نوٹ:
[آپ نے ایسی ہی کوئی مثبت خبر دیکھی،پڑھی یا سنی ہو تو ہمیں لکھ کر بھیج دیجیے۔اسے اگلے شمارے میں آپ کے نام کے ساتھ اس کالم کا حصہ بنایا جائےگا۔ایڈیٹر]

بیٹی کی پیدائش پر پھول بچھاکر استقبال

محبوب آباد ضلع کے ایک خاندان نے بیٹی کی پیدائش پرنہ صرف جشن منایا بلکہ نومولود کے ماں باپ کا پھول بچھا کراستقبال کیا۔کوراوی منڈل کے ایاگاری پلی کے رہنے والے پراوین اور کلپنا کے ہاں لڑکی نے جنم لیا۔ یہ ان کی پہلی اولاد ہے، اس خبرکو سنتے ہی ماں باپ کے ساتھ ساتھ پورا خاندان خوش ہوگیا۔
مرسلہ: فاطمہ تزئین (محبوب آباد )

یتیم کے لیے اٹھایا گیا بہترین قدم

کوٹاجو ملک میں مسابقتی امتحانات کی تیاریوں کا ایک بڑا کوچنگ مرکز ہے نے دوران کووڈ یتیم ہونے والے طلباء کے لیے فری کوچنگ اور فری رہائش کا اعلان کیا ہے ۔ مرسلہ: عظمی جلال (اودے پور)

غیر مسلم شخص نے اپنی فیملی کو کار سے اتار کر،
زخمی مسلم خاتون کو ہاسپیٹل پہنچایا

مہاراشٹر کے شہر آکولہ سے کھام گاؤں جانے والے ہائی وے پر 11جولائی کو علی الصباح 3 بجے ٹووہیلر پر شوہر بیوی حاجیوں سے ملاقات کی غرض سے جارہے تھے ۔بائیک کے سامنے ایک نعش آگئی جسے کچھ دیر پہلے ایک ٹرک کچل کر گزرا تھا،جس سے بائیک کا توازن بگڑ گیا اور بیوی دور جاگری،سر سے خون بہنے لگا۔شوہر نے گزرنے والی کاروں کو مدد کے لیے روکنا چاہا۔کسی نے مدد نہیں کی،البتہ ایک غیر مسلم فیملی نے نہ صرف یہ کہ کار روک کر مدد کی،بلکہ اپنی فیملی کو کار سے اتار کر زخمی خاتون کو ہاسپیٹل بھی پہنچایا ۔تعصب زدہ ماحول میں جہاں توقع مفقود ہو،وہاں یہ رویہ انسان کے لیے حوصلہ بخش و خوش آئند ہے۔
مرسلہ : ھنیہ سلسبیل (آکولہ)

ٹرین میں چوری کے شکار شخص کی مدد کی

رانچی۔کمپیوٹر کی معروف کمپنی Dell میں اعلیٰ عہدے پر فائز ایک غیر مسلم شخص کا سفر کے دوران ایم پی سے رانچی کی ٹرین میں سارا سامان چوری ہو گیا۔رانچی اسٹیشن سے نکلنے کے بعد متعدد گاڑیوں سے اس نے لفٹ مانگی،لفٹ نہیں ملی تومجبوراً اس نے 125 کیلو میٹر دور،جمشیدپور پیدل جانے کا ارادہ کر لیا،کہ اسی دوران فور لائن وے پر اسے ایک کار دکھائی دی،اس نے کار والے کو ہاتھ دیا،جو مسلمان تھا۔کار والے نے پوری بات سن کر اسے نہ صرف ساتھ لیا،بلکہ کھلایا پلایا،پھر اس نے جہاں تک بتایا،وہاں چھوڑ آیا اور اس کے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں ہونے والے خرچ کےلیے پیسے بھی دیے۔اس ہمدردی و مہربانی سے متاثر ہو کر اس غیر مسلم شخص نے بعد میں کار والے کو اپنی کمپنی کا کوئی بھی من پسند لیپ ٹاپ منتخب کرکے ہدیۃً لینے کی پیش کش بھی کی،جسے خوش اسلوبی کے ساتھ اُس نے لینے سے منع کر دیا۔
مرسلہ:سلمان بن انعام (رانچی،جھارکھنڈ)

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۲ ستمبر