مال و دولت کو انسان مختلف طریقوں اور حیلے بہانوں سے اڑاتا رہتا ہے،اور اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اطراف میں کچھ ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جو دو وقت کا کھانا بھی سیر ہو کر نہیں کھا سکتے۔ غذائی اجناس کا ضیاع صرف مالدار ہی نہیں کرتے ہیں، یہ اوسط درجہ کے اور بہت سےمفلس و محتاج لوگ بھی کرتے ہیں۔
غذا انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے ،اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بنیاد ی ضرورت سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی لوگ محروم ہیں۔ انسان کو غربت کے ساتھ ساتھ بے روزگاری نے بھی اس حد تک بے بس ومجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی اس بنیادی ضرورت کی تکمیل کا سامان بھی نہیں کرپارہا ہے۔
ایک طرف تو یہ لوگ ہیں جو انتہائی بنیادی ضرورت سے اس حد تک محرومی کا شکار ہو رہے ہیں کہ غذائی اجناس کی کمی کے باعث بعض اوقات موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں ،اور دوسری طرف شادی بیاہ و دیگر تقریبات کے موقعوں پر انواع و اقسام کے کھانے پینے میں اسراف اور اسکا ضیاع فیشن سمجھا جارہا ہے ۔
ولاتبذر تبذیرا ° ان المبذرین کانوا اخوان الشیطین ،و کان الشیطن لربہ کفورا °(بنی اسرائیل26,27 )
(اور مال و دولت کو بے جا نہ اڑاؤ۔ واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ مال بے جا اڑاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان خدا کا بڑا ہی نا شکرا ہے۔ )
قرآن کے صریح حکم کے باوجود اکثر جاننے والے لوگ بھی اس معاملے میں غافل پائے جاتے ہیں۔اکثر اسلامی ملکوں میں جہاں شاہی نظام قائم ہے، وہاں ہم نے یہ بے عملی پائی ہے۔ سوشل میڈیا پر شیخوں کی ضیافتوں کی تصاویر دیکھیں تویوں لگتا ہے کہ ان کی ضیافت میں دنیا جہاں کے انواع و اقسام خوان پر چن دئیے گئے ہوں ۔ اسلام تو پڑوسی کے بھوک کا بھی آپ کو خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے ،جبکہ اسی ملک میں بے شمار بھوکے تنگ دست، غریب اور مفلس لوگ بستے ہیں ۔
بھارت میں بھی مختلف اور کئی اقسام کے کھانوں کا فیشن چل پڑا ہے ۔
غر ض یہ کہ غذائی اجناس کا ضیاع مختلف تقریبات میں ہوٹلوں اور پارکوں میں، یہاں تک کہ گھروں میں بھی مہمانوں کی آمد ہو یا روزمرہ کی بات ،معمول کی بات ہوگئی ہے۔
غذائی اجناس کا ضیاع آج انسانیت کو درپیش مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ،کیونکہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں بنائے جانے والے تمام کھانے میں سے ایک تہائی ضائع ہو جاتا ہے۔کھانا ضائع ہونے کا مطلب صرف کھانا ضائع ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیسہ ، پانی، توانائی، زمین اور ذرائع آمد ورفت، ہر چیز ضائع ہو رہی ہو۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کھانا کھاتے تو انگلیوں کو چاٹ لیتے اور آپ فرماتے تھے کہ جب کسی کا لقمہ گر پڑے تو اس کا گندا حصہ علیحدہ کرے اور اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ اور آپﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پوچھ لیں رکابی کو اور فرماتے تھے کہ’’ تم نہیں جانتے کس کھانے میں تمہارے لئے برکت ہے۔‘‘( ترمذی)
ﷲ کے رسول ﷺ نے غذا کے بارے میں تاکید فرمائی کہ اس کا ضیاع نہیں کرنا چاہیے، حتیٰ کہ دسترخوان پر گرے روٹی کے ٹکڑے کے بارے میں بھی فرما دیا کہ اسے صاف کر کے کھا لینا چاہیے۔
احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوراک ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کا حساب لیا جائے گا۔ جو لوگ غذا کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں ،ان کایہ عمل ان کے حق میں خیروبرکت اورخوشحالی کا باعث بنتا ہے۔ آج ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر خوراک کو ضائع ہونے سے بچایا جائے تو اس کے کیا فائدے ہو ں گے۔
ہر سال دنیا میں جو خوراک ضائع ہو جاتی ہے، اس کے بارے میں اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 1.3 ارب ٹن خوراک ہے،اور اسے بچا کر استعمال میں لانا ممکن ہے۔ یعنی ہر سال دنیا میں جتنی خوراک ضائع ہو جاتی ہے، وہ دنیا بھر کی خوراک کی پیداوار کا ایک تہائی ہے۔ یہ اتنی ہے کہ جتنے لوگوں کو صحیح خوراک میسر نہیں نہ صرف اِن لوگوں کے لیے،بلکہ ان سے چارگنا زیادہ بھوک زدہ لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہے۔یعنی آج بھی دنیا میں اتنی خوراک پیدا ہو رہی ہے جو کہ دنیا میں موجود آبادی کی ضرورت سے زیادہ ہے، لیکن اس کے باوجود ضائع ہو نے کی وجہ سے دنیا کے 81 کروڑ سے زائد افراد بھوک کےشکار رہتے ہیں۔
خوراک کی کمی کے باعث بچوں میں پائی جانے والی کمزوریوں کے اعداد و شمار نہایت افسوسناک ہیں۔ سروے کے مطابق 2018ء میں دنیا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 21.9 فیصد (تقریباََ ڈیڑھ کروڑ ) بچوں کا قد ،خوراک کی کمی کے باعث چھوٹا رہ گیا تھا،اور 7.3 فیصد بچوں کا وزن قد کی نسبت سے کم تھا ۔
اقوام متحدہ نے سات سال پہلے اپنے پختہ عزم کا اعلان دنیا کے سامنے کیا تھا کہ وہ 2030 ءتک بھوک کا خاتمہ کر دے گا تاکہ انسانی آبادی بھوک کی لعنت سے محفوظ رہ سکے۔ اس اعلان کے الفاظ بڑے امید افزا تھے اور عالمی برادری نے اس سلسلہ میں ہر قسم کا تعاون پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا، لیکن اس کےباوجود دنیا کو شدید غذائی بحران کا مسئلہ درپیش ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ہم اگر خود اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیموں کے ذریعہ پیش کیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو صورت حال کی بہتر تصویر ابھر کر سامنے آ سکتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے جو اعداد و شمار پیش کیے تھے ،ان کے مطابق ہر رات 82 کروڑ 80 لاکھ لوگ بھوکے سوتے ہیں۔ 2019 ءمیں جو لوگ سخت غذائی مسائل سے دوچار تھے، ان کی تعداد 13 کروڑ 50 لاکھ تھی جس میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور اب ان کی تعداد 34 کروڑ 50 لاکھ پہنچ گئی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق 45 ملکوں میں بسنے والے5 کروڑ لوگ بھکمری کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف ضرورتیں بہت بڑھ گئی ہیں، وہیں دوسری طرف اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مطلوب وسائل میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ2022 ءمیں15 کروڑ 20 لاکھ لوگوں تک غذا پہنچانے کے لیے 22.2 ارب ڈالر کی ضرورت پڑے گی۔ کورونا سے قبل 13 کروڑ 50 لاکھ لوگ بھوک کی مار جھیل رہے تھے۔ اس میں اب 55 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے۔
غذائی اجناس کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
مختلف تقریبات کے موقعوں پر نام و نمود کی خاطرانواع و اقسام کے کھانوں کی بجائے ایک یا دو قسم کے ہی کھانے تیار کیےجائیں۔
جتنے لوگوں کو مدعو کیا جارہا ہے اتنے ہی لوگوں کے لئے تیار کریں، زائد مقدار میں کھانے تیار نہ کریں۔
ان تقریبات میں شرکت کرنے والےا ﷲکے رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے پلیٹ صاف کر کے کھائیں۔عموماً مرد شان تفاخر جتانے اور خواتین نزاکت بتانے کے لئے پلیٹ میں کھانا بچا دیا کرتی ہیں۔ اس لئے اپنی پلیٹ میں پہلے ہی ضرورت بھر ہی لیں یا زائد ہے تو کم کروا لیں۔
کبھی گرم کھانے کے لئے تو کبھی مزید گوشت کی بوٹیوں کے لئے تو کبھی تری و مسالوں کے لئےپہلا ٹھنڈا کھانا بغیر ختم کیے پلیٹ میں یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اس وقت بھی ا ﷲ کے رسول ﷺ کی حدیث یاد کرلیں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے۔
اگر کھانے کے لئے ہوٹل میں جائیں تو بچا ہوا کھانا ساتھ لے آئیں۔
اگر آپ صرف تازہ کھانا کھانے کے عادی ہیں، تو گھر کے افراد کی ضرورت بھر ہی کھانا تیار کریں۔ (اب مانگنے والے بھی کھانا نہیں بلکہ پیسے مانگتے ہیں۔)اگر بچ جائیں تو اگر آپ کے شہر میں روٹی بنک یا فوڈ پوائنٹ وغیرہ نام سے چیریٹی سینٹر ہوں تو وہاں دیا جا سکتا ہے (جہاںضرورت مند افراد کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔) اور اگر ایسے سینٹر آپ کے قرب وجوار میں نہیں ہیں تو اس بچے ہوئے کھانے سے دوسری کوئی چیز تیار کی جاسکتی ہے۔یوٹیوب پرمختلف قسم کے بچے ہوئے کھانے کو تازہ کرنے اور ایک نئی ڈش تیار کرنے کے بہت سے نسخے موجود ہیں۔
اگر آپ کے پاس روزانہ سبزی والا آتا ہو، یا آپ واک کرتے ہوئے سبزی منڈی جا کر خریدنے کے عادی ہوں تو زیادہ اسٹاک نہ کریں۔ لیکن اگر آپ 10 سے 15 دن یا اس سے زائد کی سبزیاں خریدتے ہیں تو ان کو اچھے طریقے سے اسٹور کریں ،تاکہ وہ گل سڑ کر جلد خراب نہ ہو جائیں۔ ہر ی ترکاریوں کو صاف کر کے ائیر ٹائٹ ڈبہ یا ٹرانسپیرنٹ کیری بیگ میں پیک کر کے رکھیں۔
پیاز، لہسن، آلو روم ٹمپریچر میں ہی جالی کی ریک یا ٹوکریوں میں رکھیں ۔ہر دوسرے یا تیسرے دن دیکھتے رہیں کہ کہیں سبزی ترکاریوں کا کوئی حصہ خراب تو نہیں ہو رہا،تاکہ وقت پر اتنے ہی حصہ کو نکالا جا سکے ،کیونکہ وہ باقی سبزی کو بھی خراب کر دیتا ہے ۔
غذائی اجناس کی قلت اور اس کے ضیاع کا مسئلہ صرف ملکی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانیت کو لاحق ہے۔ ہمیںکم از کم اپنا حصہ غذا کے ضیاع سے بچانے اور کسی ضرورت مند بھوکے کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا دینا چاہیے۔ اور ہر گھر جب اس کا اہتمام کرنے لگے گا تو ان شاءا ﷲ ضرور اس عالمی بحران سے ہم نجات پا سکتے ہیں ۔

ویڈیو :

آڈیو:

ہر سال دنیا میں جو خوراک ضائع ہو جاتی ہے، اس کے بارے میں اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 1.3 ارب ٹن خوراک ہے،اور اسے بچا کر استعمال میں لانا ممکن ہے۔ یعنی ہر سال دنیا میں جتنی خوراک ضائع ہو جاتی ہے، وہ دنیا بھر کی خوراک کی پیداوار کا ایک تہائی ہے۔ یہ اتنی ہے کہ جتنے لوگوں کو صحیح خوراک میسر نہیں نہ صرف اِن لوگوں کے لیے،بلکہ ان سے چارگنا زیادہ بھوک زدہ لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہے۔

4 Comments

  1. عظیم اللہ خان

    ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ تحریر وقت کی ضرورت ہے

    Reply
  2. کاشف عمران

    بہت اہم موضوع پر اہم مضمون لکھا ہے آپ نے. جزاک اللہ

    Reply
  3. Dr.Imran Ahemad Khan Aurangabad

    Masha Allah Bahot khoob,
    Allah khoob ilm me izafa ataa fermaye Aameen

    Reply
  4. Shakera tabassum

    ماشاءاللہ بہت اچھی یاد داہانی کروای آپ نے اسطرح جو فکشن میں کھانے کا اسراف ہوتا ہے اس کے لے ھمیں خود اقدام کرنا ہوگا ,پلے کارڈ یا پوسڑ پر کھانا کے اسراف اور ضائع سے متعلق حدیث کوڈ کرکے دکھایے جاے.

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر