’’تم ہمیشہ سے میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہی ہو اور آج کی حرکت سے تم نے خود مجھے فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا کر دی ہے، تم نے خود ہی ثابت کر دیا کہ تمہارے پاس میری کتنی اہمیت ہے اور تمہارے دل میں میری کوئی عزت کوئی احترام نہیں ہے ۔ایک بار پھر سوچ لو ،تمہیں تمہاری یہ حرکت مہنگی پڑ سکتی ہے، اس زعم میں نہ رہنا کہ میں تمہیں لینے آؤں گا۔‘‘مسعود نےترشی سے اسے کہا۔
’’میاں بیوی کا رشتہ کانچ سے بھی نازک ہوتا ہے، اسے دونوں طرف سے سنبھالا جائے تو ہی قائم رہ سکتا ہے، کسی ایک کی پکڑ بھی ڈھیلی ہوئی تو گر کر ٹوٹ جاتا ہے۔ تمہاری آج کی حرکت نے مجھے بہت مایوس کیا ہے، تم با اعتبار عورت نہیں ہو، اپنی بات منوانے کے لیے اپنی جھوٹی انا اور غرور کے لیے تم کچھ بھی کر سکتی ہو ۔تم میری چار سال کی رفاقت، توجہ اور محبت سے ایک انچ نہ بدلی تو آگے کیا کومپرمائیز کروگی؟‘‘مسعود اپنے دل میں دبی باتیں بھی کہہ گیا ،اس پر سکتہ سہ طاری ہوا تھا، وہ کچھ بھی بول نہ سکی۔
’’اب بھی وقت ہے ،میں تین دن کا وقت دیتا ہوں، آنا چاہو تو آجاؤ، بلکہ میں لینے آتا ہوں ؛تمہاری اس بے وقوفی کو معاف کرتا ہوں ۔‘‘مسعود اس کی خاموشی سے نرم ہوا۔
’’میرا فیصلہ وہی ہے ۔جو کہا وہی کرو ،ورنہ مجھے نہیں ضرورت تمہارے گھر کی ۔‘‘اس کی نرمی سے سمیرا کی ضد لوٹ آئی، ترشی سے کہا اور کھڑاک سے فون رکھ دیا۔
’’ہونہہ!اور کچھ دن یہاں رہو گی تو دماغ ٹھکانہ آجائے گا، سیدھا ہو جائے گا۔‘‘وہ خود سے بڑبڑاتی ہوئی باہر لان کی طرف آگئی، جہاں سب شام کی چائے پی رہے تھے۔ زوبیہ، طارق کے ساتھ کھیل رہی تھی ،وہ اسے دیکھنے لگی۔
چوتھے روز اس نے آفس میں طلاق کے کاغذات وصول کیے، اسے مسعود کی اس حرکت پر یقین نہیں آیا کہ وہ ایسا فیصلہ بھی لے گا۔
طلاق نامہ کے ساتھ اس کے حق مہر کا چیک بھی تھا، کتنی دفعہ وہ طلاق نامہ پڑھتی رہی تھی۔ آنکھوں سے جیسے سیلاب امڈ پڑا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے میں سارے رشتے،سارے تعلق ،سارے بندھن توڑ دیے تھے۔
ایک لمحہ بھی نہ سوچاکہ اس فیصلے کا اثر زوبیہ اور اس کے ہونے والے بچے پر کیا ہوگا۔ ایسا اس نے کون ساگناہ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے اتنی بڑی سزا کی مستحق ٹھہری تھی۔ اس کے ماتھے کو اس نےداغ دار کر دیا تھا۔
’’میں اب بھی ہمت نہیں ہاروں گی مسعود ظفر !ایک دن تمہیں اپنے فیصلے پر بہت پچھتانا ہوگا ۔‘‘اس نے بے دردی سے آنسو صاف کیے۔جیسے تیسے خود کو سمیٹتی گھر پہنچی، تو اس کے جہیز کا سارا سامان آنگن میں پڑا تھا ۔ابو فق چہرہ لیے لان میں ہی بیٹھے تھے ،اسے پتھرائی آنکھوں سے دیکھا ،وہ دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
امی کا ستاہوا چہرہ اور آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین نکل گئی۔
’’امی!‘‘وہ بے اختیار ماں سے لپٹ کر سسک پڑی ۔
’’غلطی ہوگئی، اور وہ غلطی جس کا کوئی ازالہ نہیں ۔‘‘اس کے دل سے سسکی نکلی۔
’’ایسی کیا بات ہوئی تھی کہ مسعود کہتا ہے تم سے پوچھوں؟ ایسا اچانک کیا ہوا ہےکہ اس نے تمہیں طلاق بھی دی ،اور جہیز بھی پھینک گیا؟‘‘ امی پریشان سی آنسوؤں کو پونچھتی ہو ئی اس سے پوچھنے لگیں۔
’’بتاؤ! سمیرا معاملہ کیا ہے؟‘‘وہ پھٹی آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگی تو وہ جھنجھوڑ کر بولیں۔
’’معاملہ۔‘‘حیرت سےاس کے لب ہلے ،اتنی بڑی بات تو نہ تھی کہ وہ اسے یوں در بدر کردیتا جس کا نام لے کر اس کی صبح ہوتی تھی، اسے یوں ایک پل میں بیگانہ کر دے گا۔
’’تمہاری ساس تو خود حیران پریشان ہے ۔‘‘ناعمہ بھابھی نے بتایا۔
’’یہ سب ان کا ہی تو کیا دھرا ہے ۔‘‘سمیرا غصے سے بولی۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو؟ کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘امی آنسو صاف کرکے حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔
’’امی! میں نے الگ گھر لینے کے لئے کہا تھا۔ مسعودنے وہ نہیں مانا تو یہاں نکل آئی تھی ۔‘‘سمیرا نے سسک کر کہا۔
’’الگ گھر، لیکن کیوں؟‘‘امی حیران ہوئیں۔
’’امی!مسعود کو انہوں نے ہی بہکایا ہے ،میرے خلاف کیا ہے، وہ ہم دونوں کے بیچ میں پہلے دن سے ہی تھیں، مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا کہ مسعود ماں کو اس قدر چاہے، ان کے ایسی فرمانبرداری کرے، ان کے سارے چونچلے برداشت کرے۔ وہ آفس سے آنے کے بعد ان ہی کے ساتھ وقت بتا تا تھا ،ان کے ساتھ ہی کھانا کھاتا، ان کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر بھی نہ نکلتا۔‘‘سمیرا کہنے لگی تو امی کے زناٹے دار تھپڑ نے اسے خاموش کر دیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی، امی نے تو اسے کبھی غصہ سے چھوا بھی نہ تھا۔ وہ سب سے چھوٹی تھی،لاڈ پیار سے کبھی ڈانٹا بھی نہیں، اور آج …وہ چکرا کر رہ گئی۔
’’یہ جرم تھا اس کا؟‘‘غصے سے گھور کر پوچھا۔
’’امی !کیا میرا کوئی حق نہیں تھا؟‘‘اس کی مری مری سی آواز نکلی۔
’’تمہیں تمہارے حقوق پتہ بھی ہیں؟بیوی کے حقوق؟‘‘امی نے اسے بازو سے ہلا کر چیخ کر کہا۔اس کے منہ سے ایک لفظ نہ نکل سکا ،وہ انہیں دیکھ کر رہ گئی۔
’’بیوی کو کھلانے کا حق ،اگر شوہر سوکھی روٹی اور پیاز بھی تمہیں دے دے کھانے کو تو اس نے تمہیں کھلانے کا حق پورا کیا۔ کیا مسعود نے تمہیں یہ چیزیں دی تھیں کھانے کو یا بھوکا رکھا یا فاقہ کروایا؟‘‘امی نے غصے سے پوچھا، وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئی۔
’’تمہیں پہنا اوڑھا کر رکھنے کا حق ،اگر شوہر نے بورے کا یا ٹاٹ کے کپڑے سے سلے صرف دو ڈریس …سن رہی ہو؟صرف دو ڈریس بھی تم کو دیے تو اس نے تمہارا حق ادا کیا،اور وہ اس سے زیادہ کرتا ہے تو وہ صدقہ کا ثواب پائے گا۔کیا مسعود نے تمہیں پہننے کو ایسے کپڑے دیے؟‘‘امی نے بپھر کر پھر پوچھا تووہ خوفزدہ سی نفی میں سر ہلا گئی۔
’’بیوی کو رکھنے کا حق ،اگر شوہر نے گھاس پھوس کی چھت اور دیواریں بنا کر تمہیں اس میں رکھا تو وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہو چکا،کیا مسعود نے تمہیں جنگل میں رکھا ہوا تھا؟‘‘امی غصہ سے سرخ ہو چکی تھیں،وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’اپنی بے جا خواہشات کے پیچھے بھاگ کر تم نے اپنی زندگی تو جہنم بنا دی، اور آخرت کے لیے بھی جہنم کے دروازے کھول لیے ۔جہاںشوہر ناراض وہاں خدا بھی راضی نہیں ہے ۔تمہیں اپنا حق تو چاہیے ،پر دوسروں کے حق تم دینا نہیں چاہتیں۔میں تم سے پوچھتی ہوں،مسعود کے کتنے حق پورے کیےتم نے ؟بتاؤ مجھے!‘‘ امی نے پھر سے اسے بازؤں سے ہلا کر پوچھا ،وہ رونے لگی۔
’’کتنی دفعہ تم نے اس کے لئے کھانا بنایا؟ تم سے تو خود کا کھانا بنایا نہیں جاتا ،مسعود اور زوبیہ کا کیا بناؤ گی ۔‘‘امی نے اسے پرے دھکیلا۔
’’کتنی دفعہ تم نے مسعود کے کپڑے دھوئے؟کمرے کی صفائی کی؟ زوبیہ کے کپڑے دھوئے؟زوبیہ کو نہلا دھلا کر پاک صاف رکھا؟ مسعودکو ملازمہ کس کے لیے رکھنا پڑا؟ تمہارے آرام کے لیے؟کس کے لئے ؟ تمہاری خوشی کے لیے؟کس کے لئے ؟‘‘امی غصہ سے کانپنے لگیں۔
’’خالہ جان! بس کریں، آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔‘‘ناعمہ نے آج ان کا نیا ہی روپ دیکھا تھا۔ ہمیشہ خاموش اور ہر مسئلے کو سمجھداری سے ہینڈل کرنے والی آج بیٹی کا بسا بسایا گھر اجڑ نے پر بکھر گئی تھیں۔
وہ صحیح تو کہہ رہی تھیں، مسعود نے اس کا پورا خیال رکھا تھا۔ سمیرا سے تو اس کی خوشی بھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔ کچھ نہ کچھ ایسا کہتی یا کردیتی تھی کہ اس کی خوشی غائب ہو جاتی تھی۔ اگر اس نے اسے اس کی زندگی سے بے دخل کر دیا تو کیا برا کیا؟
’’تمہیں اپنے حقوق دکھائی دئیے، مسعود کی ماں کے حق دکھائی نہیں دیے ؟جاہل عورت!یا ماں کا کوئی حق نہیں ہے؟‘‘امی نے ناعمہ کی طرف دیکھا بھی نہیں، ایک اور تھپڑ رسید کیا سمیرا کو۔
’’امی!‘‘سمیرا روتے ہوئے خفگی سے چیخی۔
’’کاش یہ تھپڑ میں تمہاری خود سری پر پہلے ہی رسید کرتی!‘‘امی دکھ سے لزرنے لگیں۔
’’خالہ جان! مہربانی کریں ،بیٹھ جائیں۔‘‘ناعمہ روتے ہوئے لپٹا کر انہیں صوفے پر بٹھا گئی، تو وہ بیٹھ گئیں۔
’’کیا ماں کا کوئی حق نہیں ہوتا؟خاور اور دلاور کیا میرا کہا نہیں مانتے ؟کیا وہ اب بھی میرے پاس نہیں بیٹھتے ؟کیا میرا دل نہیں چاہتا میری اولاد میرے لیے بھی اپنی مصروفیت سے کچھ وقت نکالے؟اپنی بھی کہے ،میری بھی سنے ۔‘‘امی کا غصہ کم ہوا تو وہ رونے لگی، ناعمہ نے زبردستی پانی پلایا۔
’’میں نے جو جوانی گلا کر انہیں جوان کیا، لائق فائق بنایا، میں نے اپنی زندگی کا خوبصورت وقت دیا، دن رات محنت کی ،میرا کوئی حق نہیں میری اولاد پر کہ وہ میرا حال ہی پوچھ لے؟‘‘امی روتے ہوئے کہنے لگیں۔
’’امی!مجھے معاف کر دیں۔‘‘سمیر ان کے قدموں کو پکڑ کر بیٹھ گئی اور رونے لگی۔

پھر یوں ہوا کہ بےمعنی ہو گئی
مری ذات بھی، مری بات بھی

مسعود نے باقاعدہ طور پر زوبیہ کو بھی لکھ کر اسے دے دیا تھا، اور چند ماہ بعد جو بچہ آنے والا تھا وہ بھی سمیرا کے نام کردیا تھا۔
’’میں بچے دے کر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ممتا کیا ہوتی ہے۔ جب ان کی پرورش اپنی محنت اور خون پسینے سے کروگی، انہیں دنیا کےسرد گرم سے بچا کر جوان کروگی تو تمہیں اندازہ ہوگا ۔میں کبھی بچوں سے نہیں ملوں گا۔ اس لیے کہ جب تمہیں ہی دل سے نکال دیا تو پھر بچوں کو سینے سے لگا کر کیا کرنا ہے۔ انہیں بھی تم نے ہی جنم دیا ہے، اور تمہاری کسی یاد کو بھی کسی نشانی کو بھی اب اپنی زندگی میں نہیں رکھوں گا۔ اگلے مہینے میں امی کی پسند کی لڑکی سے شادی کر رہا ہوں، تم بھی ضرور آنا اور دیکھنا میں تمہارے بغیر بھی کتنا خوش اور مطمئن ہوں ۔بہت گھمنڈ تھا ناںتمہیں کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اب پوری زندگی رہ کر دکھاؤں گا ۔‘‘مسعود سے اس کی آخری گفتگو تھی ،جو اس کے کانوں میں گونجنے لگی تھی۔ اس کے اندر جیسے کوئی چیز ختم ہو گئی تھی۔ دل دماغ پوری طرح خا لی ہوگئے تھے ۔کوئی سوچ باقی نہیں رہی تھی، بس پچھتاوا تھا ۔وہ جو غرور میں کہتی تھی کہ مسعود پچھتائے گا ،غلط سوچ ثابت ہوئی ۔پل پل تو سمیرا پچھتارہی تھی۔ ہر بات پر جیسے اس کے دل سے ہوک اٹھتی تھی۔ رات کو جب کھانے کے بعد دونوں بھائی ،بھابھیاں، بچوں کو لے کر خوش گپیوںکےلیے بیٹھتے تو اس کا دل کوئی مٹھیوں میں لے لیتا تھا۔(جاری)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر