خواتین نصف آبادی ہیں۔قرن اول میں خواتین سماجی کاموں میں ایکٹیو رہی ہیں ،لیکن بدقسمتی سے عصر حاضر میں ان کا رول بہت ہی کم دیکھنے کو مل رہا ہے۔خواتین کی مسجد میں آمد پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن عام طور پر اس موضوع پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں؛ وہ فقہی نوعیت کی ہوتی ہیں۔اس کے برعکس 32صفحات کی زیر تبصرہ کتاب ’’مساجد میں خواتین کی آمد(ایک تاریخی و فقہی مطالعہ)‘‘ نصف انسانیت کی عمومی اصلاح کی غرض سے لکھی گئی ہے،اگرچہ کتابچہ کو دو حصوں، فقہی اور تاریخی میں تقسیم کیا گیا ہے، لیکن بنیادی مقصد نصف انسانیت کی اصلاح ہے۔کتاب کے مصنف علمی گھرانے کے چشم و چراغ مولانا الیاس نعمانی ہیں۔کتابچہ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
’’یہ ایک ایسے مسئلہ سے اعتنا ہے جس پر راقم کے نزدیک امت کے اس آدھے حصہ (خواتین) کی عمومی اصلاح و تربیت کا بڑی حد تک مدار ہے؛ جس کی آغوش میں امت کا مستقبل یعنی نسل نو کو پروان چڑھنا ہے۔‘‘ (صفحہ : 5)
پہلے باب ’’مساجد اور خواتین (عہد نبوی سے اب تک کا ایک تاریخی مطالعہ)‘‘میں مصنف نے امت مسلمہ میں مسجد کی اہمیت اور حیثیت بیان کی ہے کہ مسجد تعلیم گاہ بھی ہے اور تربیت و تزکیہ کا مرکز بھی، جہاں مختلف محفلیں لگتی ہیں، یعنی ایک بستی کی زندگی مسجد ہے۔ پھر مصنف نے دکھایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں خواتین کس طرح مساجد میں اچھی خاصی تعداد میں شرکت کرتی تھیں۔اس کا ثبوت مسلم شریف کی حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دور نبوی میں خواتین کی کئی صفیں مسجد نبوی میں نماز ادا کرتیں۔مصنف لکھتے ہیں:
’’خیال رہے کہ یہ صفیںخاصی لمبی ہوتی تھیں، اس لیے کہ مسجد نبوی کی اولین تعمیر کے وقت ہی مسجد کی چوڑائی تیس میٹر تھی، اور غزوہ خیبر کے بعد جب مسجد کی توسیع ہوئی تو مسجد کی چوڑائی پچاس میٹر ہوگئی۔ایک میٹر میں بسہولت دو خواتین نماز کے لئے کھڑی ہوتیں، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نماز باجماعت میں خواتین کی کتنی تعداد شریک ہوتی تھی۔‘‘ (صفحہ : 9)
بلکہ بخاری شریف کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین رات کی نفل نمازیں بھی دیر تک مسجد میں پڑھتی تھیں ، اسی طرح ابن ماجہ کی روایت میں ایک سیاہ فام خاتون کا بھی تذکرہ ملتا ہے جو مسجد نبوی میں جھاڑو لگاتی تھیں، مصنف لکھتے ہیں کہ دور نبوی میں بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کواپنی خواتین کو مساجد میں بھیجنے میں تردد تھا، لیکن نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیمات تھیں کہ ’’اللہ کی بندیوں کو مسجد آنے سے نہ روکو۔‘‘ لہذا کوئی بھی صحابی اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہیں روکتا تھا، یہ وہ دور تھا جب کفار اور منافقین مسلمانوں کو تنگ کرتے، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کا مساجد جانا جاری رکھا، اس کے بعد مصنف طبقات ابن سعد، مسند احمد کی روایات سے ثابت کرتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے دور میں بھی خواتین مساجد جاتیں، اس سلسلے میں مصنف اس بات کا جائزہ لیتے ہیں جو بات بہت مشہور ہوگئ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں خواتین کو مسجد آنے سے روکا گیا، مصنف لکھتے ہیں کہ جس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نماز کی امامت کراتے ہوئے مسند احمد کے حوالے سے حملہ کیا گیا اس وقت ان کی اہلیہ مسجد میں ہی نماز ادا کر رہی تھیں۔مسند احمد کی صحیح حدیث بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حیات طیبہ میں جو آخری نماز مسجد نبوی میں ادا فرمائی تھی، جس میں ان پر جان لیوا حملہ ہوا تھا؛ اس نماز میں بھی ان کی اہلیہ مسجد میں موجود تھیں۔ظاہر ہے اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالی ٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں خواتین کی مسجد آمد پر پابندی لگا دی ہوتی تو ان کی آخری باجماعت نماز میں ان کی اہلیہ مسجد میں کیسے موجود ہوتیں۔‘‘(صفحہ : 11)
صحیح مسلم کی ایک روایت جس کا تعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے سے ہے؛ مصنف لکھتے ہیں:
’’ایک اور روایت بھی ( جس کا تعلق بھی حضرت عمر فاروقؓ کے ہی گھرانے سے ہے ۔) یہ ثابت کرتی ہے کہ خواتین کی مسجد حاضری پر کوئی ممانعت نہیں کی گئی تھی ، یہ روایت صحیح مسلم ودیگر کتب حدیث میں درج ہوئی ہیں ، اس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث نبوی نقل کی کہ: ’’اگر تمھاری خواتین مساجد میں حاضری کی اجازت تم سے چاہیں تو انہیںمنع نہ کرنا ، یہ سن کر ان کے صاحبزادے حضرت بلال بن عبداللہ نے عرض کیا کہ ’’بخدا ہم تو روکیں گے۔‘‘حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے اپنے بیٹے کی زبان سے یہ بات سنی تو ان پر ایسی سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ان کے ایک اور صاحبزادے حضرت سالم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد کوایسے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کبھی اور نہیں سنا، پھر فرمایا: ’’میں تمہیں رسول اللہﷺ کا کاارشاد سناتا ہوں اور تم کہتے ہو کہ بخدا ہم تو روکیں گے۔‘‘اسی حدیث کی مسند احمد کی روایت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے ان صاحبزادے سے ایسے ناراض ہوئے کہ پھر وفات تک ان سے گفتگو نہیں فرمائی ۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں بتاتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں خواتین کی مسجد حاضری پر پابندی نہیں لگائی تھی ، اس لیے کہ اگر یہ پابندی لگ گئی ہوتی تو کبھی بھی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور ان کے صاحبزادے کے درمیان یہ گفتگو نہ ہوئی ہوتی ، اور نہ آپ اپنے صاحب زادے پر اس طرح خفا ہوئے ہوتے ۔ حضرت عمر ؓکی جانب اس پابندی کی نسبت کے غلط ہونے کا ایک اور ثبوت عہد عثمانی میں تراویح کی نماز میں خواتین کی حاضری بھی ہے۔(صفحہ : 12)
بہر حال ان تمام دلائل وروایات سے یہ بات بالکل ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب خواتین کی مسجد آمد پر پابندی لگائے جانے کی نسبت بالکل غلط ہے ۔ حیرت ہے ان روایات کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات پھیلائی جاتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں خواتین کے مساجد پر پابندی لگائی گئی، اس باب میں مصنف نے خلافت راشدہ کے بعد کئی محدثات کا تذکرہ کیا ہے ،جو مساجد میں حدیث کا درس دیا کرتی تھیں، اس باب سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کی مسجد آمد کا سلسلہ عہد نبوی کے بعد بھی جاری رہا، یہ سلسلہ آج تک عالم اسلام کے اکثر حصہ میں جاری ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے اس کو ممنوع قرار دیے جانے کی جو بات ہمارےیہاں شہرت پا گئی ہے، بےدلیل و بے بنیاد ہے۔
کتاب کے دوسرے باب میں مصنف نے مساجد میں خواتین کی آمد کےشرعی حکم کے بارے میں مختصر مگر جامع بحث کی ہے۔مصنف کہتے ہیں کہ فقہائے اسلام کی اکثریت چند شرطوں کے ساتھ مساجد میں خواتین کو اجازت دیتی ہے، البتہ احناف کے یہاں اس سلسلے میں دو رائیں پائی جاتی ہیں۔متقدمین کے بعض اقوال اس کو جائز قرار دیتے ہیں، مثلاً امام سرخسیؒ نے اپنی کتاب المبسوط میں امام ابوحنیفہ ؒکے حوالے سے خواتین کے لیے مسجد میں اعتکاف جائز کہا ہے، مصنف نے اعتراض کرنے والوں کے ہر اعتراض کا تشفی بخش جواب دیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ دیگر فقہا کی مانند متقدم فقہائے احناف بھی اس کو جائز مانتے تھے۔ آج بھی ترکی ، مصر و عراق جیسے ممالک میں علمائے احناف خواتین کو مسجد آنے سے نہیں روکتے۔ ہمارے اصحاب افتاءخواتین کے لیے مسجد حاضری کو ممنوع ( مکروہ تحریمی ) قرار دیتے ہیں، اس فتوے کی بنیاد صر ف ’’فتنےکا اندیشہ ‘‘ہے۔اس سلسلے میں مصنف نے فتنہ کے اندیشہ کو کم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چار تدابیر کی ہیں؛ ان کو بیان کیا ہے۔اس باب میں مصنف لکھتے ہیں؛ کیا یہ جو فتنہ کا اندیشہ کہا جاتا ہے،کیا یہ واقعی اتنا شدید فتنہ ہے؟ لکھتے ہیں:
’’ہمارے ملک میں سیکڑوں بلکہ شاید ہزاروں مساجد میں خواتین حاضر ہوتی ہیں، پورے عالم اسلام میں ایسی بلامبالغہ لاکھوں مساجد ہوں گی لیکن وہاں اس طرح کا فتنہ نظر نہیں آتا۔‘‘ (صفحہ : 20)
خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی میں خواتین حاضر ہوتی ہیں،وہاں کوئی فتنہ نہیں ہوتا۔مصنف مزید لکھتے ہیں کہ:
’’ گذشتہ چند دہائیوں میں ہمارے یہاں طالبات کے مدارس بڑی تعداد میں قائم ہوئے ہیں ،جن میں بلا مبالغہ روزانہ لاکھوں طالبات تعلیم حاصل کرتی ہیں اور ہزاروں مدرسات پڑھاتی ہیں لیکن اس قدر فتنہ کہیں نظر نہیں آتا۔‘‘(صفحہ : 20)
اسی طرح دینی جلسوں،دروس قرآن میں خواتین آتی ہیں لیکن فتنہ نہیں ہوتا، مصنف لکھتے ہیں:
’’فتنہ کی جس’’شدید نوعیت‘‘کی بنیاد پر خواتین کی مسجد حاضری کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے، وہ ہمیں حقیقت واقعہ میں کہیں نظر نہیں آتی بلکہ ایک موہوم شے ہے۔‘‘ (صفحہ : 20)
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خواتین کی مسجد حاضری ضروری نہیں تو پھر کیا ضرورت ہے کہ خواتین مسجد آئیں، کتاب کے تیسرے باب میں مصنف نے اسی مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے۔لکھتے ہیں:
’’اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہترین تعلیم گاہ، تربیت کدہ اور دعوتی مرکز ہے، اس میں نہ آنا اصلاح، تعلیم وتربیت کے بے بدل نظام سے محرومی ہے، ہمارے آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی مسجدیں اپنا یہ کردار ادا کرتی ہیں، آپ کو مسجد میں جتنے حضرات نماز کے پابند نظر آتے ہیں ان سے دریافت کیجیے کہ نماز اور دیگر دینی احکام کی پابندی کا یہ ذوق ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوا؟ دین داری کا یہ رجحان ان کے اندر کیسے پنپا؟ اکثریت کا جواب آپ کو مسجد کے اس کردار کا پتہ دے گا، وہ مسجد کے ماحول اور اس میں ہونے والے بیانات کا تذکرہ کریں گے۔‘‘(صفحہ : 22)
مصنف مزید لکھتے ہیں:
’’ مسجد کے اس ’’خیر‘‘سے استفادہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے کتنا ضروری اور مفید ہے اس کا اندازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہدایت سے ہوتا ہے، عید کی نمازوں میں خواتین کی شرکت کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت تاکید کے ساتھ دیتے تھے، ایک صحابیہ نے غالباً اسی مؤکد حکم کی وجہ سے دریافت کیا کہ اگر کسی خاتون کے پاس جلباب (اوڑھنی) نہ ہو اور اس وجہ سے وہ عید کی نماز میں شرکت نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ تو نہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی اور خاتون اسے جلباب دے دے، اور وہ اس موقع کے ’’خیر‘‘ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو۔(بخاری:324)‘‘(صفحہ : 24)
اس باب میں مصنف امت مسلمہ کی توجہ اس طرف دلاتے ہیں کہ عمومی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کا رخ مسجد کی طرف ہو وہ دینی معاملات میں ایکٹیو حصہ لیں، لکھتے ہیں:
’’ مردوں کی طرح خواتین کی عمومی دینی اصلاح کے لیے بھی مسجد کا وجود اور وہاں ان کی حاضری لازمی وضروری ہے، اس کا کوئی قابل عمل متبادل نہیں ہے۔‘‘مصنف ان حضرات کو جواب دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ خواتین کے لیے مسجد کے علاوہ بھی کہیں ایسی مجلسیں منعقد ہو سکتی ہیں جیسے کوئی گھر وغیرہ۔
-1جس طرح مردوں کے لیے کوئی اور مقام مسجد کا کامیاب وعملی طور پر آسان متبادل نہیں ہوسکتا اسی طرح خواتین کے لیے بھی نہیں ہوسکتا،
تجر بہ اس کا شاہد ہے۔
-2 کیا آپ کو جس فتنہ کا ڈرمسجد میں خواتین کی آمد سے لگ رہا ہے، وہ کسی اور مقام پر جانے سے مانع نہ ہوگا ؟ یہ کیسا فتنہ ہے جو مدارس و اسکولوں میں جانے سے مانع نہیں ہوتا؟ کسی پڑوسی کے گھر میں جانے سے نہیں روکتا؟ کسی دینی جلسہ اور درس کے حلقہ سے باز نہیں رکھتا ، بس مسجد کا نام آتے ہی ہمیں اس کی موہوم شدید نوعیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔‘‘(صفحہ : 25)
زیرِ تبصرہ کتاب میں کہیں بھی مناظرانہ طریقۂ کار نہیں اپنایا گیا ہے بلکہ یہ دل کی پکار لگتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف اصلاح معاشرہ کے تئیں بہت فکر مند ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ تعمیر معاشرہ میں خواتین نہایت ہی اہم رول ادا کر سکتی ہیں۔
یہ کتاب وقت کی اہم ضرورت ہے، اللہ کرےکہ یہ کتابچہ امت مسلمہ کو اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانے میں اہم رول ادا کرے۔کتاب مکتبہ احان، لکھنؤ نے شائع کی ہے۔کتابچہ کی قیمت 30 روپے ہے۔فون نمبر
9793118234 سے حاصل کیاجا سکتا ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

7 Comments

  1. سہیل بشیر کار*

    بہترین کتاب

    Reply
  2. سلیم منصور خالد

    مولانا الیاس نعمانی صاحب کی اس دل پذیر اور ایمان افروز اذان کا جواب جناب سہیل بشیر کار نے ایمانی وادفتگی سے دیا ہے۔
    مقالے کو تبصرے میں سمو دیا ہے 🌷

    Reply
    • سالم برجیس

      یہ کتاب واقعی عمدہ ہے اور اس لائق ہے کہ اسے ہر ہر خواتین تک پہنچایا جائے، بلکہ علوم اسلامیہ کے ہر طالب علم کے مطالعہ کی زینت بنے۔
      مولانا احمد الیاس نعمانی ندوی مدظلہ العالی اولا تو میرے استاذ و مربی ہیں۔ آپ کو علوم اسلامیہ میں درک حاصل ہے ۔ ان معاصر موضوعات پہ ایسے تحقیقی مقالات لکھنا آپ ہی کا خاصہ ہے۔
      دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے اور امت کے لیے نافع بنائے۔ آمین

      Reply
  3. مبشرہ فردوس

    تبصرہ اتنا عمدہ ہے کہ فورا کتاب آڈر کیا جزاک اللہ خیرا کثیرا

    Reply
    • سلیم منصور خالد

      ماشا اللہ،☘️

      Reply
  4. ک۔ر۔ فیضی

    بہت عمدہ

    Reply
  5. سہیل بشیر کار*

    کمنٹ کرنے والے سبھی کا شکریہ

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر