شام کے ساڑھے پانچ بج رہے ہیں۔دس سالہ فرزین اسکول سے لوٹ رہا ہے ۔ آٹو سے اتر کر وہ بھاری بھرکم بیگ لیے گھر کی سیڑھیاں چڑھتا ہے ۔اوپر گیلری میں مما ننھی مریم کو گود میں لیے فرزین کا انتظار کر رہی ہیں۔
فرزین کو دیکھتے ہی مما مسکرا کر اس کو سلام کرتی ہیں ۔اور آگے بڑھ کر ایک ہاتھ سے اس کا بیگ اٹھا لیتی ہیں۔ فرزین کوخاموش دیکھ کر مما سمجھ جاتی ہیں کہ آج فرزین کے ابو آفس کے کام سے شہر سے باہر گئے ہیں اس لیے وہ اداس ہے ۔
’’ میرا پیارا بیٹا! آپ کپڑے تبدیل کر لیجیے، تب تک ہم آپ کے لیے گرما گرم دودھ لاتے ہیں۔‘‘ مما نے فرزین کو پیار سے کہا۔
’’مجھے نہیں پینا دودھ ۔‘‘جوتے اتار کر فرزین وہیں ہال میں صوفے پر لیٹ گیا ۔
دادی ماں نے اندر کمرے کے تخت سے جھانک کر فرزین کودیکھا تو مما کو آواز دی’’ بہو رانی! مریم کو ادھر میرے پاس دینا ، پھر تم فرزین کی خیریت لینا ۔تھک گیا ہے راجہ بیٹا ۔‘‘فرزین کی مما نے جلدی سے مریم کو دادی ماں کے تخت پر لٹایا اور ’’جزاک اللہ اماں !‘‘کہہ کر فرزین کی طرف لپکیں۔
’’ ابو کب لوٹیںگے؟‘‘ فرزین نے اداسی سے پوچھا۔
’’آج ہی تو گئے ہیں۔‘‘ مما نے جواب دیا۔
’’ بس اور دو دن پھر خوش۔‘‘
’’ نہیں! ان سے کہیں آج ہی لوٹ آئیں۔ مجھے تقریر لکھوانی ہے ان سے۔ پیر کو کلاس میں مقابلہ ہے۔‘‘ فرزین نے کہا۔
’کیا میں آپ کی مدد نہیں کرسکتی؟‘‘ مما نے فرزین کا سر اپنی گود میں لیتے ہوئےپوچھا۔
فرزین تقریباً رونے لگا۔’’ آپ تو ہر وقت فہام اور مریم کے کاموں میں لگی رہتی ہیں‘‘
اچھا،یہ بات ہے ۔اب سب سے پہلے فرزین، بعد میں سب۔‘‘مما نے اس کے بال سہلائےاور پیشانی چومی۔
’’کیا عنوان دیا ہے مس نے؟‘‘ مما نے پوچھا۔
فرزین جھٹ اٹھ بیٹھا۔’’ اوزون ڈے۔‘‘مما نے غنیمت سمجھا۔
’’ ہم آپ کوتقریر لکھ کر تو نہیں دے سکتے، البتہ سمجھا دیں گے،پھر آپ خود اپنی تقریر تیار کرلینا۔ کیوں؟ ٹھیک ہے ناں؟‘‘فرزین نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ہماری زمین اور سورج کے درمیان ایک مخصوص فاصلہ ہے۔بتاؤ کتنا؟‘‘ مما نے پوچھا۔
’’سورج کی شعاعیں زمین پر پہنچتی ہیں ۔کچھ فائدہ مند تو کچھ نقصاندہ۔ انہیں Ultraviolet Rays بالائے بنفشی شعاعیں کہتے ہیں۔ کچھ شعاعیں تو اتنی خطرناک ہوتی ہیں کہ اگر یہ ہماری زمین پر پہنچ جائیں تو کوئی جاندار زمین پر زندہ نہ رہے۔‘‘
’’پھر ہم …کیسے… زندہ …؟‘‘دس سالہ فرزین حیرت زدہ ساسوال بھی پورا نہ کرسکا۔اتنے میں 3سالہ فہام ہاتھوں میں بڑا سا Ball لیے پہنچا۔فرزین کاتجسس اداسی میں بدلنے لگا کہ اب سارا معاملہ چوپٹ ہوجائے گا۔پر یہ کیا؟اس پر ایک خوشگواری چھاگئی۔مما نے فہام کو بال سمیت عین صوفے کے سامنے والی کرسی پر بٹھایا، اور حکمیہ انداز میں کہا’’بھیا کو کہانی سنارہی ہوں، خاموشی سے سننا۔‘‘
’’ سمجھو یہ ہماری زمین ہے۔‘‘ مما نے بال کی طرف انگلی دکھائی۔
’’ اس کی سطح پر ہم رہتے ہیں، ہمارے پالتو جانور Pet Animals ہیں،ہمارے گارڈن ہیں،اور اللہ میاں کی دوسری بے شمار مخلوقات۔ان کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچانے کے لیے اللہ میاں نے ہماری زمین کو ایک غلاف پہنادیا ہے، جسے اوزون پرت Ozone Layer کہتے ہیں۔یہ ہماری زمین کا حفاظتی غلاف ہے۔سورج کی فائدہ مند شعاعوں کو داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے اور خطرناک شعاعوں کو واپس کردیتا ہے،لیکن اب اس غلاف میں سوراخ ہورہے ہیں۔‘‘ فہام نے سہم کر اپنے ball کو مضبوطی سے تھاما اور غور سے دیکھنے لگا کہ سوراخ کہاں ہوا۔فہام کی اس حرکت پر مما اور فرزین ہنس پڑے۔
’’جانتے ہو؟ اسی لیے ہر سال گرمی میں شدیداضافہ ہورہا ہے۔ اسے Global Warming کہتے ہیں۔‘‘
فرزین بے چین ہوگیا۔’’ یہ سوراخ کیوں ہورہے ہیں؟‘‘
مما نے بتایا’’ فیکٹر یوں سے نکلنے والا دھواں، ہوائی آلودگی اور ریفریجریٹرس اور اےسی سے نکلنے والی گیس کی وجہ سے سوراخ ہورہے ہیں۔جسےDepletion of Ozone کہتے ہیں۔‘‘
’’اب ان سوراخوں کو کیسے بند کریں؟‘‘ فرزین سے رہا نہ گیا۔
مما تو مانو جواب کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔’’ پودے لگا کر ۔ پودے فضا کی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جذب کرتے ہیں اور آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں،جو ہمارے لیے فائدہ مندہے۔اس سے ماحول میں توازن برقرار رہتا ہے اور Ozone بھی ۔‘‘
’’اچھا!‘‘
آج فرزین کواس کی مما سب سے اچھی لگیں۔ صرف اور صرف اسکی مما۔ اس کی ساری شکایت دور ہوگئ کہ مما صرف فہام کی سنتی ہیں میری نہیں۔وہ مما سے لپٹ گیا۔وہ سمجھتا تھا کہ مما کو صرف ہر موقعے پر حدیث آتی ہے، وہ سائنس نہیں جانتیں۔اسی لیے تو ابھی کچھ دیر پہلے ابو کی یاد آرہی تھی۔’’جانتے ہو فرزین! اسی لیے پیارے نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟‘‘
’’کیا فرمایا؟‘‘فرزین ورطۂ حیرت میں تھاکہ اس بارے میں بھی!؟
’’پیارے نبیﷺ نے فرمایا: اگر قیامت قریب ہو اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو چاہیے کہ وہ پودا لگا دے۔‘‘ فہام نے بال فرزین کی طرف پھینکا اور ٹیرس کی طرف بھاگا،شاید کوئی پودا لگانے۔
’’اس لیے United Nation نے 1995 سے ہر سال 16 September کو Ozone Layer کے تحفظ کا بین الاقوامی دن منانا طے کیا ہے، تاکہ عوام میں اس کے تعلق سے شعور بیدار ہو۔ شجر کاری ہو۔‘‘

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. Salma Farheen

    بہت خوب ماشاءاللہ !مختصر لیکن جامع انداز میں بہت اچھا پیغام دیا

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر