’’میں نے سوچا تھا کہ اگر میں پاس نہیں ہو پائی تو میں جان دے دوں گی۔‘‘
14 سالہ’’ پریرنا‘‘ نے آٹھویں جماعت کے ششماہی امتحانات میں فیل ہونے پر خود کشی کرلی۔
’’میں یہ اس لیے نہیں کر رہی کہ مجھے امتحانات میں خراب نمبرات ملے ہیں، مجھے خود سے اتنی نفرت ہوگئی ہے کہ میں خود کو ختم کر دینا چاہتی ہوں… آپ نے مجھے ایک سائنس کی طالبہ کی طرح بڑا کیا۔ میں نے سائنس کو اپنے مضمون کے طور پر چنا ،صرف اس لیے کہ آپ مجھ سے خوش رہیں۔ مجھے طبیعیات فلکی میں دلچسپی تھی، آج بھی مجھے مختلف زبانیں، تاریخ اور تحریر میں مزہ آتا ہے اور یہ سب میرے برے وقت میں مجھے دلاسہ دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں… مجھے معاف کر دیجیے۔ میرے ذہن کا شور، میرے دل کی نفرت، خود سے نفرت، مجھے پاگل کیے دے رہی ہے۔‘‘
17 سالہ’’ کیرتی ترپاٹھی‘‘ نے IIT JEE میں پاس ہونے کے بعد اپنی جان لے لی۔
’’مفلسی اور قرض کے بوجھ سے تنگ آکر باپ نے بیٹیوں کو ذبح کرکے اپنی بھی جان لے لی۔‘‘
خودکشی دنیا میں جواں عمروں کی اموات کا ایک اہم سبب بنتا جا رہا ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 7 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں، جن میں بیشتر افراد نوجوان ہوتے ہیں، اس طرح کہ خودکشی نوجوانوں میں اموات کا چوتھا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔
(Suicide Report Of WHO 17th June 2021)
ہمارے ملک ہندوستان میں بھی خودکشی ایک سنگین مسئلہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کے سبب ہونے والی اموات کی عالمی فہرست میں ہمارا ملک 42 ویں نمبر پر کھڑا ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو NCRB کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک عزیز میں سال 2020 میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد 1,53,052 ہے۔ مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ زیادہ بہتر طریقہ سے ہوگا جب ہم اس تعداد کا موازنہ مرکزی وزارت صحت کی رپورٹ میں موجود کورونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد سے کریں گے۔ جو کہ سال 2020 میں 1,48,000 ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یعنی کورونا وائرس بھی اموات کا سبب بننے میں خودکشی کا مقابلہ نہیں کرسکا۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی جانب سے شائع کردہ ADSA
(Accidental Death and Suicide in India – Report 2020)
کے مطابق ملک میں سال 2016 میں کل 1,31,008 خودکشی کے واقعات سامنے آئے، جبکہ 2017 میں 1,29,887 ، سال 2018 میں 1,34,516 ، سال 2019 میں 1,39,123 اور سال 2020 میں 1,53,052 افراد نے خودکشی کی۔
یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔
سال 2020 میں مردوں اور عورتوں میں خودکشی کا تناسب 70.2:29.8 پایا گیا جبکہ 2019 میں یہ تناسب 70.9:29.1 تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کے درمیان خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عمر کے لحاظ سے دیکھیں تو ملک میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات 15 سے 30 سال کے افراد میں ریکارڈ کیے گئے ہیں جو خودکشی کے کل واقعات کا 34.4 فیصد ہیں۔ جبکہ 30 سے 45 سالہ افراد میں 31.4 فیصد خودکشی کے واقعات پیش آئے۔ اس کے ساتھ ہی خودکشی ملک میں نوجوانوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔
پیشہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سال 2020 میں سرکاری ملازمین میں 2057 واقعات کے ساتھ خودکشی کا فیصد 1.3 رہا۔
پبلک سیکٹر ملازمین میں 1.7 فیصد، نجی شعبہ کے اداروں میں 6.6 فیصد، کسانوں میں 7 فیصد، طلباء میں 8.2 فیصد ( رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں ہر منٹ میں ایک طالب علم نے اپنی جان لی۔ یعنی ہر روز 34 سے زیادہ طلبہ نے خودکشی کی۔) بے روزگاروں میں 10.2 فیصد اور ذاتی کاروبار کرنے والوں میں 11.3 فیصد خودکشی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
ہندوستان کی ریاستوں پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات (19,909) ریاست مہاراشٹر میں پیش آئے ہیں۔ جو کہ کل واقعات کا 13 فیصد ہیں۔ دوسرا نمبر تامل ناڈو کا ہے جہاں کل 16,883 یعنی 11 فیصد خودکشی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان کے بعد 14,578 واقعات اور 9.5 فیصد کے ساتھ مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پر کھڑا ہے۔ جبکہ مغربی بنگال اور کرناٹک 13,103 (%8.6) اور 12,259 (%8) اموات بسبب خودکشی کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔
اور ان پانچوں ریاستوں میں ریکارڈ کیے جانے والے واقعات مل کر پورے ملک میں ہونے والے خودکشی کے واقعات کے نصف ہوتے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی یہ رپورٹ خودکشی کے مختلف اسباب کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ جس میں 33.6 فیصد واقعات کے ساتھ خانگی مسائل سب سے بڑا سبب ہے۔ اس کے بعد مستقل بیماری کے سبب 18فیصد، پھر نشہ آور ادویات و شراب نوشی جیسی عادات کے سبب 6 فیصد، بسبب شادی بیاہ کے مسائل 5 فیصد ، بے روزگاری کی وجہ سے 2.3 فیصد اور آٹھویں نمبر پر امتحانات میں ناکامی کے سبب 1.4 فیصد کے ساتھ اور اس کے بعد دیگر چھوٹے بڑے اسباب بتائے گئے ہیں۔
یہ وہ اسباب ہیں جن کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ لیکن دراصل ان تمام واقعات کے پیچھے ایک مشترک قدر ہے، مایوسی و ناامیدی ، تناؤ اور مسائل سے فرار کا جذبہ۔
آخر اس قسم کے جذبات کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ مایوسی و ناامیدی کے اس تکلیف دہ احساس سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے؟

مشکلات کا سامنا مثبت رویہ کے ساتھ کیسے کیا جائے؟
میرے مطابق اس مسئلہ سے محفوظ رہنے کے لیے تین طرح کی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔
1. روحانی تدابیر
2. سماجی تدابیر
3. طبی تدابیر
۱۔روحانی تدابیر
اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ حضرتِ انسان کسی مسئلہ سے دوچار ہو اور اسلام کے دامن میں اسے امن نہ ملے۔ خودکشی جیسے مسئلہ میں بھی اسلام نے انسان کی بہترین راہنمائی کی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ کسی عمل کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کی طرف لے جانے والے تمام راستوں کو بھی بند کر دیتا ہے۔ چونکہ خودکشی کا اصل سبب جذبۂ مایوسی و ناامیدی ہے۔اسلام سب سے پہلےانسان کو ایک بامقصد زندگی کا تصور دیتا ہے اور پر امید رہنا سکھاتا ہے۔
’’میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘(القرآن: سورۃالذاريات ،آیت نمبر:65)
اللّٰہ تعالیٰ پر، اللّٰہ تعالیٰ کی صفات پر اور تقدیر پر ایمان کے ساتھ ایک با مقصد زندگی وہ ہتھیار ہیں کہ جنہیں انسان مضبوطی سے تھام لے تو دنیا کا کوئی مسئلہ اسے نا امید یا مایوس نہیں کر سکتا۔
انسان کا آدھا تناؤ صرف یہ ایمان دور کر دیتا ہے کہ جو کچھ ہوا ہے یا ہونے والا ہے وہ میری تقدیر ہے اور بقیہ آدھا یہ یقین کہ اللّٰہ کے ہر کام میں کوئی مصلحت و بہتری پوشیدہ ہے۔
اس کے بعد اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ کسی انسان کو اس کی مقدرت سے زیادہ مشکلات میں نہیں ڈالا جاتا۔
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ
(اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔)( القرآن: سورہ البقرہ، آیت نمبر :286)
یہ آیت انسان کو مسائل کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
پھر اللّٰہ تعالیٰ مشکلات کے ساتھ اور مشکلات کے بعد آسانی کی امید دلاتے ہیں۔ فرمایا:

فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ۞

(پس حقیقت یہ ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔)
( القرآن: سورہ الانشراح ،آیت نمبر :5)
اس قسم کی آیات انسان کو مشکلات میں بھی صبحِ نو کی امید تھمائے رکھتی ہیں۔
ایک اور جگہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ۞
(ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔)( القرآن: سورہ البقرہ ،آیت :216)
اسی طرح اللّٰہ کے رسول، ہمارے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’بڑا اجر، بڑی مصیبت کے ساتھ ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے، جو راضی ہوا اس کے لیے اللّٰہ کی رضا ہے، اور جو ناراض ہوا اس کے لیے اللّٰہ کی ناراضگی ہے۔‘‘
( السلسلہ:3255)
اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یہ فرمان مشکلات پر راضی رہنے کا جذبہ عطا کرتے ہیں۔ساتھ ہی اللّٰہ تعالٰی ہمیں مثبت سوچ رکھنے پر ابھارتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’ میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے ، میں اس کو پورا کرنے کے لیے اس کے پاس ہوتا ہوں۔‘‘( صحیح مسلم:6829)
اس طرح انسانوں کو پر امید رہنا سکھا تے ہوئے، ایمان و یقین اور عزم و حوصلہ عطا کرتے ہوئے اور مایوسی و نا امیدی کے تمام راستے بند کرتے ہوئے شریعت خودکشی کو حرام قرار دیتی ہے۔
’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو اور یقین مانو کہ اللّٰہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔‘‘( القرآن: سورہ النساء، آیت: 29)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خودکشی کرنے والوں کو وعید سناتے ہوئے کہتے ہیں:
’’جو شخص لوہے سے خودکشی کرےگا وہ قیامت تک جہنم کی آگ میں لوہے سے خودکشی کرتا رہےگا۔ اور جو جان بوجھ کر مرجانے کی نیت سے زہر کھا لے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں زہر کھاتا رہےگا اور جو شخص اپنے تئیں جس چیز سے قتل کرے گا اسے قیامت والے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائےگا۔ ‘‘( بخاری و مسلم)
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ خود کشی کو آخر حرام کیوں قرار دیا گیا؟اس کا جواب ہمیں اسلامی تعلیمات میں ملتا ہے، جو بتاتی ہیں کہ انسان کی جان دراصل اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی جان کو نقصان پہنچانا ناپسندیدہ ترین اعمال میں سے ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سات کبیرہ گناہوں میں قتل کا بھی ذکر کیا۔ اور ایک جان کی حفاظت کو پوری نوعِ انسانی کی حفاظت کے برابر قرار دیا۔
مایوسی و ناامیدی اور تناؤ جیسی کیفیات سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق بنائے رکھیں۔ اللّٰہ پر اور تقدیر پر مضبوط ایمان رکھیں۔ تمام اسباب کو اختیار کرنے کے بعد اللّٰہ کی قدرت پر بھروسہ کریں اور جس حال میں وہ رکھے اس میں راضی رہیں۔ایمان و یقین کی اس منزل تک پہنچنے میں نماز، قرآن، اذکار، دعائیں، موت کی یاد، قیام اللیل، خلق خدا سے محبت اور کار دعوت بہترین مددگار ہیں۔
2. سماجی تدابیر
اگر آپ تناؤ، مایوسی اور ناامیدی محسوس کر نے لگے ہیں تو:
اپنے افراد خانہ اور دوست احباب کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کیجیے۔
اپنے مسائل اپنے کسی ہمدرد اور قابلِ اعتماد شخص سے بیان کیجیے۔
اپنے آپ کو اپنے پسندیدہ مشاغل میں مصروف رکھیے۔
اپنے اطراف موجودضرورت مندوں کی مدد کیجیے، ان کے کام آنے کی کوشش کیجیے۔
اگر آپ اپنے اطراف کسی کو ان کیفیات کا سامنا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں توزیادہ سے زیادہ اس شخص کے ساتھ رہنے کی کوشش کیجیے۔
اس کے مسائل کو اطمینان اور تحمل کے ساتھ سنیے۔
اس کے مسائل حل کرنے میں مدد کیجیے۔
اسے محسوس کروائیں کہ وہ آپ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آپ والد / والدہ ہیں تواپنے بچوں کے دوست بنیے۔
بچوں کے ساتھ شفقت، عزت اور احترام سے پیش آئیے۔
بچوں کی بہت زیادہ نگرانی انہیں یا تو باغی بناتی ہے یا تناؤ کا شکار کرتی ہے، اس سے پرہیز کیجیے۔
بچوں کو اچھے اور برے کی تمیز سکھا کر اپنے فیصلے خود لینے دیجیے۔
بچوں کی دلچسپی کے بغیر انھیں کچھ بننے کے لیے مجبور نہ کیجیے۔
بچوں کی دنیا کے ساتھ ساتھ ان کی آخرت کی بھی فکر کیجیے
3. طبی تدابی
اپنی کیفیات کو چھپانے کی کوشش نہ کیجیے،نہ ہی ماہرینِ نفسیات سے رابطہ کرنے سے شرمائیے۔
ماہرینِ نفسیات سے رابطہ کیجیے اور ان سے اپنے مسائل بیان کرکے ان کی رائے لیجیے۔
دواؤں کی ضرورت پڑنے پر باقاعدگی سے دوائیں لیجیے۔
کئی تنظیمیں مایوسی و ناامیدی اور تناؤ جیسی کیفیات کے تئیں سماج میں بیداری لانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ان کی کوششوں میں مایوسی و ناامیدی اور تناؤ سے دوچار افراد کی مدد و علاج بھی شامل ہے۔ایسی کچھ تنظیموں کی تفصیلات یہاں دی جا رہی ہیں۔
1۔آسرا:
یہ ممبئی کی ایک تنظیم ہے، جس کے پاس 24×7 وقف شدہ مفت ہیلپ لائن نمبر ہے، جہاں پیشہ ورانہ تربیت یافتہ رضاکار کال کا جواب دینے کے لیے دستیاب ہیں۔ رضاکار ہندی اور انگریزی دونوں میں بات کر سکتے ہیں۔
ہیلپ لائن نمب +916672698204
2۔فورٹس سٹریس ہیلپ لائن
فورٹس سٹریس ہیلپ لائن نمبر 24×7 دستیاب ہے ،جس پر طلبہ کے ساتھ ساتھ والدین کے بھی تناؤ، ذہنی صحت،تعلیم یا امتحانات وغیرہ سے متعلق سوالات کے جوابات دیے جاتے ہیں۔ دماغی صحت کے ماہرین کی ایک ٹیم، جو انگریزی کے ساتھ ساتھ تمام ہندوستانی زبانوں میں بات کر سکتی ہے، مدد کے لیے ہر وقت دستیاب ہے۔
ہیلپ لائن نمبر
ای میل کے ذریعہ بھی رابطہ ممکن ہے:
[email protected]
3۔کوج مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن:
کوج گوا میں قائم ایک ذہنی صحت کی تنظیم ہے جو ای کاؤنسلنگ کے ساتھ ساتھ، ہیلپ لائن نمبر بھی مہیا کرتی ہے۔ یہ پیر سے جمعہ تک دوپہر 1 بجے سے شام 7 بجے کے درمیان کال پر دستیاب ہیں۔ ای کاؤنسلنگ کے لیے [email protected] پر ای میل بھیجا جا سکتا ہے۔
ہیلپ لائن نمبر 832 2252525
یاد رکھیے!خود کشی سماج کا ایک بہت اہم اور نازک مسئلہ ہے، لیکن ناقابل حل نہیں۔ آئیے! اسے ختم کرنے کی کوشش کریں، ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار بنیں، خوش رہیں، خوشیاں پھیلائیں۔

1 Comment

  1. سلیم منصور خالد ( لاہور)

    نہائت اعلی درجے کا فکر انگیز اور ہوش ربا مضمون

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر