گنبد ہی کے مانند ہے کارِ جہاں بھی
ہوتی ہے یہاں اپنی ہی آواز کی تکرار

یہ شعر پڑھا تھا، یہ تصویر دیکھ کر یہ شعر یاد آگیا ۔
انسان دوسرے کے لیے جو گڑھا کھودتا ہے، اس میں خود ہی گرجاتا ہے ۔
ایک خاتون اپنی کہانی سناتے ہوئے کہنے لگی:
میری تینوں بیٹیوں کی شادیاں الحمدللہ ایسے گھرانے میں ہوئی، جہاں لڑکے والوں نے جہیز کا تقاضا نہیں کیا ،بلکہ شرط رکھی کہ ہم سادگی سے نکاح چاہتے ہیں، اور جہیز بالکل بھی نہیں چاہیے ،لڑکی کی دین داری کو ترجیح دی ۔
میں نے طے کیا ہے کہ اپنی تینوں بیٹیوں کی طرح میں اپنی بہو کا بھی دین داری کے بنیاد پر رشتہ کروں گی ۔
ہمیں تجسس ہوا، ہم نے کہا :آپ کی تین بیٹیوں کے بعد ایک بیٹا ہے۔ کیا پہلے ہی سے آپ کے یہ خیالات تھے ؟
ہنستے ہوئے کہنے لگی :نہیں پہلے تو میرے دل میں ارمان تھے بہت چاؤ سے بہو لاؤں گی،امیر مالدار گھر سے بہت جہیز ملے گا ۔
پھر سوچ کیسے بدلی ؟
کہنے لگی: پہلا داماد بہت دیندار اور نیک ہے۔ جہیز نہیں لیا۔ پھر میری دوسری بیٹا کا رشتہ بھی پہلے داماد کی والدہ کے توسط سے طے پایا۔ وہ بھی بہت سلجھے ہوئے لوگ نکلے اور اب تیسری کی شادی سے فارغ ہوئی ہوں ۔تینوں بیٹیاں خوش حال ہیں ان کے شوہر بچیوں کی تعلیم بھی مکمل کروارہے ہیں ۔بچیاں دین سے جڑی ہیں ،دیکھ کر دل خوش رہتا ہے ۔بس پھر سوچا کہ میں بھی اپنی بہو ایسے ہی سادگی سے نکاح کرکے دین دار لاؤں گی ۔
اچھا بہت خوب !جیسی کرنی ویسی بھرنی کو ہم نے ہمیشہ پڑھا اور سنا ہےلیکن اچھائی سے اچھائی کے پیدا ہونے کو اتنا بیان نہیںکیا جاتا جتنا کرنا چاہیے ۔دنیا مکافات عمل ہے یہاں آپ کا عمل بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر رواج پاتا ہے لیکن ہم نے ہمیشہ اس بات کو عبرت کے طور پر پڑھا کہ برا کریں تو برا ہوگا ۔لیکن اب اس بات کو رواج دیں ،اچھائی کی کتنی شاخیں پھلیں اور کتنےبرگ وبار آئے، کتنے پھل کھائے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر