انسانی دل کا دعوتِ اسلامی میں کردار

قلبِ،جس کو عام الفاظ میں دل کہا جاتا ہے۔ایک عضو ہے جو تمام جسم کو خون پہنچایاکرتاہے۔قلبِ کی حرکت اک غیر موقوف حرکت ہے ،یعنی دل کی دھڑکن جو قبل از پیدائش تا دمِ مرگ قائم رہتی ہے ۔

انسانی دل کی اہمیت انسانی جسم میں مسلم حیثیت رکھتی ہے ،اور اُس کی کار کردگی پر ہی سارے جسمانی اعضاء کے افعال کا دارومدار ہوتا ہے ۔یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دل کے افعال کی ذرّہ برابر بھی ادھر ادھر ہونے کی گنجائش نہیں ہے ۔دل کی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس،ادب،فلسفہ،اور آرٹ؛ ہر جگہ دل نے اپنی جگہ بنائی ہے ،یا یوں کہہ لیں کہ دل ہی کا چرچا ہے۔

اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی

دعوتِ اسلامی میں دل کے کردار کو تلاش کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دل کے کردار کو قرآن حکیم کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا ۔دعوت اسلامی میں دل کے کردار کو ہم اس وقت تک نہیں جان سکتے ،جب تک کہ ہم اس کو قرآن حکیم کی روشنی میں نہ سمجھ لیں ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ قرآن مجید میں بارہا ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر مومن اور غیر مومن کا دل اللہ ربِّ العزّت کے ہی قبضہ قدرت میں ہے ۔اسی لیے قرآن مجید مومنین پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کا جائزہ لیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں:

رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ‌ ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ۞(آل عمران ۔آیت 8)

’’اے ہمارے رب نہ پھیر ہمارے دلوں کو جب کہ تو ہم کو ہدایت کر چکا، اور عنایت کر ہم کو اپنے پاس سے رحمت ،تو ہی ہے سب کچھ دینے والا۔‘‘ (آل عمران :آیت : 8)

دل کی خصویات:
قرآن مجید کے مطابق دل علم اور شعور کا ذریعہ ہے ۔قرآن حکیم نے کئی دفعہ دل کو مخاطب کیا ہے تا کہ دل کی اہمیت کو انسانی زندگی میں اجاگر کیا جا سکے ۔لیکن اس کو صرف دل کے کان ہی سن سکتے ہیں۔یعنی دل والوں کے سوا کوئی اور اس کی شناخت نہیں کر سکتا ہے ،اور قرآن کریم نے اس دل کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے ۔

دل کے اعمال :

دل کا سب سے اہم کام ہے تعقل ،یعنی شعور پیدا کرنا ۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں ایک دل دیا ہے تا کہ وہ سمجھے ،منعکس کرے اور توجیہات پیش کرے ۔بلا تفریق مومن اور غیر مومن وہ يہ کام اپنی تسکین،اپنے مغالطہ دور کرنے اور توکل و خشوع حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے ۔

دل فلسفہ کی روشنی میں
تیميه ؒکہتے ہیں کہ اکثر فلسفیوں کے نزدیک عقل دماغ کے اندر ہوتی ہے ۔اسی لیے ہم دماغ سے سوچتے ہیں نا کہ دل سے، جبکہ دل در حقیقت مرکز ہوتا ہے ۔

 

دل کی سائنسی حیثیت :

حالیہ سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ دماغ کی طرح دل بھی جذبات رکھتا ہے ۔اگرچہ وہ دماغ سے تجاوز نہ کرے تب بھی وہ اپنی ذہانت رکھتا ہے ۔تحقیقات میں یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ انسانی دل انسانی دماغ کی سوچنے کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ انسانی دل انسانی دماغ کی ہی طرح بقیہ اعضائے جسمانی سے رابطہ کرتا ہے ۔

تقویٰ اور دل :
ہمارے نبی نے فرمایا تقویٰ یہاں ہے اور اپنی انگلی سے اپنے سینے کی جانب اشارہ کیا ۔
جسم اور دل :

’’در اصل جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے ۔اگر یہ صحیح ہو تو جسم صحیح طریقے سے کام کرتا ہے اور اگر نہیں ہو تو پورا جسم تکلیف اٹھاتا ہے ،اور وہ دل ہے۔ ‘‘(صحیح البخاری )
یہ ساری چیزیں واضح کرتی ہیں کہ دل انسانی جسم میں صرف دورانِ خون کا کام نہیں کرتا بلکہ اس کا اپنا ایک روحانی نظام بھی ہے جو کہ روح پر اثر انداز ہوتا ہے ۔

الا بذکراللہ تطمئن القلوب (سورہ الرعد۔۔آیت 28)

وہی ہے جس نے نے اتارا اطمینان دل میں ایمان والوں کے ۔۔
دل کی اقسام :

ہمدردی اور اور رحم سے لبریز دل ۔
سخت دل ،قلیل نرمی اور جذبات والا دل۔
اللہ کے خوف سے تقویٰ میں ڈوبا ہوا دل ۔
گمراہ دل ۔

اختتام:

اس طرح دیکھا جائے تو مؤمنین زیادہ تر انسانی دل کو روحانی وجود کی بنیاد سمجھتے ہیں ۔یعنی یہ دل ہی ہے جو جھکتا ہے ۔اللہ وہ ہے جو انسانی دل کی جھلی اور دل کے بیچ موجود ہے۔یعنی یہ دل ہی ہے جو جھکتا ہے ۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِيۡبُوۡا لِلّهِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ‌ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ۞( الانفال ۔24)

’’اور جان لو اللہ روک لیتا ہے آدمی سے اُس کے دل کو ۔‘‘
اس طرح قرآن حکیم کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ دل انسانی جسم میں روح کے مساوی کردار ادا کرتا ہے ۔ہر شخص مختلف انفرادی فوائد تقویٰ اور نیکیوں کی بنیاد پر دل سے حاصل کرتا ہے ۔اسی لیے دعوتی کام میں صبر کے ساتھ دلوں کو جیتنے پر زور دیا جاتا ہے ۔

یا مقلوب القلب ثبت قلبى على دينك.

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر