شکیبہ اور آزاد کے کیس میں کاؤنسلر صاحبہ نے بھارتی قانون کی معلومات اور سزا کا حوالہ دے کر آزاد کو ڈرایا اور اس نے بھی گھر کے اندرون میں لگے کیمرے نکال دیے۔ یوں بظاہر کیس حل ہوگیا۔چونکہ دونوں مسلم معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں ، لہذا الہی قانون کی معلومات سے واقف ہونا یا واقف کرانا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اسلامی قوانین کو پس پشت ڈالنا اور غیر الٰہی قانون کو ترجیح دینا ایمان کے منافی ہے ۔
خواتین کو ان کے حقوق سے متعلق جانکاری کے بابت سوال کیا گیا ہے۔اس کا جواب فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتا ہے’’ اپنی عورتوں کو سورہ ٔنساء اور سورہ نور کی تعلیم دو۔‘‘ ان دو سورتوں میں خاندانی تعلقات کی استواری اور معاشرتی زندگی کو پاکیزہ بنانے والے اصولوں کی تفصیل اور اہمیت پیش کی گئی ہے ۔
الٰہی احکام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں جو عملی شکل بنتی ہے، اس میں چند باتیں بہت بنیادی ہیں،مثلاً :
۱۔تخلیہ privacyکا معاملہ۔
یہ صرف گھروں میں داخل ہونے تک محدود نہیں ہے ،بلکہ اسے ایک عام حق قرار دیا گیا ہے ۔جس کی رو سے کسی کا خط اس کی اجازت کے بغیر پڑھنا ، کسی کی باتیں چھپ کر سننا سب ممنوع ہیں۔
2۔اجازت لینے کی پابندی خود اپنے گھر میں بھی ہے۔
اسلامی معاشرے میں مردوں کو یہ ہدایت ہے کہ اپنے گھر میں بھی جاتے ہوئے کھنکھار دیا کریں۔اچانک گھر میں آکر کھڑے ہو جانا پسندیدہ نہیں ہے ۔اس کیس میں بتایا گیا ہے کہ شوہر نے گھر میں ہر جگہ کیمرے لگا رکھے ہیں۔ فون پر پابندی نہیں ہے، لیکن گھر لوٹنے پر فون کی تلاشی لیتے ہیں کہ کس سے کتنی دیر کیا بات ہوئی۔ادھر بیوی شکیبہ بھی ہر تھوڑی دیر بعد سب کچھ ڈیلیٹ کرتی رہتی ہیں ۔اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ زوجین کے درمیان محبت اور اعتماد کی حد درجہ کمی ہے ۔
زوجین کو معلوم ہونا چاہیے کہ دل کا محل باہمی اعتماد اور خلوص محبت کی بنیاد پر تعمیر ہوتا ہے ۔اگر اعتماد میں ذرا بھی کمی آئی تو بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں اور پھر اس کی دیواریں گرنا شروع ہو جاتی ہیں ۔رشتے کو مستحکم پائیدار اور خوشگوار رکھنے کے لیے دونوں ایک دوسرے کی پسند اور ناپسند کاخیال رکھیں ۔
لاک ڈاؤن میں نوجوان لڑکے کو راشن گھر کی اندر لانے کی اجازت دینا بہانہ ہوگیا، اور شوہر کا شک جڑ پکڑ گیا۔ خیر تو اسی میں ہے کہ جب شک پیدا ہوجائے،ہر قدم پھونک پھونک کر رکھا جائے، تاکہ شک وشبہ کی گنجائش ہی نہ رہے۔
اس کیس میں خواتین کو قانون کا جادو سیکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے ،میرا خیال ہے کہ جادو کبھی الٹا بھی ہو جاتا ہے، جبکہ فن ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ پھر خواتین کیوں نہ وہ فن سیکھ لیں جس سے ان کی قیمتی زندگی پر سکون ہوجائے۔

Getting marriage is easy.
Staying marriage is difficult.
Staying marriage for along span of Time happily understanding each other is an ART.

3۔پدرشاہی نظام کو ختم کرنے میں مؤثرکردار کون ادا کرسکتا ہے؟
اولاد کے لیے جتنی ماں کی ممتا اہم ہے اتنی ہی باپ کی فکر ،بچوں کی پرورش تعلیم اور تربیت میں زوجین کےباہم تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔جب زوجین میں محبت اعتماد و خلوص ہوگا تو پدر شاہی کا مسٔلہ ہی نہ ہوگا۔
4 ۔شدید صورتحال میں ضرورت پڑنے کے باوجود بدنامی کے ڈر سے پولیس کی مدد نہ لینا کس حد تک درست ہے؟
خواتین کو ان کے حقوق سے متعلق الہی اور علاقائی قوانین کی خوب جانکاری ہونی چاہیے۔بھارت کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر خواتین کو اپنے مسائل گھر میں یا مسلم فیملی کونسلر یا شرعی عدالت میں ہی پیش کرنا چاہیے۔
5۔خواتین کے حقوق سے متعلق کون اور کہاں جانکاری فراہم کریگا؟
چونکہ بھارت میں جمہوری قوانین پر عمل میں کمی واقع ہورہی ہے اور اسلامی خاندانی نظام باطل کے نشانے پر ہے اس لیے انفرادی بقا سے زیادہ اسلامی بقا کے لیے مسلم معاشرے کی اصلاحی تنظیمیں آگے آئیں اور للہیت کے جذبے سے رہنمائی کریں اور مسائل کا حل ڈھونڈیں۔
ھادیہ ای۔میگزین کا جاری کیا گیا نیا کالم
’’کیس اسٹڈی‘‘پیش کیا جارہا ہے۔ اس کیس پر آپ کی رہ نمائی کیا ہے؟ہمیں لکھ بھیجیں سب سے بہترین رہ نمائی کو میگزین میں شائع کیا جائے گا۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر