زمرہ : ادراك

بلقیس بانوکے مجرم کی رہائی کی خبر نے سبھی کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ خبر کیا تھی تصویر میں مجرمین کے استقبال کا منظر تھا اور ذہن کے پردے پر 2002 کا پس منظر تھا ۔منظر اور پس منظر میں زیرو دو کے ہندسے سے بدل گیا تھا ہاں ملک کا منظر نامہ اب تعصب کی عینک لگا کر دوئی سے بدل گیا ہے۔سوال ابھرا کیا قانون کی دیوی نے بھی پٹی کھول کر ملک میں دو آنکھوں سے دیکھنا شروع کردیا ۔۔؟ پھر تخیل تھا اور اسکی پرواز تھی!

نربھیا ریپ کیس پورے ہندوستان کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے ۔پورا ملک سراپا احتجاج بنتا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ بنتی ہے ۔خواتین کے تحفظ میں اٹھایا گیا بہترین قدم مانا جاتا ہے۔ تین دن میں مقدمہ چلتا ہے اور مجرمین کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے ۔ہندوستان میں خواتین کا تحفظ ہردور میں سب سے حساس مسئلہ رہا ہے، اور تاحال ہے ۔

آصفہ معصوم بچی ہو یا چار ماہ کی بچی کا ریپ ہو ،یا ممبئی میں ادھیڑعمر خاتون کے ساتھ ریپ ہو یا پرینکا ریڈی کیس ہو، ہندوستان کے ہر گوشے سے احتجاج بلند ہوتے دیکھا ہے، کسی نے مظلومہ کا مذہب نہیں پوچھا ہر ایک نے انہیں اپنے گھر کی محترم خواتین سمجھ کر آواز بلند کیا ۔

گجرات فسادات میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی بلقیس بانو اپنے خاندان کے افراد کو قتل ہوتے دیکھتی ہے ،خاندان کی تین خواتین کو ظلم کا نشانہ بنتے اور درندگی کا شکار ہوتے دیکھتی ہے ۔نیم مردہ حالت میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے ،اپنا کیس درج کرواتی ہے، کیس پہلے درج کرنے سے تھانے میں انکار کیا جاتا ہے بلاخر سماجی دباؤ میں درج کرلیا جاتا ہے. پھر چھے سال کی کڑی محنت کے بعد بلقیس بانو مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے ۔

سپریم کورٹ نے اپریل 2019 ءمیں گجرات حکومت بلقیس بانو کو 50 لاکھ روپے معاوضہ، ایک نوکری اور مکان ادا کرنے کا حکم دیا۔ جن 11 مجرموں کو قبل از وقت رہائی دی گئی ان میں جسونت بھائی نائی، گووند بھائی نائی، شیلیش بھٹ، رادھیشام شاہ، بپن چندر جوشی، کیسر بھائی ووہنیا، پردیپ موردھیا، بکا بھائی ووہنیا، راجو بھائی سونی، متیش بھٹ اور رمیش چندنا شامل ہیں۔

مجرم کی اپیل

مجرموں میں سے ایک رادھیشام شاہ نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 432 اور 433 کے تحت سزا میں معافی کی درخواست کی تھی۔
ہائی کورٹ نے اس کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی معافی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ’’مناسب حکومت‘‘ مہاراشٹر ہے نہ کہ گجرات کیونکہ پہلے بھی مجرمین کو سزا مہارشٹر عدالت سے ملی تھی ۔

اس کے بعد شاہ نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جیل میں ہے۔202 1 اپریل 2022 ءتک۔ 13 مئی کو اپنے حکم میں، سپریم کورٹ نے کہا کہ چونکہ یہ جرم گجرات میں ہوا تھا اس لیے شاہ کی درخواست کی جانچ کرنے کے لیے ریاست گجرات مناسب حکومت تھی۔ اس اپیل کو ریاست کے حوالے کردیا گیا۔

سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت کی کہ وہ 9 جولائی 1992 ءکی پالیسی کے مطابق قبل از وقت رہائی کی درخواست پر غور کرے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا معافی کی اپیل پر ہر مجرم کے ساتھ یہ آسانی پیدا کی جاتی ہے؟ کیا اتنی آسانی سے مجرم کو بری کیا جاسکتا ہے ؟جھوٹے الزام میں مقید ملزمین کو بھی یہ رعایت حاصل ہے یا یہ عنایت صرف حاشیہ برداروں کے لیے خاص ہے ؟

معافی کا قانون کیا ہے؟

معافی کے قانون کو سمجھنا ضروری ہے ۔
آئین کے آرٹیکل 72 اور 161 کے تحت صدر اور گورنرز کو عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزا کو معاف کرنے اور معافی کو معطل کرنے یا کم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ جیلیں ریاست کا موضوع ہیں، اس لیے ریاستی حکومتوں کے پاس کوڈ آف کریمنل پروسیجر (سی آر پی سی) کی دفعہ 432 کے تحت سزاؤں کو معاف کرنے کا اختیار ہے۔

معافی کی وجوہات کیا ہیں؟

ریاستوں نے سیکشن 432 کے تحت اختیارات کا استعمال کرنے کے لیے سزا پر نظرثانی بورڈ قائم کیا۔

سی آر پی سی جرم کی سنگینی، شریک ملزم کی حیثیت اور جیل میں برتاؤ کو دیکھتے ہوئے معافی دینے کے لیے زیر غور عوامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے 2000 میں مفصل پانچ بنیادیں بیان کیں، جن کی بنیاد پر معافی پر غور کیا جاتا ہے۔

(1)کیا مجرم کا جرم کا انفرادی فعل ہے جو معاشرے کو متاثر نہیں کرتا ہے۔
(2) آیا مستقبل میں جرم کے دوبارہ ہونے کا امکان ہے
(3) آیا مجرم نے جرم کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔
(4) آیا مجرم کو جیل میں رکھنے کا کوئی مقصد پورا کیا جا رہا ہے۔
(5) مجرم کے خاندان کے سماجی و معاشی حالات۔

تاہم یاد رہے کہ یہ معافی کا قانون عدالت عظمیٰ میں زنا اور قتل جیسے جرائم کے لیے نہیں ہے، تاہم گجرات سپریم کورٹ میں ہر قسم کے مجرم کی معافی کی اپیل کے لیے تھا ۔

اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے، کانگریس کے ترجمان پون کھیڑانے کہا: ’’گجرات کی بی جے پی حکومت نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 مجرموں کو رہا کیا۔ یہ فیصلہ بی جے پی حکومت کی ذہنیت کو سامنے لاتا ہے۔‘‘

ترنمول کانگریس کے ترجمان ساکیت گوکھلے نے کہا کہ ’’بلقیس بانو کی 2002 ءکے گجرات قتل عام میں عصمت دری کی گئی تھی اور ان کے پورے خاندان کو قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا تھا۔‘‘

’’گجرات حکومت نے اب ان تمام 11 راکشسوں کو رہا کر دیا ہے، جو اس کے مجرم تھے۔‘‘
مجرمین جو نہ صرف ریپسٹ ہیں، بلکہ قاتل بھی ہیں۔ان کی سزا عمر قید سے بدل کر بری کردیتے ہیں ۔خبروں میں بے ضمیر خواتین ان کااستقبال کرتی نظر آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے برہمن ہیں، سنسکاری ہیں ۔مظلومہ کسی مذہب سے ہو، عورت کی عزت ملک کی عزت ہے ۔مجرم کسی مذہب کا ہو، مجرم صرف مجرم ہے ۔عدالت پر اعتماد ہی کسی مظلوم کو اپنا کیس درج کروانے پر اور انصاف کے لیے پر امید رکھتاہے ۔

جرائم کو روکنے میں سب سے بڑا کردار ملک کی مقننہ اور عدلیہ کا ہوتا ہے ۔حکومت ملک میں جرائم کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے تب مجرم خوف زدہ ہوتا ہے ۔جرائم کی تعداد کم ہوتی ہے ۔

ایسے مجرمین کے حق میں جو قیدی ہیں، ان کی مجرمانہ ذہنیت کو کم کرکے انہیں زندگی کے قابل بنانا یا ان کی قید کو کم کرنا، قیدی کے حقوق میں شامل ہے ،مجرم کی بازآباد کاری اس کاحق ہے ،ہم اس کے خلاف نہیں ہیں ،تاہم سپریم کورٹ میں جہاں یہ قانون مرکزی سطح پر موجود ہے، اس میں بھی زانی اور قاتل کے لیے یہ چھوٹ نہیں ہے ۔گجرات عدالت نے بلقیس بانو کے مجرمین کو بری کردیا ۔یہاں سوال ہے کیا صرف ہندو مسلم فساد کے ان ہی مجرموں کو یہ رعایت دی گئی؟ یا گجرات ہائی کورٹ میں کتنے مجرموں کو بازآباد کار کیا گیا ؟

مجرمین کا استقبال کرنے والی خواتین کا ضمیر تو مذہبی منافرت میں کہیں سوگیا ہے ۔
تاہم یہ بات بھی قابل ذکر اور خوش آئند ہے کہ بلقیس بانو کیس میں سب سے مضبوط آواز مختلف ریاستوں کی سماجی جہد کار وطنی بہنیں اٹھا رہی ہیں ۔راجستھان، حیدرآباد، ناگپور، ممبئی، موہا ملہوترا نے اپنے ٹویٹ میں کہا’’گجرات کے 11 مجرموں کو سنگین جرم کا مجرم مانتے ہوئے قانونی طور پر سزائے موت کے لیے اہل سمجھنا چاہیے ۔ زندگی کا مطلب زندگی ہونا چاہیے۔ معقول وجہ کے بغیر عام معافی ناانصافی ہے۔‘‘
خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ میٹرو شہروں کی فہرست جاری کی گئی
2019-2021 ءکی مدت کے لیے NCRB کے اعداد و شمار کے مطابق، دہلی سب سے زیادہ غیر محفوظ میٹروپولیٹن شہر ہے، جہاں 2021 ءمیں خواتین کے خلاف 13,982 جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ قومی دارالحکومت ممبئی کے بعد خواتین کے خلاف 5,543 جرائم اور بنگلورو 2021 ءمیں 3,127 ایسے جرائم کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ حیدرآباد (3,050) اور جے پور (2,827) بھی ٹاپ پانچ غیر محفوظ میٹرو شہروں میں شامل تھے۔

این جی اوز کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ یہ خوش آئند بات ہےکہ خواتین کے ساتھ ایذا رسانی، جنسی ہراسانی، تشدد کے واقعات درج ہورہے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلی دہائیوں کے مقابلے خواتین بیدار ہوئی ہیں اور اپنے حق کے لیے لڑ رہی ہیں ۔
جہاں یہ بات واقعی ٹھیک ہے، وہیں سوال یہ ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں ؟

مجرم کو تحفظ دینے کا یہ انداز کیا جرائم میں اضافے کا باعث نہیں بنے گا ؟
کیا چھ سال کی کڑی مشقت سے اپنے حق کے لیے کھڑی ہونےوالی والی بلقیس بانو عزم و حوصلے کی علامت ہے خواتین کے لیے، وہ اس کی مستحق تھی جو گجرات حکومت نے کیا ہے؟
کیا ملک کے ہر گوشے سے ہر خاتون بلقیس بانو کے مجرمین کے رہائی اور بلقیس بانوکو دی جانی والی دھمکی پر صدائے احتجاج بلند نہیں کرنا چاہیے ؟

بلقیس بانو اپنے انصاف کے لیے ڈٹ جانےوالی خواتین کے لیے ایک Epitome ہے ۔
وطنی بہنوں کا ہر ذات، مذہب، علاقے سے پرے ایک خاتون کے حق میں احتجاج بلند کرنا بھی حوصلہ بخش ہے ۔

گجرات حکومت بلقیس بانو کو تحفظ دے اور مجرمین تنبیہ کرے ۔خواتین کو محفظ کرنے میں گرکوئی ملک ناکام ہوجائے تو اس ملک کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے ۔

مجرمین جو نہ صرف ریپسٹ ہیں، بلکہ قاتل بھی ہیں۔ان کی سزا عمر قید سے بدل کر بری کردیتے ہیں ۔خبروں میں بے ضمیر خواتین ان کااستقبال کرتی نظر آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے برہمن ہیں، سنسکاری ہیں ۔مظلومہ کسی مذہب سے ہو، عورت کی عزت ملک کی عزت ہے ۔مجرم کسی مذہب کا ہو، مجرم صرف مجرم ہے ۔عدالت پر اعتماد ہی کسی مظلوم کو اپنا کیس درج کروانے پر اور انصاف کے لیے پر امید رکھتاہے ۔

 

1 Comment

  1. Qudsiya kouser

    Apne haq k lye khadi hone wali bilqis bano ko dhamkane our uske gunehgaron ko bari karne par hame sadae ehtejaj buland karna zaruri h ..

    Ham khawateen ny uthey gen to koun aurton k tahaffuz ka zimmedar hoga….😥

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر