کسی عربی شاعر نے کہا ہے کہ:

الام مدرسۃ اذا اعددتھا
اعددت شعبا طیب العراق

ماں ایک مدرسہ ہے۔ا گر ہم نے اس کی اچھی تربیت کی اور اعلی تعلیم دلوائی تو گویا ایک نیک فطرت خاندان تیار کردیا۔ عورت نہ صرف خاندان، بلکہ معاشرہ اور قوموں کی تعمیر کرتی ہے ،اور تعلیم یافتہ عورت ہی ایک قابل ،معمار قوم اور ذمہ دار شہری ثابت ہو سکتی ہے۔
نیلسن منڈیلا کے مطابق’’ تعلیم شخصی ارتقاء کے لئے ایک انجن کا رول ادا کرتی ہے ۔‘‘تعلیم یافتہ عورت خود اعتماد باشعور اور حالات سے گہری واقفیت رکھنے والی ہوتی ہے، اور ایسی عورت ہی سماج کی تعمیر و تشکیل میں اپنا رول پیش کرسکتی ہے۔ نیپولین کے مطابق عورتیں قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں، ان کو نظر انداز کرکے قوموں کی ترقی محال ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے اور حقیقت بھی کہ ’’عورت سماج کا نصف حصہ ہے ۔‘‘بلکہ معاشرہ کی تعمیر و ترقی یا تنزل و پستی ،دونوں میںعورت کا رول نصف سے بھی زیادہ ہے۔
انسانیت کا ایک اہم عضو اگر غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ہو، نہ حالات سے واقف ہو اور نہ بیدار مغز ہو تو یہ عضو معطل کی مانند ہے۔ ایسی خواتین نہ امت کی سیاسی و معاشرتی بیداری میں حصہ لے سکتی ہیں نہ ان کے ذریعہ تعلیم یافتہ باکمال نسلیں نکل سکتی ہیں۔ عورت افراد ساز اور معاشرہ ساز ہوتی ہیں۔ اسی لئے اسلام نے ہمیشہ عورت کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی ہے، بلکہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورت کی تعلیم و تربیت کی تلقین کی ہے۔

اسلام میں عورت کی تعلیم

اسلام نے عورت اور مرد دونوں پر حصول علم فرض قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات، نبیﷺ کی احادیث اور ان کےطرز عمل نے خواتین کے اندرعلم کا ذوق پیدا کیا تھا ۔نبی ﷺ معلم بنا کر بھیجے گئے تھے ۔لہذا آپ نے تعلیمات پیش بھی کیں اور بلا تفریق مرد و عورت حصو ل علم کی بھی تلقین کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اولین دور میں ہمیں تعلیم یافتہ ادب ولٹریچر میں کمال رکھنے والی، علوم و فنون کی ماہر خواتین کا تذکرہ ملتا ہے۔نبی ﷺ کی زوجۂ مطہرہ حضرت عائشہؓ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بڑے بڑے محدثین و علماء آپؓ کی شاگردی میں رہ چکے تھے۔ آپؓ سے2210 احادیث مروی ہیں۔ آپؓ نہ صرف علم حدیث وفقہ بلکہ ادب و شاعری، فن حرب وجنگ ،علم طب وغیرہ میں بھی ماہر تھیں۔
حضرت ام سلمہؓ بھی معتمد اور قابل محدثہ تھیں۔ ان سے 378 احادیث مروی ہیں ۔ان کے علاوہ بھی ازواج مطہرات اور صحابیات کی ایک لمبی فہرست ہے، جنہوں نے نبیﷺ سے براہ راست علم دین حاصل کیا، اور بعد والوں تک اس کی ترسیل کی۔ احادیث کو روایت کرتے وقت زبان وبیان کا لحاظ انتہائی فصاحت و بلاغت، ساتھ ہی جامعیت کے اوصاف ملتے ہیں ،یعنی علم حدیث کےساتھ ساتھ زبان دانی میں مہارت اور معاملہ فہمی کا مزاج رکھتی تھیں۔ حضرت رفیدہؓ اور حضرت شفاؓ علم طب وجراحی میں ماہر تھیں، اور نبیﷺ نے تعریف وحوصلہ افزائی کی تھی اور حضرت حفصہؓ کوان سے اس علم کو حاصل کرنے کا انتظام کروایا تھا۔ بعد کے ادوار میں یعنی دوسری سے پندرہویں صدی تک بھی عورتوں میں حصول علم کا رجحان ہوا کرتا تھا، اور خواتین نے بڑی بڑ ی تعلیمی خدمات بھی انجام دیں۔ نہ صرف خود تعلیم حاصل کرتی تھیں بلکہ دوسروں کو سکھاتی تھیں۔ کئی جیّد علماء و فقہا ء خواتین کےتلامذہ میں رہ چکے ہیں۔ تعلیم کے فروغ کے لئے بیداری اور سہولتیں پیدا کرنے میں بھی خواتین کوشاں رہی ہیں۔ کیا ہمارے مرد و خواتین ان شاندار مثالوں سے واقف ہیں؟ اسے یاد رکھا ہے اور انہیں زندہ کرنے کی کوشش کی ہے ؟کیا ہے موجودہ صورت حال ؟

ہندوستان میں مسلم خواتین کی تعلیمی صورت حال
حق حصول علم (RTE)کے مطابق تعلیم حاصل کرنا بلا تفریق مذہب و جنس ہر ہندوستانی کا حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پرائمری تعلیم ساری سہولتوں کے ساتھ مفت دلوائی جائے۔ حکومت اس کا انتظام بھی کرتی ہے۔ ملک کے اکثر علاقوں میں سرکاری اور نیم سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور سیکنڈری اسکول میںبچوں کو یونیفارم، کتابیں، بیگ وغیرہ حکومت فراہم کرتی ہے ۔دوپہر کا کھانا یا مفت اناج تقسیم کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لئے ان کو خصوصی رعایتیں، اسکالرشپ وغیرہ بھی دئیےجاتے ہیں۔ اس کے باوجود مسلم طالبات کی تعلیمی شرح بہت کم ہے۔ ایسی کئی ریاستیں ہیں جہاں 50فیصد سے کم مسلم طالبات اسکولوں میں داخلہ لیتی ہیں، تعلیم مکمل کرنے تک یہ تعداد20% رہ جاتی ہے۔
ایک سروے اسٹڈی کے مطابق مسلم لڑکیوں کا اسکول میں داخلہ بھی کم ہوتا ہے، اور پھر تعلیم منقطع کرنے کی شرح بھی زیادہ ہے۔ اتر پردیش جیسی کثیر آبادی والی ریاست میں پرائمری اسکول میں مسلم لڑکیوں کے داخلہ کی شرح محض49%ہے۔
2001ءکی مردم شماری کے مطابق شمالی ہندوستان کی88فیصد مسلم خواتین ناخواندہ ہیں ۔جنوبی ہندوستان کے مقابلہ شمالی ہندوستان میں مسلم خواتین کی خواندگی کی شرح بہت کم ہے۔ انٹرنیشنل جنرل آ ف کریٹیو ریسرچ کے مطابق ہندوستان میں مسلم لڑکیوں کی تعلیمی شرح ہندو، کرسچین، سکھ، جین اور بدھ سے بھی کم ہے،لیکن یہ خوش آئند بات ہےکہ پچھلی دہائیوں کے مقابلہ میں موجودہ زمانے میں طالبات اور والدین کے اندر لڑکیوں کی تعلیم کے تعلق سے بیداری آئی ہے۔ مسلم طالبات نہ صرف تعلیم حاصل کرہی ہیں، بلکہ نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کررہی ہیں۔’’ھادیہ ‘‘ کے شمارےبھی اس بات کے گواہ ہیں، جس میں متواتر ایسی طالبات کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں یا گولڈ میڈلسٹ بنیں، لیکن ان بیدار افراد کی تعداد مجموعی تعداد کے مقابلہ بہت کم ہے ۔پرائمری اور سیکنڈری تعلیم تو مفت دلوائی جاتی ہے، لیکن اعلیٰ تعلیم تک پہنچتے پہنچتے لڑکیوں کی کثیر تعداد تعلیم منقطع کر چکی ہوتی ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں در پیش مشکلات اور حل
غربت امت کی ایک بڑی تعداد غربت کی زندگی گزار رہی ہے، جنہیں نان و نمک کی دستیابی بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔ ان کے بچوں کو پرائمری وسیکنڈری مفت تعلیم تو مل جاتی ہے، لیکن اس کے بعد کے تعلیمی اخراجات پورے کرنا محال ہوجاتاہے، اس لیے لڑکیوں کی ایک بڑی تعدادگھر بیٹھ جاتی ہے ،اور لڑکے تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرکے پیسے کمانے کے لئے نکل جاتے ہیں۔
غیر معیاری ابتدائی تعلیم
اساتذہ اور انتظامیہ کا غیر ذمہ دارانہ یا لاپرواہ رویہ ،قابل اور باصلاحیت ٹیچرزکی قلت ، نصاب کی عدم تکمیل یا غیر معیاری ابتدائی تعلیم جس کی وجہ سے بھی طالبات اعلیٰ تعلیم تک پہنچنے کا حوصلہ نہیں رکھ پاتیں ،اور پرائمری یا سیکنڈری اسکول کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیتی ہیں ۔بعض اوقات اساتذہ کا خشک یا جارحانہ رویہ اورسخت سزائیں بھی تعلیم سے نفرت کا سبب بنتی ہیں۔ گھر والوں کے دباؤ میں طالبات بمشکل ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرکے رک جاتی ہیں۔
صنفی تفریق
دیگر تہذیبوں کی روایات و افکار کے گہرے اثر کی وجہ سے آج بھی امت کی ایک تعداد لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری بلکہ نقصاندہ کہنےپرمصر ہے ۔ لڑکوں کو تو تعلیم دلوائی جاتی ہے، لیکن لڑکیوں کو کچھ بنیادی دینی تعلیم یا پرائمری سطح تک پڑھا کر امور خانہ داری سکھانے کےنام پر کالج جانے سے روک دیا جاتا ہے۔
تعلیم برائے معاش کا مزاج
تعلیم کا واحد مقصد کمانا سمجھا جاتا ہے جب عورت کو کمانا ضروری نہیں تو پڑھنا بھی ضروری نہیں۔ یہ مزاج لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہےْ خود لڑکیاں بھی جو نوکری نہیں کرنا چاہتیں، اعلیٰ تعلیم کو لاحاصل سجھتی ہیں۔
غیر محفوظ ماحول
آئے دن عورتوں کے خلاف جرائم کی وارداتیں ،چھیڑ چھاڑ ،حجاب پر پابندی کے شوشے نے بھی خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا ہے۔ والدین بچیوں کو غیر محفوظ حالات میں مخلوط تعلیمی اداروںمیں بھیجنے سے گھبرانے لگے ہیں ۔
دیہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت کا فقدان
ابتدائی تعلیم تو دیہات میں یا قرب وجوار کے علاقوں میں ہو جاتی ہے لیکن اعلیٰ تعلیم کے لئے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ آمدورفت کی سہولتوں کا فقدان اورراستے میں لڑکیوں کی حفاظت کےتعلق سے اندیشے اعلیٰ تعلیم سے روکنے کا سبب بنتے ہیں۔
ناپسندیدہ مضمون کا انتخاب
بعض وقت والدین یا گھر کے دیگر افراد کے دباؤ کی وجہ سے طالبات مجبوراًگریجویشن میں غیر دلچسپ یا ناپسندیدہ مضمون کاانتخاب کر لیتی ہیں، اس مضمون میں عدم دلچسپی انہیں تعلیم منقطع کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
شادی کے بعد تعلیم کاانقطاع
عموماً شادی کے بعد لڑکیاں یاتو سسرال اور اولاد کی ذمہ داریوں کی وجہ سے یا پھر معاشرہ میں رائج اس روایت کے سبب کہ ’’حصول علم صرف شادی سے قبل ‘‘تعلیم چھوڑ دیتی ہیں ۔
ممکنہ حل
عوامی سطح پر تعلیمی بیداری پیدا کرنی چاہیے۔ تعلیم صرف برائے معاش کے مزاج کو بدل کر تعلیم کے صحیح مقصد کا شعور پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم شخصیت کی تعمیر کرتی ہے ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے ، معرفت الٰہی کا ذریعہ بھی علم ہے ۔شخصی ارتقاء ، اپنے علم کے ذریعہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے اوررضائے الٰہی کے خاطر علم حاصل کرنا ہے۔ ہمارے اسلاف کے اسوہ میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ملتا کہ ا ن میں سے کسی نے بھی کمانےکے لیےعلم حاصل کیا ہو۔ علم کی اشاعت وترسیل بےلوث ہوا کرتی تھی۔ جب تعلیم کے صحیح مقصد کا شعور پیدا ہوگا ،باصلاحیت وباکردار نسلیں بنانے کا رجحان پیدا ہوگا تو تعلیم یافتہ اور باشعور ماؤں کی ضرورت محسوس ہوگی۔ نسلی تفریق ختم ہوگی۔ لڑکیوں کو اعلی تعلیم دلوانےکا رواج عام ہوگا۔
لڑکیوں کی اعلی ٰتعلیم کے فروغ کے لیےبھی حکومت کی اسکیمیں بننی چاہئیں، اسکالرشپس یا مفت تعلیم فراہم کرنی چاہیے ،تاکہ اخراجات اور فیس کی عدم ادائیگی تعلیم چھوڑنے کی وجہ نہ بن سکے، یا پھر امت کے اپنے ٹرسٹ یا تنظیمیں لڑکیوں کو اسکالرشپس دینے کا انتظام کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر اسکول میں معیاری ابتدائی تعلیم کو یقینی بنائے۔ ٹیچرس کی ٹریننگ ہو اسکول میں مخلصانہ تعلیمی ماحول پروان چڑھے تاکہ بچے اسکول آنے اور سیکھنے میں لطف محسوس کریں۔ بنیادی تعلیم پختہ ہو تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیداہوتا ہے۔ ساتھ ہی کالجز کی تعداد بڑھائی جائے تو دیہی علاقوں کی طالبات کو بھی زیادہ دور اعلیٰ تعلیم کے لئے جانا نہیں پڑے گا پھر ہمارےدیہات بھی ملک کو اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین فراہم کریں گے۔ حکومت خواتین کے خلاف جرائم کے لئے مخلصانہ اقدامات کرے۔ مجرمین کو سخت سزائیں ، حفاظت کے مناسب انتظامات کرے تو لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حوصلہ کر پائیں گی۔ ساتھ ہی ہمیں اپنی بچیوں میں بھی بہادری اور خود اعتمادی پیدا کرنا ہوگی۔ خود کی حفاظت کے گر سکھانے ہوں گے۔خطرات سے ڈرکر علم جیسی نعمت سے محروم رہنے کے بجائے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ آمدورفت کے لیےا گر حکومت کچھ انتظام نہیں کرتی ہے ،تو کالج انتظامیہ کے ذریعہ اس کا نظم کروانے کی کو شش کرنی ہوگی، یا پھرطالبات انفرادی یا اجتماعی طور پر مناسب اور محفوظ بندوبست کرکے کالج جا سکتی ہیں ۔شادی کے بعد بھی تعلیمی سلسلہ جاری ر ہ سکتا ہے بشرطیکہ بچوں کی تربیت و نگہداشت متاثر نہ ہو، اور خاندانی معاملات بگڑنے نہ پائیں شوہر اور سسرال والوں کو بھی سپورٹ کرنا چاہیے، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور ماں کے ذریعہ قابل اور صالح نسلیں نکلتی ہیں۔
متعلقہ مضمون سے عدم دلچسپی بھی اس مضمون میں اعلیٰ تعلیم سے بیزاری پیدا کرتی ہے، والدین کو چاہیے کہ زبردستی اپنی مرضی بچوں پر نہ تھوپیں، انہیں اپنی دلچسپی کا مضمون چننے کا اختیار ہوناچاہیے۔ پسندیدہ مضمون سیکھنے پڑھنے میں دلچسپی ہوتی ہے، اور اس میں اعلیٰ تعلیم و تخصیص کے امکانات وسیع ہوتے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھا ہے، طالبات میں بھی پڑھنے کے شوق میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً ہر ریاست میں دسویں اوربارہویں میں کامیاب شرکاء میں لڑکیاں لڑکوںسے سبقت لےجا رہی ہیں۔ نمایاں کامیابیاں بھی لڑکیوں کے حصہ میں ہی زیادہ آرہے ہیں،لیکن تحقیق وتخصیص کے میدان آواز دے رہے ہیں، جہاں لڑکیوں کی قلت ہے ،ہماری تابناک تاریخ کا احیاءہماری بچیوں کے ذریعہ ممکن ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر