ابوبکر زیادہ تر خاموش ہی رہتا تھا۔ اپنے ہم جماعتوں سے الگ تھلگ اور کسی فکر میں گم رہنا شاید اس کی عادت تھی لیکن اساتذہ سے بات کرتے ہوئے اس پر گھبراہٹ طاری ہو جاتی اور یہ بات اس کی شخصیت کو متاثر کر رہی تھی۔ وہ ایک اوسط در جے کا طالب علم تھالیکن اسکول کا کام وقت پر مکمل کرنے کی عادت پختہ تھی ۔کسی نے اسے کلاس میں ٹیچر سے جھوٹ بولتے یا بہانہ کرتے ہوئےنہیں سنا تھا۔ کسی سے لڑنا تو دور، اونچی آواز سے بات تک نہیں کی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تمام کمزوریوں کے باوجود اسے اساتذہ نے کسی بات پر سزا نہیں دی تھی۔ کلاس میں بزم ادب سجتی تو ابوبکر گم صم ہو جاتا اور ٹیچر کی نظروں سے بچنے کی کوشش کرتا۔ اس کی کلاس کے لڑ کے مختلف سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ،مگر وہ پچھلی نشست پر خاموش بیٹھا رہتا۔ بزم ادب میں طالب علم لطیفے، نظمیں ، گانوں کی پیروڈی سناتے اور مختلف مزاحیہ مضامین دلچسپ خبریں پڑھتے، لیکن ابوبکر کبھی سامنے نہیں آتا تھا۔
چند دن پہلے سکول میں نئے ٹیچر آئے اور محفل سجانا ان کی ذمہ داری ٹھہری۔ وہ شروع میں تو نئے ٹیچر کی نظروں سے بچارہا، مگر ایک دن انہوں نے اسے بزم ادب کے لئے تیاری کرنے کو کہہ دیا۔ یہ سن کرابوبکر کے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیا، مگر وہ ان سے کچھ نہ کہہ سکا۔ اگلے دن ٹیچر نے اسے بلایا اور کچھ سنانے کے لئے کہا، مگر ابوبکر خاموشی سے کھڑا رہا۔سارےطالب علم اس کی جانب دیکھ رہے تھے۔
’’ابوبکر! کوئی لطیفہ سنا دو کسی گانے کی پیروڈی کوئی اچھا شعر یاکسی موضوع پر تقریر ہی کر دو۔ چھوٹی سی بات کہہ دو، جس سے تمہارے ساتھیوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جائے۔‘‘ٹیچر نے پیار سے کہا، مگر ابوبکر کی نظریں زمین پر گڑی ہوئی تھیں ۔اس کی یہ حالت دیکھتے ہوئےٹیچر نے نرمی سے کہا ’’بیٹا بولو، اس طرح تمہارے جھجک دور ہوگی ۔اگر اپنی کلاس میں نہیں بولو گے تم میں اعتماد کیسے آئے گا اور زندگی کس طرح گزارو گے؟‘‘انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔وہ جان گئے تھے اس میں کہیں کوئی بات ضرور ہے۔
’’یہ لڑکے مجھ پر ہنستے ہیں ۔‘‘ابوبکر نے ٹیچر کی طرف دیکھتے ہوئےکہا۔
’’ہنستے ہیں ! یہ کیا بات ہوئی؟‘‘اس میں کلاس میں موجود طالب علموں کی واقعی ہنسی نکل گئی جب کہ ابوبکر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ ٹیچر نے اسے اپنی نشست پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ ابوبکر آنسو پونچھتا ہوا اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا۔ یوں وہ پیریڈ گزر گیا۔
ادھر ٹیچر کوفکر تھی کہ یہ سب کیوں ہوا۔انہوں نے کھوج لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیےانہوں نے ابوبکر کے محلے میں رہنے والے ان لڑکوں سے بات کی ، جواسی اسکول میں پڑھتے تھے۔انہوں نے بتایا کہا ابوبکر کے بڑے بھائی ہر وقت اس کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور اسے بزدل کہتے ہیں ۔ جب کہ کلاس میں بھی اسے اپنے ہم جماعتوں کی جانب سے اسی قسم کے رویے کا سامنا ہے ۔اسی لیے وہ کسی سے بات کرنے سے گریز کرتا ہے اور الگ تھلگ رہنا پسند کرتا ہے ۔ یہ جان کر ٹیچر کو بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے کسی طرح ابوبکر کے والد سے ملاقات کی اور کہا کہ گھر والوں کے رویے نے ایک اچھے اور باصلاحیت طالب علم کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔اپنے بچے کو سمجھنے کی کوشش کریں ،اس کی حوصلہ افزائی کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کو سمجھائیں کہ وہ ابوبکر کا خیال رکھے ۔ابوبکر کو ماں باپ کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی کی توجہ اور پیار کی بھی ضرورت ہے ۔ یہ سن کر ابوبکر کے والد بہت شرمندہ ہوئے اورکہاکہ اب ایسا نہیں ہوگا ۔انہوں نے گھر جا کر ابوبکر کے بھائی کو سمجھایا۔ اس نے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور اپنے والد سے وعدہ کیا کہ وہ چھوٹے بھائی کا خیال رکھے گا۔اب تو پورا گھر ہی ابوبکر کو پیاراورتوجہ دے رہا تھا۔ ادھر ٹیچر کی طرف سے معمولی معمولی باتوں پر حوصلہ افزائی نے ابوبکر کو بہت اعتماد بخشا۔
اب وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔ رفتہ رفتہ اسے زندگی کے سفر میں دوسروں کا مقابلہ کرنے اور کسی بھی مرحلے پر پیچھے نہ ہٹنے کا سلیقہ آ گیا۔ آج وہ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ بیت بازی کے مقابلے میں شریک تھا۔ ٹیچر ابوبکر کو یوں ہنستا کھیلتا دیکھ کر خوش تھے۔ان کی چھوٹی سی کوشش سے گویا ابوبکر کی کایا پلٹ گئی تھی۔ چپراسی نے ایک دن آ کر کہا کہ اسے پرنسپل صاحبہ نے بلایا ہے۔ وہ اسکول کے سالانہ فنکشن کے موقع پر اسے ایک اہم ذمے داری سونپنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر