بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم
(PMJVK)مرکز کی اعانت یافتہ ایک اسکیمCSS ہے ۔
اس اسکیم کے تحت ترجیحی شعبے:تعلیم، صحت، ہنرمندی فروغ،کھیل،صاف صفائی، شمسی توانائی، خواتین پر مرکوز پروجیکٹ وغیرہ ہیں ۔یہ تفصیلات وزارت کی ویب سائٹwww.minority.gov.inپر دستیاب ہیں۔
پری میڑک اسکالر شپ اسکیم : 2009/2008ءسے نافذ العمل ہے۔ایسی اسکالر شپ کے تحت درجۂ اول سے دسویں تک کے اقلیتی طلبہ کو مدد فراہم کی جاتی ہے، جس کے کنبے کی آمدنی ایک لاکھ روپیے سالانہ سے زیادہ نہیں ہے۔
پوسٹ میڑک اسکالرشپ اسکیم :
2007/2008ءسے نافذ العمل ہے۔یہ اسکالر شپ گیارہویں کلاس سے پی ایچ ڈی تک کے اقلیتی طلبہ کو فراہم کی جاتی ہے،جس کی سالانہ آمدنی2 لاکھ روپیے سے زیادہ نہیں ہے ۔
میرٹ اور ذرائع پر مبنی اسکالر شپ اسکیم 2007/2008ء:
یہ اسکالر شپ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی سطح پر پیشہ ورانہ مہارت رپورٹس کے لیے اقلیتی طلبہ کو فراہم کی جاتی ہے ۔ان تینوں اسکالرشپ اسکیمس میں% 30 اسکالرشپ طالبات کے لئے مختص کی گئی ہے ۔ تینوں اسکالرشپ اسکیموں کو نیشنل اسکالر شپ پورٹل N.S.P پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے،اور اس اسکالرشپ کی رقم براہ راست فائدے کی منتقلی موڈ کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے۔
مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ اسکیم :
2009/2010 ءسے نافذ العمل ہے۔ اس اسکیم کے تحت ان امیدواروں کو مدد فراہم کی جاتی ہے جوUGC,NETیا مشترکہ امتحان پاس کیےہوئے ہیں اور جن کے کنبے کی آمدنی سالانہ 6لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہے۔30%سیٹیں لڑکیوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔
پڑھو پردیس:
2013/2014ءسے نافذ العمل ہے۔بیرون ملک جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند اقلیتی برادریوں کے طلبہ کو تعلیمی قرضے کے لیے سودی راحت فراہم کی جاتی ہے، جن کی کنبے کی سالانہ آمدنی چھ لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہے۔35سیٹیں طالبات کے لئے مختص کی گئی ہیں۔
نئی اڑان:
2013/2014ءسے نافذ العمل ہے۔یہ مدد یونین پبلک سروس کمیشنUPSC ,اسٹیٹ سروس کمیشن PSC ،اسٹاف سلیکشن کمیشن SSC وغیرہ کی جانب سے منعقدہ ابتدائی امتحان پاس کرنے والے اقلیتی امیدواروں کو فراہم کی جاتی ہے ،جن کے کنبے کی سالانہ آمدنی 8 لاکھ روپے سے کم ہے ۔
مدرسہ:
مدرسہ کے لئے فراہم کی جانے والی اسکیم ایس پی ای ایم ایم ،اس کے علاوہ روزگار پر مرکوز کی میں سیکھو اور کماؤ ،یہ اسکیم 14 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے، کاریگروں اور دستکاروں کومارکٹ فراہم کرتی ہے۔اسکیموں کا مقصد بہترین اور اعلی صلاحیتوں کو متوجہ کرنا اورتعلیمی معیار بڑھانا ہے۔لیکن سرکار آہستہ آہستہ یونیورسٹی گرانٹس کم کرتی جارہی ہے۔
جب اسمرتی ایرانی وزیر تعلیم تھیں،تب فیلو شپ بند کیے جانے کے خلاف جے این یو میں لیفٹ سے منسلک طلبہ کی قیادت میں پوری یونیورسٹی نے احتجاج کیا، تب اےبی وی پی کے طلبہ نے اس تحریک کی مخالفت کی تھی ۔ انہیں دہشت گرد کہا جارہا تھا۔اگر یہ اسکیمیں بند کر دی جائیںتو ہزاروں بچے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔سرکار کا منصوبہ ہے کہ یونیورسٹیاں خود بوجھ اٹھائیں۔اگر ایسا ہوا تو ہاسٹل فیس،میس فیس،،کالج فیس بڑھا دی جائے گی۔اےبی وی پی کے طلبہ کو یہ بات بعد میں سمجھ میں آ ئی۔اور ہندیاخبار میں یہ کالم چھپا تھا کہ اےبی وی پی کے طلبہ نے فیلو شپ بند کرنے کے خلاف زبردست احتجاج کیا ،مگر سرکار نے ان کا استعمال کر کے اپنا کام نکال لیا۔اگلے سال سرکار جیت حاصل کرتی ہے تو اس منصوبے پر تیزی سے کام ہوگا۔اس پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر