ ہوں۔ کیوں کہ یہاں قاری اپنی رائے میں بہترین مضامین کی خصوصیات پیش کرتا ہے۔محترمہ نے بطور خاص کیس سٹڈی،معمار جہاں تو ہے اور سیاسی منظرنامہ جیسے زمروں کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ یہ زمرے خواتین کی الجھنوں کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو ان کے مقصد زندگی کی جانب بھی رہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔انہیں میگزین میں بچوں سے متعلق کارکردگی بھی بے حد پسند آئی۔محترمہ نے میگزین کی دلکش گرافک ڈیزائن اور ٹیم ورک کو سراہا اور چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر صاحبہ کا شکریہ کرتے ہوئے اپنی بات ختم کی۔
ہمارے اس پروگرام کی معصوم قاری مصیفہ ترنم کی رائے بھی ہمارے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ پیاری مصیفہ درجہ ہشتم کی طالبہ ہے۔ انہوں نے قرأت مقابلے میں بھی حصہ لیا تھا۔وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ھادیہ ای میگزین کو ابھی ابھی پڑھنا شروع کیا ہے۔ انہیں ھادیہ کی آن لائن فراہمی بڑی محبوب ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس میگزین کےآن لائن ہونے کے سبب ہم اسے جب چاہیں تب آسانی سے پڑھ سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسے پڑھنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔انہوں نے اپنی والدہ کا ھادیہ کے تئیں لگاؤ کو بطور خاص ذکر کیا ہے اور ہادیہ کے لئے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ یہ پیغام دیا ہے کہ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے لیکن انسان وہی جو دوسروں کے لیے جیے۔
اب پروگرام اپنے پر اشتیاق مرحلے میں داخل ہونے جا رہا تھا۔جہاں امتیازی نمبرات حاصل کرنے والے امیدواران کو انعام و اکرام سے نوازا جانا تھا۔ یہ اعلانات قرأت مقابلوں کی ایونٹ مینیجر محترمہ نصرت خانم نے کیے۔گروپ A کے اول دوم اور سوم امیدواران اس طرح سے ہیں: سمیہ عبدالرحیم خان،سیدہ جویریہ محمد عبدالجلیل اور سیدہ زینب فاطمہ محمد عبدالجلیل ۔انہیں سرٹیفکیٹ کے علاوہ بالترتیب 2000,1500 اور1000 روپیے نقد رقم سے نوازا گیا۔
اسی طرح گروپ B میں اول آنے والی امیدوار صفورہ بیگم محمد حسین،دوم آنے والی امیدوار سیدہ مہک محمد عبدالجلیل اور سوم آنے والی امیدوار بی بی افشاں محمد جمیل احمد ہیں۔انہیں بھی بالترتیب 2000,1500 اور1000 روپیے نقد رقم سے نوازا گیا، اور تمام امیدوار شرکاء کو ای سر ٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔
پروگرام کا آخری مرحلہ اختتامی خطاب تھا۔ ھادیہ ای میگزین کی چیف ایڈیٹر محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ نے اپنے خطاب میں بے حد قیمتی پیغامات کے ذریعے امت کی بیٹیوں کی رہنمائی فرمائی۔انہوں نےکہا کہ سوشل میڈیا کے سیلاب کو روکنا ممکنات میں سے نہیں،لیکن مومن ہر چیز میں سے خیر نکال ہی لیتا ہے۔ہم اس کے مفید اور صحت مند استعمال کے ذریعے اپنی شخصیت کو نکھار سکتے ہیں۔اللہ رب العزت نے ہر انسان میں بہترین صلاحیتیں رکھی ہیں،لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان کا صحیح استعمال کریں۔ محترمہ نے کہاکہ ھادیہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خواتین کی صلاحیتوں کو پہچان ملی۔ یہی نہیں، بلکہ ان صلاحیتوں کو مانا اور منوایا بھی جا رہا ہے۔ غرض ایک تعمیری معاشرہ تخلیق کرنے کے امکانات ھادیہ نے پیدا کر دیے ہیں، الحمدللہ۔
محترمہ کے مطابق خواتین ہماری سوسائٹی کے نصف سے بھی زیادہ ہیں، گویا خواتین کے بغیر معاشرے کی تعمیر ناممکن ہے۔اس لیے خواتین اور طالبات کو چاہیے کہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کو سیکھ کر خیر کے کاموں میں حصہ لیں۔ ہم خیر امت بنیں۔
محترمہ عطیہ صدیقی صاحبہ نے تمام امیدواران کو دنیا و آخرت کی ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ پرخلوص مبارکباد سے نوازا۔
اس قافلۂ قرأت قرآن کا اگلا پڑاؤ ریاست بہار اور جھارکھنڈ میں ہوگا۔ امید ہے کہ بہت سے ساتھی وہاں سے بھی اس سفر کے راہی بنیں گے۔اس پروگرام کی نظامت کے فرائض محترمہ ریحانہ پروین صاحبہ نے ادا کیے اور اخیر میں محترمہ اسماء فردوس صاحبہ نے اظہار تشکر کے کلمات ادا کیے اور دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

2 Comments

  1. سمیہ عامر خان

    💐💐💐💐

    میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
    لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

    💐💐💐💐

    Reply
  2. عبدالعزیز شیخ

    ماشاءاللہ ، اللہ قبول عام عطا فرمائے ، کاوشوں کو قبول کرے اللہم آمین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر