تعلیم کے معنی ہیں :رہنمائی کرنا، کسی کو کچھ بتانا، پڑھانا، سکھانا، تلقین کرنا ۔ لفظ تعلیم ،علم سے بنا ہے۔تعلیم کو انگریزی کے لفظ ایجوکیشن کے مترادف سمجھا جاتا ہے، مگر صحیح معنی میں ایجو کیشن کی مکمل ترجمانی صرف تعلیم سے نہیں ہو پاتی۔ لفظ ایجوکیشن در اصل لاطینی لفظ ایڈو کو (Educo)سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کسی انسان یا جانور کے بچے کو خصوصی توجہ اور نگہداشت کے ساتھ پال پوس کر بڑا کرنا ۔ اس مناسبت سے ایجوکیشن کا مطلب ہوگا کسی بچے کی پرورش اور اس کی دماغی،جسمانی اور اخلاقی تربیت کرنا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایجوکیشن کا مفہوم صرف تعلیم سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت سے پورا ہوتا ہے۔
آج کے دور کی تعلیم علم کے زیادہ سے زیادہ حصول اور بچے کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت بڑھانے پر مبنی ہے ۔ اس لیے ایسی تعلیم سے ہم بچے کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور با صلاحیت تو بنا سکتے ہیں، مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ایک اچھا انسان بھی بن جائے۔ علم کوحاصل کرنے کا عمل ایک روحانی عمل ہے۔جوں جوں انسان کچھ سیکھتا ہے اس کا نفس تسکین پاتا ہے، چاہے انسان روایتی طور پر کچھ سیکھے یا غیر روایتی ۔
تعلیم نہ ہوتی تو آپ اور ہم پڑھنے، لکھنے، بولنے، تنقیدی طور پر سوچنے، باخبر فیصلے کرنے، صحیح سے غلط جاننے، مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے، یا یہ سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے کہ دنیا کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔
تعلیم کی اہمیت کا اعلان کرنے والا ایک اور مشہور اقتباس جارج آرویل
(George Orwell)کا ہے:
‘‘If people cannot write well, they cannot think well, and if they cannot think well, others will do their thinking for them.’’
(اگر لوگ اچھا نہیں لکھ سکتے تو وہ اچھا نہیں سوچ سکتے، اور اگر وہ اچھا نہیں سوچ سکتے تو دوسرے ان کے لیے اپنی سوچ کا کام کریں گے۔)
تعلیم کی اہمیت سے ہر گزانکار نہیں کیا جاسکتا ۔ہر فرد کے لیے یکساں مواقع کا حصول لازم ہے ،تاہم بدلتے وقتوں کے ساتھ تعلیم کے حصول کے مقاصد میں بڑا فرق آیا ہے ۔ماہرین تعلیم نے اپنے گرد وپیش کے حالات اور ضرورتوں کے تحت جو مقاصد متعین کیے ہیں۔ اس میں سے خاص خاص مندرجہ ذیل ہیں:
(1)پیشہ وارانہ مقصد(2)اچھا شہری بنانا (3)نئی نسل کو مستقبل کے لئے تیار کرنا(4)انفرادیت کی نشوو نما وغیرہ،آئیے ذرا جائزہ لیں کہ مذکورہ بالا کسی ایک مقصد کے حصول کے لیےتعلیم دینے سے سماج پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں:
پیشہ وارانہ مقصد (Vocational Aim)
یہ مقصد بظاہر کافی اہم معلوم ہوتا ہے ۔ والدین اپنے بچوں کو اسی لیےتعلیم دلاتے ہیں کہ بچہ پڑھ لکھ کر کھانے کمانے لائق ہو سکے۔بلاشبہ پیٹ کی بھوک انسان کی اہم ضرورت ہے، اور والدین کو اپنے بچوں کے معاشی مستقبل کےلیے فکرمند بھی ہونا چاہیے، مگر کیا کھانا اور دیگر ضروریات زندگی کا حصول ہی تعلیم کا مقصد ہے ؟ جی نہیں ایسا کرنے سے ہم اپنے بچوں کو معاشی حیوان تو بنا سکتے ہیں مگر ایک اچھا انسان کبھی نہیں بنا پائیں گے۔
اس کےلیے ہمیں انہیں کمانے کے صحیح اور غلط راستے کا تعین کرنے کی اعلیٰ اخلاقی تربیت دینی ہو گی۔
نئی نسل کو مستقبل کےلیےتیار کرنا
مشہور برطانوی مفکر ہربرٹ سپنسر( Herbert Spencer) نے نظریہ ٔ تعلیم یہ پیش کیا ہے کہ تعلیم کا مقصد موجودہ نسل کو مستقبل کیلئے تیار کرنا ہے ۔یہ نظریہ بھی ناقص ہے کیونکہ اس میں فقط مستقبل کی ضروریات کے حصول کی تیاری ہے، بچوں کے احساسات اور میلانات سےمتصادم یہ نظریہ فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی نسل ِ نو کی تعمیر پر موقوف ہے، ترقی کا منصوبہ ملک کے دانشوروں Think Tank) )،حکومتوں، اور نظام بنانے والوں پر منحصر ہے ۔ترقی کی راہ عوام کو سجھانا یا تعلیم میں نئی تبدیلیوں سے واقف کروانا ملک کے دانشوروں کا کام ہے ۔
حکومتی سطح کا سب سے بڑا ٹاسک یہی ہے کہ وہ ملک کی عوام کی معاشی صورتحال میں یکسانیت پیدا کرے، بعد ازاں تعلیم کی نجی کاری کرے
( Privatizetion )ایسے سماج کے لیے درست ہے جہاں معاشی حالت میں پورا ملک یکساں ہو ۔جہاں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو وہاں تعلیم کی نجی کاری کا فائدہ ہر ایک کو یکساں پہنچنا ناممکن ہے۔
تعلیم کی نجی کاری کے اثرات
تعلیم میں نجی کاری نے حکومتی اداروں کو ملک و قوم کے مستقبل سے بے نیاز بنادیا ۔رفتہ رفتہ سرکاری اسکولوں کا معیار گرتا گیا اور ہر فرد ترقی کا ضامن پرائیویٹ اسکول کو سمجھنے لگا ۔پرائیوٹ اسکول میں بھی معاشی حالت کے اعتبار سے درجے بنتے گئے۔ والدین نے زیادہ خرچ کرنے کو زندگی کا معیار بنالیا ۔تعلیم کی نجی کاری سرمایہ دار طبقے کی تعلیم ایک بزنس سیکٹر بن کر رہ گیا ۔
طلبہ پر بڑھتا ہوا تعلیمی دباؤ
تعلیم کا جو بھی مقصد ہو ،انسانی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہے ۔موجودہ تعلیمی نظام سرمایہ کاری سے اس حد تک جڑا ہواہے کہ والدین بچوں کےتعلیمی اخراجات کو ایک انویسٹمنٹ کی طرح کرنے لگے ہیں ۔ مسابقتی امتحانات میں سب سے بڑا یہ دباؤجب تعلیم کا واحد مقصد برائے روزگار بن جائے تو دوسرے سبھی مقاصد ثانوی حیثیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں ۔
زیادہ سے زیادہ کمانے والی فیلڈ کو متعارف کروانے میں تعلیم کی نجی کاری
( Privatization)نے تعلیمی نظام کو ایک کمپنی میں تبدیل کردیا ۔وہ نظام تعلیم جس کا مقصد تعلیم برائے عرفانِ ذات یا خوبیدہ صلاحیتوں کو ابھارنا، انسانیت کا بہی خواہ بنانا تھا معدوم ہوکر رہ گیا ۔ ذہنوں پر صرف مستقبل چھاتا جارہا ہے ۔تعلیم برائے روزگار کے تصور نے والدین اور طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تیاری اور NEET اور JEE mains اور Advance کی دوڑ دھوپ نے اس قدر اندھا بنادیا کہ وہ اپنی زندگی کا واحد مقصد اسی مسابقتی امتحان کو بنانے لگے ۔
تعلیم کے نام پر اس مسابقت نے ان سے تعلیم کو مارکس اورینٹیڈ کلچر کو فروغ دیا ۔تعلیم کا حصول ایک اسٹیٹس سمبل بن کر ابھرا۔ 2022 ءمیں طلبہ کےامتحان میں اندراج ہونے والے طلبہ کا تناسب اور نتائج کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مجموعی طور پر 10,26,799 امیدواروں نے JEE مین 2022 ءکے لیے اندراج کیا ۔ جون اور جولائی دونوں کوششوں سمیت، ان میں سے 9,05,590 طلبہ نے امتحان میں شرکت کی۔ انجینئرنگ کے داخلے کے امتحان میں کل 24 امیدواروں نے 100 پرسنٹ ائل اسکور حاصل کیا ہے اور رینک 1 حاصل کیا ہے۔
چارٹ
ا س سے اندازہ کریں کہ دس لاکھ طلبہ میں سے صرف دولاکھ طلبہ اچھے کالجز میں ایڈمیشن حاصل کرسکتے ہیں ۔مجموعی طلبہ کی تعداد نے یکساں انسٹی ٹیوٹ کی فیس ادا کی۔ اپنے قیمتی ترین وقت کو لگایا لیکن نتائج کے اعتبار سے قلیل تعداد ہی اس میں کامیاب ہوسکی ۔
۱) تعلیمی دباؤ کی سب سے بڑی وجہ Socio Economic Growth ہے،جس میں مواقع، غذائیت اور وسائل کی کمی طلبہ کی ذہنی سطح کو متاثر کرتی ہے ۔مثلا ًایک کامن انسٹی ٹیوٹ کی فیس کا خرچ پر منتھ تین لاکھ ایوریج ہے، اپر کلاس اسٹوڈنٹ کے لیے فیس بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے،جب کہ مہنگے ترین انسٹی ٹیوٹ کی لسٹ میں ایلن( کوٹا) 2RESONANCE کوٹا، بنسل کلاسیز، نارائناچھا انسٹی ٹیوٹ،ودیامندر۔ اس لسٹ کو ہم انڈیا کے ٹاپ انسٹی ٹیوٹ میں رکھیں تو ماہانہ2 سے3 لاکھ اس کا خرچ ہے ۔
اس بات سے انکار نہیں ہے کہ کچھ طلبہ جو IIT Cracks ہوتے ہیں وہ دراصل Elite Class سے ہوتے ہیں ، یا بنیادی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے والے والدین ابتداء ہی سے گروتھ اینڈ ڈویلپمنٹ میں پورا خیال رکھتے ہیں۔ تعلیم کا بوجھ بننے نہیں دیتے، جہاں عام حالات میں جھوجھنے والے طلبہ جیسے مسائل نہیں ہوتے ہیں ۔
2) تعلیمی دباؤ کی دوسری بڑی وجہ بنیادی تعلیمی نظام میں یکسانیت کی کمی ہے۔ نجی ادارے اور سرکاری اداروں سے فارغ طلبہ جن کے بنیادی تصورات ہی ایک مخصوص عمر میں سمجھنے میں دشواری رہتی ہے، اور وہ اپنی اسی کمزوری کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
4) اوسط گھروانوں میں فیس کی ادائیگی کے لیے لیا جانے والا قرض، غذائیت کی کمی، گھروں میں تعلیم کے لیے درکار وسائل کی کمی کے باعث ماحول ۔ والدین، سماج کے توقعات، توقعات کی وجہ سے بچوں پر تعلیم کا حصول دلچسپی کے بجائے دباؤ بناتا ہے ۔
5) تعلیمی دباؤ کا ایک سبب کیرئیر کاونسلنگ کی کمی ہے ۔کیرئیر کونسلنگ کے بجائے انسٹی ٹیوٹ کی مارکیٹنگ کا انداز ہے۔ کسی شہر میں کالج اور یونیورسٹی میں لگے ہوئے بینرز ٹین Adolescent Period میں معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے کافی ہیں ۔یونیورسٹی کیمپس ،کالجز، ریلوے اسٹیشن، بس اسٹاپ، بازار اورچوراہوں پر لگے بینرز تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں۔
” Xyz AIR main Adavec pakege 50 lakh ”
ہر انسٹی ٹیوٹ کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کے پاس ایڈمیشن لیتے ہی خوابوں کی تعبیر مل جائےگی، حالانکہ یہ بات انسٹی ٹیوٹ کےذمہ داران جانتے ہیں کہ یہ ایک خوبصورت ترین جھوٹ ہے ۔ معاشی تنگی سے گزر رہے طلبہ کی ٹین ایج پر سبز خواب کی طرح وارد ہوتا ہے ۔ان کی ذہن کو جکڑ لیتا ہے، ان کی واحد منزل صرف یہی رہ جاتی ہے کہ وہ NEET کے بعد آسان زندگی گزار لیں گے۔ جتنا پر آسائش یہ خواب دیا جاتا ہے، یہ اس قدر آسان نہیں ہوتا۔ تعلیمی دباؤ کا اصل سفر یہیں سے شروع ہوتا ہے۔مختلف قسم کا دباؤ رفتہ رفتہ مایوسی و قنوطیت کا شکار بناکر Acute Depression میں کب تبدیل ہوتا ہے، نہ والدین کو خبر ہوتی ہے نہ ہی اطراف ساتھ رہنے والے کسی ساتھی کو ،اور طلبہ خودکشی کرلیتے ہیں ۔
طلبہ میں بڑھتا ہوا خودکشی کا تناسب
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے مطابق 2020 ءمیں، ہر 42 منٹ میں ایک طالب علم نے اپنی جان لے لی۔ یعنی ہر روز 34 سے زائد طلبہ خودکشی کر کے ہلاک ہو گئے۔ یہ تشویشناک ہے کہ اسے ایک سنگین بحران کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میںخودکشی کا رجحان مسلسل انفرادی یا ذاتی نوعیت کا ہے، جس سے معاشرہ جوابدہی سے بچ جاتا ہے۔
این سی آر بی کی ایکسیڈنٹل ڈیتھس اینڈ سوسائیڈز ان انڈیا (اے ڈی ایس آئی) رپورٹ، 2020ءکے مطابق، ملک میں تقریباً 8.2 فیصد طلباء خودکشی سے مرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2020 میں 30 سال سے کم عمر کے 64,114 افراد نے اپنی جان لے لی۔
سول سوسائٹی طلبہ کی خودکشیوں کو ملک کے تعلیمی ڈھانچے کے سنگین بحران کے اشارے کے طور پر دیکھنا شروع کرے ۔بشمول ادارہ جاتی ڈھانچہ، نصاب وغیرہ۔
دی لانسیٹ نے رپورٹ کیا کہ اوسطاًNCRB کی طرف سے رپورٹ کی گئی خودکشی کی شرح عالمی بوجھ آف ڈیزیز کی رپورٹ کردہ شرحوں سے 37 فیصد کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ہر 100 خودکشیوں میں سے صرف 63 کی اطلاع این سی آر بی کے ذریعہ دی جاتی ہے۔ راجستھان کے شہر کوٹا جو آئی آئی ٹی اسٹوڈنٹ کے لیے تعلیمی مرکز بناہوا ہے،طالب علم کے ایک نجی سروے میں طلبہ نے ذکر کیا کہ یہاں گزارے دوسال میں ہم نے اپنے درمیان بیس ساتھیوں کی خودکشی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ۔
ایک واقعہ سناتے ہوئے اس نے بہار کے ایک نوجوان کا ذکر کیا کہ اس نے اپنے والدین کو ویڈیو کال کرکے اپنی شہہ رگ کاٹ لی ۔اسی طرح بنگلور آئی آئی ٹی 2020 ءجنوری میں دورانِ لاک ڈاؤن انتظامیہ نے بذریعہ پریس کیمپس سے سلنگ فین ہٹانے کا فیصلہ کیا ۔اس رپورٹ کی تحقیق سے ادارے میں زیرِ تعلیم طلبہ نے ایک ماہ میں بیس طلبہ کی خودکشی کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ۔آخر کیاوجہ ہے کہ ہندوستان میں تعلیمی دباؤ میں کی جانے والی خودکشی کے واقعات سےحکومت اور میڈیا اس سے نظریں چراتے ہیں ؟
ریاستیں اسے اپنے نظریے کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ تعلیم کا عمل تعلیمی پریشانی کی صورت میں غیر متوقع سماجی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہندوستان میں تعلیم کو علم کے بجائے روزگار اور روزی روٹی کے دروازے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بہت سے طلبہ اور ان کے اہل خانہ اپنے آپ کو غیرمعمولی سماجی، ذات پات اور طبقاتی مشکلات سے بچنے کے لیے ’’سرکاری نوکری‘‘ کا خواب دیکھتے ہیں۔
1991ء کے معاشی لبرلائزیشن کے بعد، پرائیویٹ سیکٹر کے عروج نے معاشی سرگرمیوں کے مختلف شعبوں سے ریاست کے انخلاء کی راہ بھی ہموار کی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان کے منظم شعبے میں سرکاری شعبے کی ملازمتوں کا حصہ کم ہونا شروع ہوا۔ پرائیویٹ سیکٹر میں رسمی ملازمتیں حیثیت کے لحاظ سے سرکاری ملازمتوں کے مساوی ہونے لگیں۔
طلبہ کی خودکشی روکنے کے لیے اقدامات
1) سب اہم اقدام تو اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہندوستان کا معاشی نظام کلاس کیٹگری سے نکل کر یکساں مواقع، یکساں وسائل کی فراہمی ہر طالب علم کےلیے یقینی بنائے ۔چونکہ یہ ایک طویل مدتی ٹاسک ہے، فوراً سے پیشتر حکومت کی جانب سے کیرئیر کاونسلنگ کو یقینی بنانا ہے ۔جیسے مہارشٹر حکومت نےدسویں کےکامیاب طلبہ کا’’کلچاچنی رجحان‘‘ معلوم کرنے کا ٹیسٹ لیا تھا۔ اس طرح کے اقدامات کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے ۔
2) کوچنگ کلاسز کے مارٹنگ بینرز اورسرگرمیوں پر سنسر لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایجوکیشنل مافیا کے طور پر کام کرتا ہے جو نسلوں کو تباہ کردیتا ہے۔ دی وائر کی رپورٹ کے مطابق کامیاب طلبہ کی انسٹی ٹیوٹ مارکیٹنگ کی بولی لگائی جاتی ہے اور AIR اسٹوڈنٹس کی تصاویر کو ایک فراڈ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے ۔اسے کراس سینگشنل اپروچ کے ساتھ باقاعدہ حکومت سے منظور شدہ ہونے کا نظم ہونا چاہیے۔
3) حکومت کی جانب سے دوسرے کورسیز کو حاصل پرطلبہ کی کاؤنسلنگ کا نظم ہونا چاہیے ۔
4) سماجی اور خصوصاً والدین کو بچے کے پریشر بننے اور جانی نقصان تک پہنچنے پر بیداری ازحد ضروری ہے۔
5) لائف سیونگ اسکل کے لیے اسکولی سطح پر پڑھایا جارہا PD (پرسنالیٹی ڈویلپمنٹ کورس) اس سلسلے میں کافی نہیں ہے ۔لائف سیونگ اسکل میں زندگی، مینٹل ہیلتھ، خود،اعتمادی، ایموشنل کوشنٹ جیسی چیزوں کو ایمانداری سے پڑھانے کا نظم ہو، تاکہ بچے مارٹنگ ٹریپ کے بجائے اپنے دل کی آواز سن سکیں اور تعلیم کو ایک دلچسپ ٹاسک سمجھ سکیں ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر