ہمارے ماحول کی موجودہ صورتحال
ما دہ پرستی ، حرص و ہوس اور پر تعیش زندگی نے انسانیت کو ماحولیاتی آلودگی کی شکل میں ایک تباہ کن تحفہ دیا ہے۔اس وقت ہمارا قدرتی ماحول، ہماری زمین اور اس کے وسائل ؛شدید خطرات کی زد میں ہیں۔اس کا اصل سبب ترقی کی دوڑ اور زیادہ سے زیادہ پر تعیش زندگی کی ہوس ہے۔ بڑھتی ہوئی صنعت کاری، آمدورفت کے بڑھتے ہوئے ذرائع اور شہر کا ری(Urbanization)یہ تمام جدید تہذیب وتمدن کی نشانیاں ہیں، یہ اور اس جیسے کئی عوامل مل کر ماحول کو آلودہ کرنے میں بہت اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ جنگلات کی صفائی ایندھن، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں ، دنیا کے مختلف خطوں میں آئے دن ہورہی جنگوں میں استعمال مہلک بارود؛ فضا ئی آلودگی کا سبب ہیں ۔ لکڑی، کوئلہ، پٹرول، گیس کا استعمال فی زمانہ بطور ایندھن ہوتا ہے۔
% 20فضائی آلودگی کی ذمہ دارفیکٹریاں ہیں، جن سے انتہائی مہلک گیسوں کا اخراج ہوتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتی ہیں ۔
اپنی ان ترقیوں کے ذریعہ ہم زمین کا درجۂ حرارت بڑھا رہے ہیں جسے Global Warming کہا جاتا ہے ۔ بڑھتی ہوئی صنعت کاری اور پر تعیش زندگی کی قیمت ہم گلوبل وارمنگ کے ذریعہ ادا کررہے ہیں ۔پچھلے دس سالوں میں صدی کے6گرم ترین سال ریکارڈ کیے گئے ہیں ۔اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج اسی طرح ہوتا رہا تو اگلے 20سالوں میں زمین کا درجۂ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے ۔ ایئرکنڈیشن اور ریفریجریٹر س میں استعمال ہونے والی کلوروفلورو کاربن گیس ،اور کارخانوں سے نکلنے والے نائیٹروجن کے مرکبات کرہ ٔارض کی حفاظتی پرت اوزون میں چھید پیدا کررہے ہیں۔
صاف ستھرا اورآلودگی سے پاک پانی اگر نایاب نہ سہی ،تو کم یاب ضرور ہوگیا ہے ۔فیکٹریوں کا فضلہ، گھریلو فضلہ اور اس قسم کی کئی گندگیاں ندیوں اور نالوں میں ہی ڈالی جاتی ہیں۔ جس کی بنا پر استعمال کا پانی آلودہ ہوتا جارہا ہے ۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہر سال اموات کی شرح بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری زمین کو مختلف پیڑ پودوں، درختوں کے ذریعہ بہت ہی خوبصورت بنایا ہے۔ یہ جنگلات جہاں زمین میں پانی کو روکے رکھتے ہیں، وہیں مختلف اقسام کے جانوروں کی پناہ گاہیں بھی ہیں ۔ان جنگلا ت کی کٹائی کی وجہ سے ان جانوروں کی کئی قسمیں ناپید ہوگئی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ہر دن تقریباً 150 سے200انواع(Species) ناپید ہورہی ہیں۔ 2000 ءکی اقوام متحدہ( UN) کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سیکنڈ میں ایک ایکڑ جنگل کا صفا یا ہوتا ہے ۔
ماحولیاتی خرابی کی وجہ سے انسانوں کی قوت مدافعت کم ہورہی ہے۔ طرح طرح کے بیکٹیریا اور وائرس نمو پارہے ہیں۔ مختلف بیماریاں پروان چڑھ رہی ہیں۔ نفسیاتی صحت متاثر ہورہی ہے۔
اگر ماحولیاتی بحران کی صورت حال پرکنٹرول نہیں کیا گیا تو ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کی بقا خطرے میں پڑسکتی ہے۔ہمارے بچوں کو ہم ایک ایسی دنیا دے کر جائیں گے جس کی ہوا، پانی، غذا سب کچھ زہر آلود ہو ۔ اللہ تعالیٰ ایسی صورت حال سے بنی نوع انسان کو محفوظ رکھے۔
ماحولیاتی بحران اور پر تعیش زندگی
س بحران کا اصل سبب پر تعیش زندگی ہے۔جدید تہذیب کی ایک بڑی خرابی فضول خرچی اور قدرتی وسائل کے استعمال میں بے دردی کا رویہ ہے۔بڑی کمپنیوں کو نفع پہنچانے کے لئے اور اپنی زندگیوں کو پر تعیش بنانے کے لئے وہ بے پناہ خرچ کرنے اور زیادہ سے زیادہ پر تعیش سامان استعمال کرنے کا مزاج عام کرتے ہیں۔ اشتہارات کے ذریعہ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیزیں خریدیں۔گذشتہ چند سالوں میں یہ جنون ہمارے ملک میں بھی بے انتہا بڑھ گیا ہے۔ خریداری محض ضروریات کی تکمیل کے لیے نہیں رہی ،بلکہ ایک شوق بن گئی۔ بازار جانا اور خریداری کرنا دلچسپ تفریح قرار پایا، اور خریداری زندگی کی علامت سمجھی جانے لگی۔اب آن لائن خریداری کی سہولتوں نے تو بچوں، بڑوں سب کے اندر فضول خریداری کا جنون پیدا کردیا ہے۔ ایک ایک گھر میں کئی کئی گاڑیاں، بچوں کے ہاتھوں میں جدید ترین ماڈل کے سیل فون، ہمہ اقسام کی قالینیں اور صوفے، باتھ رومزمیں دسیوں طرح کے صابن، شیمپو، لوشن اور کریم یہ سب اسی صارفیت پسند (Consumerist) تہذیب کی علامتیں ہیں۔ایک محتاط اندازہ کے مطابق شہروں میں متوسط درجہ کا ایک خاندان، جس کی ماہانہ آمدنی ایک اسی ہزار روپیہ ہے، اوسطاً دو ہزار روپیہ باتھ روم، اور ڈریسنگ ٹیبل پر خرچ کرتا ہے۔ان اشیا ء کی خریداری اور فضول خرچی کی وجہ سے قدرتی وسائل کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں قدرتی وسائل کی ایسی لوٹ مچی کہ حالیہ دو تین نسلوں نے قدرتی وسائل کا جتنا تصرف کیا، وہ دس ہزار سالہ انسانی تاریخ میں سیکڑوں نسلوں کے تصرف سے بھی زیادہ ہوگیا۔
ماحولیاتی تحفظ اور اسلام
سلام نے بہت پہلے ایسی ہدایات دی ہیں جن کی پیروی ماحول کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے۔ یہ ہدایات آج بھی ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہیں ،قرآن مجید نے انسان کی یہ حیثیت بتائی ہے کہ وہ دنیا کا خلیفہ ہے ۔
انی جاعل فی الارض خلیفہ
خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی یہ ذمہ داریاں ہیں کہ وہ اللہ کے احکام نافذ کرے ۔قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے ۔
الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموات والارض(قرآن :107:2)
اور یہ کہ انسان کو اللہ نے اپنی ملکیت کے ایک حصہ میں اس لیے تصرف دیا ہے کہ وہ خدا کے احکام کی تعمیل کرے۔ قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ انسان کو جو کچھ بھی دیاگیا ہے اس کی حیثیت امانت کی ہے، اور امانت کے سلسلہ میں وہ خدا کے حضور جواب دہ ہے ۔قرآن مجید نے یہ بات بھی کہی ہے کہ انسان اور دیگر مخلوقات کے لیے اللہ نے اس کائنات میں حد درجہ توازن قائم فرمایا ہے:
والارض مددنٰھا والقینا فیھارواسی وانبتنا فیھا من کل شی موزون
(اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر(اٹل )پہاڑ دال دیے ہیں اور اس میں ہم نے ہر چیزایک معین مقدار سے اگادی ہے۔)
نبی کریمﷺ نے تمام مخلوقات کو اللہ کا کنبہ قرار دیا ہے:
الخلق عیال اللہ، احب الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ
(مشکوٰة)
(تمام مخلوقات اللہ کا کنبہ ہیں،اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہی ہے جو اس کے کنبے کے حق میں بہتر ہو۔)
مخلوقات میں انسان کے علاوہ چرند، پرند، نباتات سب کچھ شامل ہے۔ قرآن مجید میںان سب کو اللہ کی مخلوقات قرار دیا گیاہے، اور کہا گیاہے کہ یہ سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
اس لیے اللہ کی مخلوق کی ضرورتوں کا لحاظ کرنا اور ان پر ظلم سے گریز کرنا بھی مسلمان کے فرائض میں شامل ہے ۔اسے ایسے رویوں کی مزاحمت کرنی چاہیے جس سے خلق اللہ کو تکلیف ہوتی ہو اور ان کا حقِ زندگی چھینا جاتا ہو۔
خدا کے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے قدرتی وسائل کا تحفظ اور ان کی پاسبانی اور زندگی کی اعلیٰ قدروں کا فروغ؛ امت مسلمہ کی ذمہ داری تھی۔ لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ اس محاذ پر بھی پیش قدمی میں ناکام ہیں، بلکہ دیندار گھرانے بھی مذکورہ لعنتوں کے شکار ہیں۔ اور ہمیں یہ شعور ہی نہیں ہے کہ ہم نادانستہ طور پر اس لائف اسٹائل کے ذریعہ کن قوتوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔
یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ صارفیت، فضول خرچی، اشیاء پرستی، طبقاتیت، سود، ماحولیاتی بحران اور عیش پسندی وغیرہ جیسی نحوستوں سے عبارت جدید مغربی لائف اسٹائل کے مقابلہ میں سادگی، جفا کشی، فطرت سے ہم آہنگی، انسان دوستی، اصول پسندی اور سخاوت جیسی قدروں سے عبارت اسلامی لائف اسٹائل کو فروغ دیں۔

ویڈیو :

آڈیو:

audio link

1 Comment

  1. سلیم منصور خالد

    ماشااللہ، اختصار ، جامعیت اور سبق آموزی کا نمونہ

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر