بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے صرف نصیحت یا روک ٹوک کافی نہیں ہوتی ہے، بلکہ والدین کو عادی بننا پڑتا ہے ۔ بچوں کا مشاہدہ بہت تیز ہوتا ہے ۔سب سے پہلا مشاہدہ گاہ بچوں کے لیے ان کے والدین ہیں ۔عموماً والدین وہ احکامات صادر کرتے ہیں جو وہ خود نہیں کرپاتے۔ یہ رویہ درست نہیں ہے، یہ بچوں پر الٹا اثر ڈالتا ہے ۔
لما تقولون مالا تفعلون
(تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے ؟)
قرآن نے یہ حکم ہر ایک کے لیے دیا ہے ۔والدین بھی احکامات صادر کریں اور خود عمل نہ کریں تو بچوں پر اس کے برعکس اثر ہوتا ہے ۔والدین کو کچھ عملی اقدام اپنی بچوں کی بہتری کے لیے کرنا چاہیے ۔
والدین کی مستقل مزاجی کے بچوں پر اثرات
والدین کو عمل کے اعتبار سے مستقل مزاج ہونا چاہیے ۔جن باتوں کی تلقین بچوں کو کرتے ہیں ان ہی باتوں پر خود بھی عامل ہوں ۔
اچھی عادتوں کی ترویج
بری عادتوں سے کنارہ کشی کی عادت ڈالیں۔ تربیت میں سب سے اہم نکتہ کہ بچوں کو صحبت ، رویہ،سرگرمی اور زبان کے برتنےپر انتخاب کا سلیقہ سکھایا جائے ۔ عموماً والدین تربیت میں نرمی اور سوچ کی آزادی دینے سزا نہ دینے کے مفہوم کو اتنا سنجیدہ لیتے ہیں کہ ہر قسم کی روک ٹوک کو غلط سمجھتے ہیں ۔روک ٹوک ہی کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں۔ اس طرح بچوں سےکسی غلط سیکھی ہوئی بات کو اَن لرن (Unlearn) کی عادت ختم ہوجاتی ہے ۔مثلاً: اکثر ہم لوگوں کوکسی جگہ پہنچنا ہو، آفس، کالج، یا اسکول کو اپنی گاڑی دوڑانے کے لیے شارٹ کٹ کا راستہ اختیار کرتے ہیں، اور چھوٹا سا راستہ رانگ سائیڈ کاٹ کر ہم لوگ اپنے سفر کی مسافت کو کم کرلیتے ہیں ۔چاہے پیدل ہوں یا گاڑی پر، جوں ہی روڈ کی تعمیر شروع ہوجائے تو ایسے سبھی شارٹ کٹ راستوں پر نو انٹری کا بورڈ لگ جاتا ہے، چونکہ ہم عادی ہیں، ابتداء میں اسی راستے پر جانے کی کوشش کرتے ہوئے ٹرن کرلیتے ہیں، جوں ہی خیال آتا ہے کہ یہ روڈ زیرِ تعمیر ہے یا یہ شارٹ گلی بند کردی گئی ،ہم واپس لوٹ آتے ہیں۔ ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ، بالآخر ہمارا دماغ وہ راستہ بھولنے لگتا ہے اور ہم روزانہ دوسرے راستے کے عادی ہوجاتے ہیں ۔
بچوں کا دماغی میکانزم ایسے ہی کام کرتا ہے۔ وہ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ کسی کا مذاق بنانا، استاد پر پھبتیاں کسنا، دوسرے بچوں کے ساتھ تضحیک آمیز گفتگو سیکھ لیتا ہے، لیکن جب وہ گھر میں اس طرح کا عمل دہرائیں تو والدین فوراً اس پر ٹوک دیں، ان کے ساتھ ایسی گفتگو میں شامل نہ ہوں، انہیں دوسری باتوں میں متوجہ کرلیں، اس طرح رفتہ رفتہ انہیں ایسی باتوں سے بچنے کی عادت ہوجائے گی ۔
بچوں کی زبان پر توجہ دیں
بچوں کی تربیت کےلیے لازم ہے کہ بڑوں کا رویہ بچوں کے ساتھ احترام والا ہو، ان کی مخاطبت بھی پورے احترام کے ساتھ ہو، جب ہم احترام کے ساتھ انہیں مخاطب کرتے ہیں تو ہم انہیں گویا ذمہ دار بنا رہے ہیں ۔ہمارے لہجے سے انہیں احساس ہوتا ہے کہ والدین کی نظر میں میری وقعت زیادہ ہے اور وہ اپنے اس وقعت کو باقی رکھنے کی شعوری کوشش کرتا ہے ۔
غصے میں اکثر والدین بچوں کو بہت تحقیر آمیز انداز میں جھڑک دیتے ہیں۔ والدین کے تئیں یہ بات غیر اہم ہے ،اور توجیہ یہ ہے کہ غصے میں تھے اس لیے ڈانٹ دیا ،لیکن بچے کے لیے یہ تحقیر آمیز جھڑکنا زندگی بھر کا غم بھی بن سکتا ہے ۔
بچوں کی ضروریات کی تکمیل، خوش اسلوبی کے ساتھ
کئی ایک ماؤں کو خصوصاً کم عمر ناتجربہ کار مائیں اپنے بچوں کی ضرورت سے فارغ ہونے کےوقت پر معترض ہوتی ہیں ۔بچہ ماں کے کھانا کھاتے وقت اور نماز کے وقت ہی ضرورت سے فارغ ہوتا ہے۔انہیں صفائی میں دشواری ہوتی ہے۔ ایسی ماؤں کو جان لینا چاہیے کہ سگمن فرائیڈ نے اپنی تحقیق میں مشورہ دیاہے کہ’’ بچوں کی ضرورت میں جتنا ضروری ہے کہ بچوں کے کھانے کا نظم کریں ،اتنا ہی ضروری ہے کہ ان کی صفائی کا انتظام حسن و خوبی سے کریں ۔صفائی میں سب سے اہم چیز Toilet Training ہے ۔
سب سے اہم بات یہ کہ 18مہینے تک بچے کے اپنے نزدیک سب سے خوشی کا موقع اس کی فراغت کا وقت ہے۔ سگمن فرائیڈ نے والدین کو مشورہ دیا کہ بیت الخلاء کی تربیت کا انتظام کریں۔ ان کا خیال تھا کہ مناسب وقت پر بیت الخلا ءکے استعمال کے بعد مثبت رویے کے ساتھ خوش اسلوبی سے صفائی اہتمام کرنا بچے کو مسکراکر دیکھنا بچے کو بعد کے نفسیاتی مسائل سے بچا لیتا ہے۔یہاں ذکر ہے کہ عموماً ہمارے گھروں میں بچوں کی فراغت کے وقت مائیں منہ بناتی ہے۔ایک ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک ماں کھانا کھانے ہی لگی تھی کہ بچہ فارغ ہوگیا ۔کسی بڑے نے دیکھ کر ماں کو متوجہ کیا ،ماں نے جھنجلاہٹ میں بچے کو صفائی کےلیےلے جاتے ہوئے کہا کہ یہ میرے کھاتے وقت ہی تماشا بنا دیتا ہے ۔یہ جملے سننے کے بعد دل چاہا کہ اس ماں سے کہوں کہ آپ اگر جانتے کہ اس رویے کا آپ کے بچے پر کیا اثر پڑے گا، تو کبھی آپ یہ سلوک نہ کرتیں ۔بچے کو بہت پیار سے ایک طرف لے جانا، دوسرے کے سامنے تماشا نہ بنانا، اسے اعتماد میں لے کر خوشی کا اظہار کرنا، صفائی کرتے ہوئے اس کا اظہار کرنا کہ یہ عمل آپ کا ہمارے لیے بھی خوش کن ہے۔آپ جب بچوں کو ضرویات کے وقت صفائی آداب سکھاتے ہیں انہیں دوسروں کی نظروں سے ہٹاتے ہیں، آپ انہیں سیلف ڈسپلن سکھارہے ہوتے ہیں ۔
(Out Door Games آؤٹ ڈور گیمز )
باہر جاکر کھیلنا بچوںکو سب سے مضبوط سیلف ڈسپلن سکھانے کا ذریعہ ہے ۔ ٹیم کے ساتھ گیم کھیلنا، دوسروںکے ساتھ دھوکہ نہ کرنا، اپنی باری کا انتظار کرنا، گیم کے رولز کا پورا خیال رکھنا، دوسرے کی فتح پر بھی خوش ہونا، ناکامی کو برداشت کرنا، ایک دوسرے کا لحاظ کرنا، آپ ایک آؤٹ ڈور گیم میں
بیک وقت سکھادیتے ہیں ۔
آؤٹ ڈور کھیل بہت سی وجوہات کی بناء پر بہت اچھا ہے، بشمول جسمانی تندرستی اور آپ کے بچے کو فطرت اور اپنے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ کھیل کے میدان میں دشمنیاں بھی پیدا ہوجائیں،بچوں میں لڑائی بھی ہوجائے، اس احسن طریقے سے سلجھا کر آپ بچوں کی تربیت کرتے ہیں ۔
ان ڈور گیمز
ان ڈور گیمزکیسے بچوں میں تربیت کرتے ہیں۔ اس پر پورا مضمون ایجوکیشنل گیمز اور ہوم اسکولنگ پر لکھےجاچکے ہیں ،تاہم یہاں یہ ضرور ذکر کرنا چاہیں گے کہ بچوں کے ساتھ والدین کو ان ڈور گیم میںشامل ہونا چاہیے۔ یہ موقع ہوتا ہے جب آپ بچے کو بہت کچھ سکھادیتے ہیں اور بچے کےفطری رجحان کی اسٹڈی کرسکتے ہیں ۔
بچے کی دلچسپی، اس نے آج کیا نیا سیکھا؟ وہ کس طرح کا رویہ رکھتا ہے ؟یہ جتنا آسان بچے کو کھیلنے کا موقع ان ڈور گیم دیتا ہے، اتنی کہیں اور میسر نہیں آتا ۔
آپ کے گھر میں موجود کوئی بھی رکاوٹیں، یا چڑھنے یا جمپنگ کا سامان ترتیب دیں یا استعمال کریں۔ بچوں کی جمپنگ، یا پنچنگ پلو ( تکیہ جس پر بچہ اپنا غصہ نکال سکیں ) بعض بچے کھلونے توڑ کر دیکھتے ہیں، یہ بھی نقصان دہ نہیں ہے ،بچوں میں پل رہے تجسس کو ظاہر کرتا ہے ۔
چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ترتیب سے رکھنے کی عادت
کھلونوں کو ترتیب سے لگانا، آپ بچوں کو ابتدائی تین سال میں سکھاتے ہیں ۔وہ ترتیب بچے میں تنظیم اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہے ۔مثلاً آپ کسی کے گھر جائیں تو بچوں کو اپنے شوز کو ترتیب سے رکھنے پر متوجہ کریں ۔یہ بھی غور کریں کہ بچہ پہلے آپ کے پیر کو دیکھتا ہے کہ آپ کس توجہ سے شوز کو ترتیب سے اتارتے ہیں وہ بالکل ایسا ہی کرنے لگتا ہے ۔جب بچہ اس طرح آپ کو مشاہدہ کررہا ہوتو اسے بالکل ہلکا نہ لیں جان لیں کہ اس کی تربیت کی ذمہ داری آپ پر بہت بڑی ہے ۔بچے کا مشاہدہ تیز ہوتو آپ کی لاپرواہی بچے کی لاپرواہی بنے گی۔ آپ کی ترتیب و تنظیم بچے کی شخصیت کا حصہ بنے گی۔
جاری

ویڈیو :

آڈیو:

4 Comments

  1. انوار سلیم

    “یک ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک ماں کھانا کھانے ہی لگی تھی کہ بچہ فارغ ہوگیا ۔کسی بڑے نے دیکھ کر ماں کو متوجہ کیا ،ماں نے جھنجلاہٹ میں بچے کو صفائی کےلیےلے جاتے ہوئے کہا کہ یہ میرے کھاتے وقت ہی تماشا بنا دیتا ہے ۔”
    یہ بات کافی باریک بینی سے بیان کی ہے اور آجکل ہم اسکا مشاہدہ اپنے گھروں میں روز کرتے رہتے ہیں
    اس سلسلے میں میرا ماننا ہیکہ جب ایک عورت ماں بننے کے قریب ہو بالخصوص پہلی دوسری بار ماں بننے کا مرحلہ ہو تو گھر کی جو سمجھدار بڑی خواتین ہیں جنکو بچوں کی تربیت کا اچھا سلیقہ ہے یا ایسی لڑکیاں بھی جو تربیتی امور پر خاص مہارت رکھتی ہیں وہ “بننے والی ماں” کو وقتا فوقتا ان کے پاس جا جا کر انکو تربیت دیتی رہیں ۔اس طرح کرنے سے میں سمجھتا ہوں کہ کافی حد تک تبدیلی آ سکتی ہے
    ہمارے معاشرے کی ایک بڑی خرابی یہ بھی ہیکہ ہمارے یہاں لڑکیوں کی شادی انکی فزکل گروتھ کی بنیاد پر کی جاتی ہے جبکہ میری تحقیق میں یہ بات شامل ہیکہ ایک بچی کو فزکل گروتھ کے ساتھ ساتھ مینٹلی پریپئر اور فٹ ہونا چاہئے۔کیونکہ شادی کے بعد ایک لڑکی پر بہت ساری ذمہ داریاں ایک ساتھ آن پڑتی ہیں جس میں بہت سی ذمہ داریاں غیر ضروری اور اسکی ذاتیات سے غیر متعلق ہوتی ہیں لیکن لڑکی کو سبھی ذمہ داریوں کو بحسن خوبی نبھانا ہوتا ہے اور اس نئ بہو سے خاندان کے افراد بھی یہی امیدیں باندھ لیتے ہیں پھر وہ نئ بہو کم خدمت گزار یا باندی زیادہ لگتی ہے۔
    الغرض بہت سارے چھوٹے چھوٹے پہلو ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے بولا جا سکتا ہے اور ٹیبل ڈسکس کیا جا سکتا ہے
    ذاتی طور پر مجھے آپکا مضمون اچھا لگا اور بالخصوص وہ حصہ جسکو میں نے نشان زد کرکے شروع میں لکھا ہے
    آپ لوگ لکھتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے کہ اتنی ساری ذمہ داریوں اور مصروفیات کے باوجود آپ لوگ یہ سب کر لیتے ہیں
    آپکی پوری ٹیم کے لئے میری طرف سے نیک خواہشات ،ڈھیر ساری دعائیں اور آپکے لئے مبارکباد
    تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار

    تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار

    تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار

    تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار

    کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے

    Reply
  2. انصاری بشری

    بہت ہی کارآمد اور عمدہ تحریر بہت سی باتیں ہیں جو تربیت پر اثر انداز ہوتیں ہیں خصوصا جوائنٹ فیملی سسٹم مائیں اچھی تربیت کر بھی رہیں ہوں تو گھر کے دیگر افراد اس میں اکثر ماں کی ٹانگ ہی کھینچ رہے ہوتے ہیں اس سے بچوں پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بچوں کی تربیت جوائنٹ فیملی میں اس موضوع پر بھی کچھ تحریر کریں تو احسن ہوگا۔۔۔۔

    Reply
    • مبشرہ فردوس

      جزاک اللہ خیرا کثیرا
      ان شاءاللہ ضرور. ۔۔۔آپ اس پر ھادیہ کے زمرے خواتین کی معاشرتی الجھنیں میں سوال بھی بھیج سکتی ہیں۔۔

      Reply
  3. Saleha

    بہت زیادہ فائدے مند اور دلچسپ رہا

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر