خلا میں کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتے ہوئے ذہن خیالات کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ کسی خیال کو دل کو قبول کرتا اور ذہن اس کا انکار کرتا۔ گویا خیالات کی جنگ چھڑ گئی ہو یہ جنگ جاری رہی۔
اللہ تعالی کی قدرت کاملہ کی دلیل انسان ہے، انسان سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز پیدا نہیں کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے عظیم صفات سے متصف فرمایا ۔
ساخت، صلاحیتوں، فکر و فہم اور علم و عقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشی ہیں کہ جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں بخشی گئیں۔اس کے علم و عرفان کی رفعتوں کا حال یہ ہے کہ ملائکہ بھی اس کی اطاعت بجا لاتے ہیں۔ انسان درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے حُسنِ تخلیق کا شاہکار ہے۔انسان جیسی مخلوق کوئی اور نہیں اس لحاظ سے ہم اس کائنات کی خوش نصیب مخلوق ہیں۔ ایک مقصد اور اس کی تکمیل کے لئے زندگی دی، اسی طرح اچھائی اور برائی کی تمیز دی۔
دنیا میں آنے کا مقصد تضاد کے ذریعہ سمجھایا، روح ایک ایسی غیرمرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق و اتصال ہو جائے وہ زندہ کہلاتا ہے ،اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہوجائے وہ موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔
دل،روح ہے اور بدن حیوان ہے، یہ دونوں مستقل جنگ میں رہتے ہیں۔ اس مٹھی بھر خاک اور مٹھی بھر پانی سے بنے فانی پر قبضے کے لیے مستقل جاری رہنے والی جنگ۔
جنگ؛ ہر لمحے کی جنگ، اپنی انا،جذبات و تعصبات کے خلاف، اپنی خواہشات اور جذبات کے خلاف، شیطانی ترغیبات کے خلاف، جنگ ہمارے اندر ہی ہے جو ختم نہیں ہوتی، حتٰی کہ آخری سانس نہ آجائےاور ہمیں اس کی خبر ہی نہیں۔
یہ زندگی نہیں ،جنگ ہے۔ انسان اور شیطان کے بیچ کی جنگ ، اسی کےساتھ علامہ کا شعر ذہن کے تار چھیڑ گیا، کہ ابلیس:
ہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمو
میرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پو
وہ بے خبری میں ہم پر وار کرتا ہے ،ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ہمیں نافرمانی اور ناشکری میں مبتلا کر دیتا ہے اور انسان کا رب اس پر خصوصی نظر رکھتا ہے۔ شیطان دنیا کے ہر انسان سے حالتِ جنگ میں ہے۔ شیطان برائی کو بھلائی بنا کر دکھلاتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے۔
زندگی کی اس بساط پر اصل امتحان تو انسان کا ہے کہ وہ شیطان کے خلاف جنگ میں ہارتا ہے یہ جیت جاتا ہے۔ اس زمین پر شیطان کا کوئی امتحان نہیں۔ اس جنگ میں ہم نہ ہار مان سکتے ہیں نہ غیر جانبدار رہ سکتے ہیں ۔یہاں ہار ہی نہیں، غیر جانبداری کا مطلب بھی شکست ہے اور شکست کا مطلب جہنم ہے، جنت سے محرومی ہے۔
زندگی، عظیم موقع ہے انسان کے لئے پہلا اور آخری موقع، تو اس کو ضائع نہ ہونے دیں، کیونکہ یہ زندگی نہیں ،جنگ ہے۔ لہذا زندگی کی اس جنگ میں ہمارا مشن سرخروئی ہے ۔اس جنگ میں فت

ح مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ کا مقدر ہے۔ اسی دوران سورة الملک کی آیت ذہن میں گونجی اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ‏ ۞
(سورۃ الملك، آیت : 2)

(جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔)
تو جانا کہ مختصر سی آیت میں بہت سی حقیقتوں کی جانب اشارہ ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر