ہو نہ یہ پھُول تو بُلبل کا ترنُّم بھی نہ ہو
چَمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

تاریخ کا وہ وقت بھی گزر گیا، جب ہادیٔ اعظم، خاتم الانبیاءﷺ، مکہ اور مدینہ کی گلیوں سے گزر کر ہر ایک کی ہدایت کا سامان کیا کرتے۔آج یہ دور ہےکہ اس رہبر کامل کی مکمل زندگی کتابوں میں بند اپنی تمام تر روشنی لیے اس شخص کی منتظر ہے جو اس نورسے ہدایت کا راستہ چاہتا ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا تھا:
’’ قد ترکتُ فیکم امریْن : کتاب اللہ و سنت الرسول.‘‘
تم ہرگزگمراہ نہ ہوؤگے اگر تم نےانہیں تھامے رکھا۔بلا شبہ سیرت رسولﷺ وہ مشعل ہے جو ہماری راہوں کو یوں تابندہ کرےگا کہ امت محمدیہ پھر اپنے عروج پر پہنچے گی۔رسول ﷺ کی زندگی دراصل ایک فرد میں وہ انقلاب برپا کرتی ہے کہ بندۂ مومن کی اخلاق عالیہ تک رسائی ہو جائے۔
جب ببول کے سایہ تلے آرام کرتے وقت ایک اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار چڑھا لی اور پوچھا کہ بتاؤ اب کون آپ کو مجھ سے بچائے گا؟ تو سرور کائنات کے اس پر یقین جواب کے ساتھ ہی اس کی تلوار گر جاتی ہے کہ اللہ بچائے گا، اور وہ اعرابی کانپنے لگتا ہے کہ اب رسول اللہ ﷺ سے مجھے کون بچائے گا، اور پھر اسے بخش دیا جاتا ہے۔یہ عفو ودرگزرسیرت کا پیغام ہے۔
سیرت معافی عام کا پیغام دیتا ہے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر کچھ صحابہ نے جوش میں’’ الیوم یوم الملحمۃ‘‘ (آج بدلہ لیا جانے کا دن ہے)کہا تو رسول الله ﷺ نے’’ الیوم یوم المرحمۃ‘‘ (آج رحم کرنے کا دن ہے۔) کی صدا لگائی۔
یہ تصور جو آپ نے اپنے صحابہ میں پیدا کیا، اسی کا نتیجہ تھا کہ اسلام وادیٔ عرب سے نکل کر پوری دنیا میںجا پہنچا، ان کے سامنے منصوبہ بند زندگی تھی، قوی عزائم تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف 13 سال کی مدت میں اسلامی حکومت کا بہترین قیام اس انداز میں کیا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔
سید البشر محمد مصطفی ﷺ کے ہم امتی ہیں، ان سے والہانہ عشق کرنے کا دعویٰ کرنے والے ہم لوگ ان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟ ان کی سیرت کو تفصیل سے پڑھنے کی کبھی کوشش کی؟
حالانکہ یہ اللہ سے محبت کا ذریعہ، ہماری نجات کا راستہ اور ہمارے روح کی ضرورت ہے۔ اللہ نے ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللٰهَ فَاتَّبِعُوْنِی
(اے حبیب! فرما دیجیےکہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بنو۔)
رسول اللہﷺ سے محبت ووفاداری سیکھنی ہے تو ان کے صحابہ کو دیکھیںجو آپ ﷺ کے وضو کا پانی زمین پر نہ گرنے دیتے، جب آپ بات کرتے تو سب خاموش ہو جاتے، اور تعظیم کے سبب ان کی طرف نگاہ بھر کر نہیں دیکھتے ۔
ہم محمد ﷺ سے وفا کے کس مقام پر کھڑے ہیں ؟ان کی سنت پر کس قدر عمل کرتے ہیں؟ وہ نبی جنہوں نے راتوں کو جاگ کر ہمارے مغفرت کی دعا کی،ان مقصد کو لے کر چلنے کے لیے ہم نے کوشش کی؟ سیرت کے پیغام کا پاس رکھنا اب اسی امت کی ذمہ داری ہے، جو آج خرافات میں کھو گئی۔سال بھر رسول کی سنت کو بھلا کر ایک دن ان پر درود بھیجنا، یہی اصل محبت ہے؟ حوضِ کوثر پر آپ ﷺ سے ملاقات کی خواہش کبھی کی؟ گویا یہ تو وہی بات ہو گئی :

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا
کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا
تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے در و بام کو تو سجا دیا

ویڈیو :

video link

آڈیو:

audio link

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢