تیز آندھی کے جھکڑ چلتے رہے
صبح و شام
بوڑھے برگد کے پتے اُڑتے رہے
گرتے رہے
آندھی کا زور بڑھتا گیا
بوڑھے برگد کی شاخوں کو اُلجھا گیا
آخر کار
بوڑھا برگد تھکن سے چور ہوگیا
لیکن
اپنی زمین اس نے اب بھی نہیں چھوڑی
جبکہ
اکناف میں سارے درخت
زمیں بوس تھے
آندھی نے حیرانی سے پوچھا
اے بوڑھے شجر!
بتا ذرا
ہے یہ کیا ماجرا؟
اپنے پھل پھول شاخیں پتے
سب کھو دیئےتم نے
پھر بھی کھڑے ہو؟
بوڑھا برگد مسکرایا
میں جانتا ہوں
تم گرا سکتی ہو پتوں کو میرے
اور توڑ سکتی ہو شاخوں کو میرے
لیکن
میری جڑوں کی گرد کو پا بھی نہیں سکتی
میری جڑیں
جو میری تخلیق کے ساتھ پروان چڑھی ہیں
بہت گہرا ہے شکنجہ اُن کا
زمیں میں تہہ در تہہ
اور
شکریہ تمہارا
مجھے ابھی خبر ہوئی
’’میں کتنا طاقتور ہوں ‘‘
پتہ ہے یہ جو بوڑھا برگد ہے نا ؟یہ تو در اصل استعارہ ہے ایک والد کا ،میرے والد کا ۔گردشِ دوراں کی تیرہ و تاریک آندھیوں نے جن کی جڑوں میں سمانے کی بہت کوششیں کیں، لیکن وہ اسکی گرد کو بھی پا نہ سکیں۔ یہ بوڑھا برگد’’ آئے ایم دا اسٹورم‘‘( میں ہی طوفان ہوں )کہہ کر ڈ ٹا رہا ۔
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
میرے پاپا ،میرے آئیڈیل پاپا ۔ آئیڈیل یعنی وہ جو قابل تقلید ہو۔جو رول ماڈل ہو، ہر والد کے لیے۔عامر خان نے مووی بعد میں بنائی ،لیکن اسی فکر و نظر کے ساتھ انہوں نے اپنے بچوں کی نگہداشت کی ۔سچائی ،ایمانداری،دیانت داری،انسانی ہمدردی ،عاجزی ،انکساری،تقویٰ اور دینداری ،ہر ایک خوبی ہم نے اُن ہی کے عمل سے سیکھی ہے ۔
پوشاک زندگی تُجھے سیتے سنوارتے
سو چھید ہوگئے ہیں رفو گر کے ہاتھ میں
والدہ کے بعد اپنی ساری زندگی انہوں نے اپنی اولاد کے لیے وقف کر دی ۔اُن کا ایک ایک عمل میری یادوں کے قرطاس پر بکھرا ہوا ہے ۔
بہت پرانی بات ہے لیکن مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے ،ایک عیدالفطر کی صبح مجھے سے کہا
’’ بیٹا! یہ پینٹ استری کردینا ۔‘‘جب میں پینٹ لےکر لوٹی تو میرے ذہن میں جھما کا ہوا اور میںنے پوچھا ’’پاپا! آپکی نیو پینٹ کہاں ہے؟‘‘
’’نہیں لی۔‘‘
’’آپ رات گئے تو تھے لانے؟‘‘
’’ہاں …‘‘
’’مگر پاپا کیوں؟‘‘
’’بیٹا اک غریب اجنبی آگیا، کہنے لگا کچھ مدد کردو عید کے لیے کچھ نہیں ہے ۔تو بس !‘‘
’’اور پاپا آپ؟‘‘
’’میرے پاس تو بہت ہیں، کوئی سی بھی پینٹ پہن لوں گا،مگر غریب کی عید ہوجائےگی اسی لیے وہی پیسے اسے دے آیا ۔‘‘
کیا کہوں ؟ایسا ایثار،ہمدردی،قربانی،رحم دلي!
لفظ اس عمل کے آگے بیس سال قبل بھی گونگے تھے، آج بھی ہیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے، اک درخواست پہنچائی والدہ کے ذریعہ۔ ردکر دی گئی ۔ہمت کی ،خود ہی روبرو جا کھڑی ہوئی ۔
’’ پاپا اجازت دے دیں نا ںپلیز!آپ دیکھیں تو سہی میرے ہی کالج میں نمبر آیا ہے چھوٹی بہن کا،پیپر کلیر ہوجائےگا اُس کا۔‘‘
’’کیا عارف الدین نے اسی لیے اپنی اولاد کو لیکچرر بنایا تھا کہ وہ چھوٹی بہن کو کاپی کروائے،اور کیا یہی تعلیم دی ہے ہم نے؟‘‘
الفاظ تھے کہ چابک ۔دل چاہا کہیں سے زمین پھٹ جائے اور میں اس سما جاؤں۔ کسی کارٹون کیریکٹر کی طرح۔
(مگر لوگوں کی برین واشنگ زوردار تھی۔)
’’ابّااس کاایک سال ضائع ہوجائےگا ۔بس ایک ہی تو پیپر ہے ۔‘‘
’’ضائع نہیں ہوگا ۔اس ایک سال میں وہ سال بھر ایک ہی پیپر کی تیاری کرےگی، اور امتحان میں کامیابی حاصل کرےگی ۔‘‘
مجھے تو آج تک اُصول پسندی کی ایسی مثال نہیں ملی ۔چھوٹی بہن کا سال ضائع ہوا ،نہیں بلکہ ایک سال صرف اور صرف ایک ہی پیپر کی تیاری میں صرف ہوا۔آج وہ فزکس میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے ۔
کیا یہی ہماری اسلامی تعلیمات نہیں ہیں؟لیکن آج ہم بھی اقوام غیر کی طرح ’’رولز آر فور ادرز ٹو فولو‘‘کی راہ چل پڑے ہیں ۔
’’ہم تو شکر کو شکر اور نمک کو نمک کہنے والے لوگ ہیں ۔‘‘
یہ والد صاحب کا بڑا ہی عجیب جملہ نظر آتا مجھے ،لیکن آج سمجھ آیا کہ وہ لوگوں کے منافقا نہ طرز عمل کی شکایت زبان سے کبھی نہیں کرتے ،لیکن اسکی نفی اپنے عمل سے ضرور کرتے ۔نمک کو نمک اور شکر کو شکر کہنے والوں کا تو آج فقدان ہے ۔
اپنی اولاد کے لئے تکلیفیں تو سب ہی والدین اٹھا تے ہیں، لیکن جو انہوں نے ہم سب بھا ئی بہنوں کے لیے کیا، اس کو بیان کرنے سے میرے لفظ قاصر ہیں ۔واقعی الفاظ کبھی بھی احساسات کے ترجمانی نہیں کر سکتے ۔
ربِّ رحمٰن سے میری دعاء ہے کہ آنسو کا ہر وہ قطرہ جو میرے والد کی آنکھ سے میرے لیے گرا ہو ،اس کو ربِّ رحمٰن جنت کی نہر میں تبدیل کر دے ۔آمین ثم آمین!
(اپنے والد عارف الدین صاحب کی خدمت میں پیش)

1 Comment

  1. شیبا آفرین

    السلام علیکم
    ماشاء اللہ انداز بیاں بہت شوخ ہے آپ کی تحریر بہت دلچسپ ہے آپ نے طنزومزاح کے ذریعے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کے کارناموں کو اجاگر کیا پڑھ کر بہت مزہ بھی آیا اللہ آپ کے علم میں خیر و برکت عطا فرماۓ اٰمین ثُمّ اٰمین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر