’’ نیٹ ورک مارکیٹنگ‘‘ تجارت کاوہ ماڈل ہے جس میں اشیاء کا فروخت کنندہ نہ صرف اپنی فروخت کردہ اشیا پر منافع کما تا ہے، بلکہ جن لوگوں کو اس نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس تجارت میں شامل کیا ہے ان کی فروخت پر بھی منافع کماتا ہے ۔

(Internet Encyclopedia,The Wikipedia on” Netwok Marketing”)

اس طرح اگر الف نے ب اور ج کو اشیا ءفروخت کی ہیں ، ب نے د، ھ ، اور ، و ،کو کی ہیں ، ج نے ل،م اورن کو کی ہیں ، د نے س ،ش اورص کو کی ہیں ، تو ان کی تجارتی سرگرمیوں میں منافع کا کچھ حصہ الف کو بھی ملتارہے گا۔
اس طرح مندرجہ بالا چارٹ میں د، ھ ، و ،س، ش، ص،ل،م،ن؛ ان سب کے ذریعہ جواشیاءفروخت ہوں گی ،ان کا منافع الف کو ملتار ہے گا ، جبکہ د، ه، و، اورس ،ش ،ص کا منافع ب کو بھی اور ل ،م اور نون کا منافع ، ج کو بھی ملتا رہے گا ، یہ سب الف کی ڈاؤن لائنزکہلاتی ہیں اور ڈاؤن لائنز جتنی زیادہ ہوں گی منافع کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں (Ibid) ۔
اس طرح ملٹی لیول مارکٹنگ(MLM) میں کامیابی کے لئے صرف یہ ضروری نہیں کہ آدمی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اشیاء فروخت کرے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن لوگوں کو اشیاء فروخت کی گئی ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مزید فروخت کر یں، اس طرح یہ سلسلہ جتنا دراز اور جتنا وسیع ہوگا ،اور ڈاؤن لائنز میں جتنا زیادہ کاروبار ہوگا اتناہی زیادہ منافع ملےگا۔
ایک آدمی اونچی قیمت پر کوئی چیز خرید کرممبر بن جا تا ہے اور خریدی ہوئی چیز کی تشہیر کرنا شروع کر دیتا ہے، تشہیر سے متاثر ہوکر اگر کوئی خریدنا چاہے تو اسے کسی ڈسٹری بیوٹر کے پاس نہیں بھیجتا ، بلکہ خودڈسٹری بیوٹر بن جا تا ہے۔
حمایت میں دلائل
’’ نیٹ ورک مارکیٹنگ‘‘ کے حامیوں کے دلائل ذیل میں درج ہیں:
اس ماڈل میں عوامی رابطہ اور فرد سے فرد کے تعلق کی بناء پر تجارت انجام پاتی ہے۔
چونکہ زیادہ سے زیادہ عوامی رابطہ پر منافع کے امکانات زیادہ ہیں ، اس لیے اس اسکیم میں انفرادی رابطہ ہی کے ذریعہ اشیاء کے فروخت کی تشہیر ہو جاتی ہے اور اشتہار  (Advertisement )وغیرہ کا خر چ ، بچ جا تا ہے جو ڈسٹری بیوٹرز میں منافع کی صورت میں تقسیم ہوتا ہے۔
عام تجارتی ماڈلوں میں بھی اگر چلر بیوپاری زیادہ فروخت کرے تو تھوک بیو پاری اور ڈیلر اورڈسٹری بیوٹر کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح اس اسکیم میں بھی ڈاؤن لائنز میں زیادہ فروخت سے ڈسٹری بیوٹر ز یادہ نفع کما تا ہے ۔
چونکہ ڈسٹری بیوٹر کا منافع ڈاؤن لائنز کی کارکردگی پر بھی منحصر ہوتا ہے، اس لیے وہ انہیں متحرک رکھنے اور ان کی تجارت بڑھانے میں حصہ لیتا ہے، اور منافع اس سرگرمی کا جائز نتیجہ ہوتا ہے۔
یہ ان دلائل کا خلاصہ ہے جو ’’نیٹ ورک مارکیٹنگ‘‘ کورائج تجارتی طریقوں کی اصلاح افتہ شکل قرار دینے اور ڈاؤن لائنز کے منافع میں ڈسٹری بیوٹر کی شرکت کو جائز اور معقول قرار دینے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔
تاریخی پس منظر اور دیگر مماثل اسکیمیں
جدید ’’نیٹ ورک مارکیٹنگ‘‘ کا آغاز مخر وطی اسکیم (Pyramid Scheme) سے ہوا جو پونزائی (Ponzi) نامی ایک شخص نے شروع کی تھی ، اس اسکیم میں اشیاء کی فروخت نہیں ہوتی ، بلکہ صرف رقومات کی بنیاد پر سلسلہ (Chain) چلتا ہے، ایک شخص کچھ فیس دے کر ممبر بنتا ہے اور پھر نئے ممبر بنانے کی کوشش کرتا ہے، نئے ممبران کی جمع شدہ فیس میں سے کچھ حصہ پہلے شخص کو منافع کے طور پر ملتا ہے اور نئے ممبران اسی طرح کے منافع کے لالچ میں مزید نئے ممبر بناتے ہیں ، اسی طرح ممبران کی ہر اگلی نسل کے نقصان کی قیمت پر پچھلی نسلوں کا فائدہ ہوتا ہے، اگلی نسل کے لوگ اس لئے یہ نقصان برداشت کرتے ہیں کہ انہیں امید ہوتی ہے کہ وہ نئے ممبر بنا کر ڈھیر سا منافع کمائیں گے، یہ سلسلہ لامتناہی طور پر چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جس وقت یہ اسکیم نا کام ہوتی ہے اس وقت جولوگ ڈاؤن لائنز میں ہوتے ہیں وہ خسارہ میں رہتے ہیں ، اور زمانی اعتبار سے اور اس شجرہ میں جو جتنا او پر ہوتا ہے وہ اتنتاز یادہ منافع کمالےجا تا ہے۔
(“Ponzi-schemes… ” Joseph Bullgatz, New York, Harmony Books 1992)
اس طرح کی اسکیموں کے ناجائز ہونے میں کوئی دورائے نہیں ، اس لیے کہ اس میں قمار ، ربوا، غرر وغیرہ ساری خرابیاں موجود ہیں، دنیا کے بہت سے ملکوں میں اس طرح کی اسکیموں پر پابندی بھی ہے، پونزائی اسکیم کی ایک ترقی یافتہ شکل’’ تحفہ کی اسکیم‘‘ ہے۔ اس میں بھی اشیا ءکی خرید وفروخت نہیں ہوتی ، بلکہ پیسے ہی کا کاروبار ہوتا ہے اور بہتر کارکردگی پر ڈسٹری بیوٹرز کو تحفے تقسیم کیے جاتے ہیں ۔
اس کی ایک اور شکل انٹرنیٹ پر ’’رپورٹ چین‘‘ ہے جس میں انٹرنیٹ پر کچھ بے معنی سا موادفیس دے کر زیادہ سے زیادہ لوگوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے، یہ بھی مذکورہ پونزائی اسکیم ہی کی شکل ہے، پونزائی اسکیموں کے خلاف دنیا بھر میں رائے عامہ کی مخالفت اور قانونی بندشوں سے خودکو بچانے کے لیے بعض کمپنیوں نے اشیاء کے فروخت کا حیلہ دریافت کیا اور یہی ایم ایل ایم یا ’’ نیٹ ورک مارکیٹنگ‘‘ ہے، اس میں اور مذکورہ پونزائی اسکیموں میں مطابقت ذیل کے جدول سےسمجھی جاسکتی ہے۔
ایم ایل ایم پونزائی
بجائے فیس کے وہ کوئی شئے خرید کر ممبر بنتا ہے، عام طور پر شئی کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، قیمت کا کچھ حصہ اس شئی کی اصل قیمت ہوتا ہے اور ایک بڑا حصہ پونزائی اسکیم کی طرز پر پچھلی نسل کو منافع دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

(۱) آدمی فیس دے کر ممبر بنتا ہے۔

 

(۲) نئے لوگوں کو اشیاء فروخت کرکے ممبر بنایا جاتا ہے اور وہ بالواسطہ طور پر فیس بھی دیتے ہیں۔ (۲) نئے لوگوں (ڈاون لائنرز) کو فیس دے کر ممبر بناتا ہے۔
(۳) بظاہر اشیاء خریدی اور بیچی جاتی ہیں، لیکن وہ محض حیلہ ہوتا ہے، اصل مقصد ڈاؤان لائنرز کا پیسہ وصول کرنا ہوتا ہے، یہی وجہ ہوتی ہے کہ اکثر اوقات آدمی اشیاء کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود انہیں خریدتا ہے اور دوسروں کو خریدنے پر مجبور کرتا ہے۔ (۳) اشیاء کی خریدوفروخت نہیں ہوتی محض روپیوں کا کاروبار ہوتا ہے۔
(۴) یہاں بھی یہی شکل ہے۔ (۴) ڈاؤن لائنرز کے نقصان کی قیمت پر اپ لائنرز کو فائدہ ہوتا ہے۔
ایم ایل ایم اسکیم کے دعووں کا جائزہ
ایم ایل ایم کی مذکورہ اسکیم کی اصل ہی یہ ہے کہ ڈاؤن لائنرز کے نقصان کی قیمت پر اپ لائٹر زکو فائدہ پہنچایا جائے ۔مروجہ تجارتی طریقوں میں تاجروں ، ہول سیل بیو پاریوں ، ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کی ایک محدودتعداد ہوتی ہے، یہ تعداداشیاء تجارت کی مانگ اور مارکیٹ کے سائز پر منحصر ہوتی ہے،اکثر ایک علاقہ میں ایک ہی ڈیلر ہوتا ہے، اس طرح تجارتی نیٹ ورک اور مارکیٹ میں ایک گونہ مناسبت ہوتی ہے۔
ایم ایل ایم کے تجارتی طریقے میں ہر ڈسٹری بیوٹر لا محدود تعداد میں نئے ڈسٹری بیوٹرز بنانے کی کوشش کرتا ہے، یہ سلسلہ لامتناہی طور پر چلتا ہے، کسی علاقہ میں کسی بھی شے کے گاہکوں کی تعداد محدود ہوتی ہے ، محدودگاہکوں کے لیےلامحدود تاجر بنانے کا یہ سلسلہ بالآخر کہیں نہ کہیں جا کر رک جاتا ہے، اور جب یہ رکتاہے تو اس وقت جو جدید ترین گاہک تک (سب سےنچلے ڈاؤن لائنرز ) ہوتے ہیں وہ سراسر نقصان میں رہتے ہیں ، وہ جوشے خریدتے ہیں ، اس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے، (اسی زیادہ قیمت کے ذریعہ اپ لائنرز کو منافع دیا جا تا ہے ) ۔
یہ زیادہ قیمت وہ محض شے کے لیے نہیں دیتے ، بلکہ اس لیے دیتے ہیں کہ انہیں امید ہوتی ہے کہ وہ مز ید ڈاؤن لائنر ز بنا کر ان سے منافع کمائیں گے ۔ لیکن اب چونکہ بازار میں مزید نئے گاہکوں کی گنجائش باقی نہیں رہتی ، اس لیے ڈاؤن لائنر زنہیں بنا پاتے ، ان کی زائد قیمت ڈوب جاتی ہے اور اس نقصان کے بدلہ میں ان لوگوں کا فائدہ ہوتا ہے، جو اس کاروبار میں پہلے داخل ہوئے (اپ لائنر ز ) ۔
اس طرح کاروبار میں اپ لائنرز کے بھاری بھرکم فائد ہ کو دکھا کر نئے لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے، جبکہ ہر اگلی نسل کے لیےمنافع کمانے کے مواقع کم سے کم تر ہوتے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک سطح پر آ کر یہ موقع صفر ہو جا تا ہے۔

(Michael P. Harden Handbook of-MLM (Carrollton, Texas Promontory Publications 1987)

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مروجہ تجارتی طریقوں میں بھی نقصان ہوتا ہے لیکن مروجہ تجارتی طریقہ منصوبہ کے اعتبار سے (By Design) منافع بخش ہے، اس میں نقصان یا تو فرد کی کوتاہی ، کمزوری یا نا اہلی کی وجہ سے ہوگا یا بعض نا گوار حادثات یا اتفاقات کی وجہ سے ،جبکہ ایم ایل ایم کا منصوبہ (Design) ہی ایسا ہے کہ ڈاؤن لائنرز کے نقصان کی قیمت پر اپ لائنرزکوفائدہ ہو۔مروجہ تجارتی طریقہ میں تاجر یا ڈسٹری بیوٹر جو منافع کماتا ہے وہ اس خدمت کے بدلہ میں ہے جو وہ صارف تک شے پہنچانے کے لیےانجام دے رہا ہے، صارف چونکہ صرف شے استعمال کر رہا ہے، اس لیے وہ زیادہ قیمت دے رہا ہے، ایم ایل ایم میں کوئی شخص محض صارف نہیں ہے، وہ اس کاروبار میں اس نیت سے داخل ہورہا ہے کہ مزید نئے لوگوں کو اس میں داخل کرکے منافع کمائے ، اس پس منظر میں محض زمانی اعتبار سے تاخیر سے داخل ہونے کی وجہ سے وہ سراسر نقصان میں رہتا ہے، یہ اس کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔
ایم ایل ایم میں نقصان اٹھانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی ہے ،مشہور ایم ایل ایم کمپنی Quixstar کے ڈسٹری بیوٹرز پر کیے گئے ایک سروے کے نتائج ذیل کے مطابق ہیں:
جملہ ڈسٹری بیوٹرز جن پر سروے کیا گیا 4 لاکھ 45 ہزار۔
’’ فعال‘‘ ڈسٹری بیوٹرز 3لاکھ۔
1,55,000 کوکوئی بونس نہیں ملا۔
99.4% لوگوں کو 13 ڈالر سے کم بونس ملا جوان کے تجارتی اخراجات سے کم ہے۔
99.9% لوگ نقصان میں رہے، وہ ہر سال یہ کاروبار چھوڑتے ہیں اور ان کی جگہ نئے لوگوں کو اس میں شامل کیا جا تا ہے۔
0.6 % ٹاپ لائنر ز جملہ بونس کا%30 سے زیادہ وصول کر لیتے ہیں۔
(“The Five-Red Flags…” J. M. Taylor 2006 Edition)
اس طرح اس سروے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس اسکیم کا ڈیزائن ہی کچھ اس طرح ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو منافع کی امید دلا کر ان سے پیسہ وصول کیا جائے اور چند لوگوںکو فائدہ پہنچا یا جائے ۔
اسی طرح امریکہ کی اُٹا ہ کاونٹی میں ، جو ایم ایل ایم اسکیموں کا مرکز ہے، ان اسکیموںسے وابستہ افراد کے ٹیکسیز کے جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ محض 23 فیصد لوگ منافع کماتے ہیں، باقی سب نقصان میں رہتے ہیں۔
(6.Who profits from MLM..’J.M. Taylor’2005)
شرعی موقف
راقم الحروف کے محدودمطالعہ اور ناقص فہم کے مطابق اس اسکیم کا شرعی موقف ذیل کے مطابق ہے:
1۔ یہ قطعاً حرام ہے اور اس میں حرمت کے ایک سے زیادہ پہلوموجود ہیں۔
2 ۔ اصلا یہ پونزائی اسکیم ہی کا ایک حیلہ ہے،خریدنے والے فرد کی ادا کر دہ رقم میں سے ایک حصہ اپ لائنر ز کو دیا جارہا ہے ، جو زیادہ لوگ محض اتفاق سے تاخیر سے شامل ہوئے، ان سے روپے جمع کر کے ان کم لوگوں کو دیئے جار ہے ہیں جو اتفاق سے پہلے آگئے، بعد میں آنے والے اشیاء میں دلچسپی سے زیادہ اس امید پر کاروبار میں حصہ لے رہے ہیں کہ وہ اگلوں کی رقم کا ایک حصہ حاصل کر سکیں گے، کئی لوگوں سے پیسے جمع کر کے کسی اتفاق کی بنیاد پر ایک شخص کو دے دینا قمار یا میسر ہے، اس لئے ایم ایل ایم میں قمار پا یا جا تا ہے۔علماء نے قمار یا میسر کی تعریف یوں کی ہے:
’’تعلیق الملک علی الخطر.‘‘
اس بنیاد پر اس کاروبار میں داخل ہونے والے ہر شخص کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ وہ آخری ڈاؤن لائن میں شامل ہوکر اپنی کل زائد پونجی (شے کی لاگت کے او پراداکردہ رقم) گنوادے اور یہ پونچی ان لوگوں کے قبضہ میں چلی جائے جو اس کی اپ لائن میں ہیں ، وہ اپنی رقم اس موہوم امید پر لگارہا ہے کہ اسے بھی ڈاؤن لائنز ملیں گی ، اس شکل میں اور میسر اور قمار کی دیگر شکلوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
3- اس میں دھوکہ کی کئی صورتیں موجود ہیں: ڈسٹری بیوٹر کواپ لائنر ز کا فائدہ دکھا کر ، اور اسی سطح کے منافع کا لالچ دے کر راغب کیا جارہا ہے، جبکہ کاروبار میں تاخیر سے داخل ہونے کی وجہ سے اور مارکیٹ کے محدود ہونے کی وجہ سے منافع کی اس سطح تک پہنچنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں، یہ ’’مصرات ‘‘کی شکل ہے۔
دھو کہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اشیاء کے پردہ میں اصلاً پیسہ کا کاروبار ہورہا ہے،خرید نے والاشے میں عام طور پر کوئی دلچسپی نہیں رکھتا لیکن ڈاؤن لائنرز سے منافع حاصل کرنے کی خاطر وہ شے خریدتا ہے۔
4 – اس میں غرر کا پایا جانا کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے، اس لیے کہ ڈاؤن لائنرز کا فائدہ موہوم اتفاقات پر منحصر ہے ، جو شخص بھی اس کاروبار میں داخل ہورہا ہے اسے نہیں معلوم کہ وہ کسی سطح پر ہے،آ یا 1.2 فی صد ٹاپ لائنرز میں ہے اور منافع کمائے گا یا اس عظیم اکثریت میں ہے جو ڈاؤن لائنرز میں ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھاتی ہے، اس لیے یہ غرر ہے اور غررجلی ہے۔
الف- علامہ سرخسی ( حنفیہ ) نے غرر کی تعریف یوں کی ہے کہ غرروہ ہے جس کے نتائج و اثرات پوشیدہ ہوں ، اس سے ملتی جلتی تعریف فقہ مالکی میں بھی ملتی ہے ۔ چونکہ تجارتی ماڈل میں یہ نہیں معلوم کہ ڈسٹری بیوٹرکس ڈاؤن لین میں ہے اور اس کی معاملت کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے، اس لیے اس تعریف کی رو سے ب یہ غرر ہے۔
ب- شافعیہ میں سے شیرازی نے بھی غرر کی تعریف یوں کی ہے کہ غرروہ ہے جس کا نتیجہ معلوم نہیں ہے، امام ابن تیمیہ نے بھی یہی تعریف کی ہے۔ ج-شافعیہ ہی میں سے بعض دوسرے نے اس کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے: غررو ہ ہے جس میں دوا مکانات ہوتے ہیں اور نامطلوب امکان کے وقوع پذیر ہونے کا چانس زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح کی تعریف علامہ کاسانی نے بھی کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’ الذي استوى فيه طرف الوجود والعدم‘‘
ہم نے اوپر اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایم ایل ایم ا سکیموں میں فائدہ حاصل کرنے والے ایک فی صد سے کم اور نقصان اٹھانے والے 99فی صد سے زیادہ ہیں ، اس لیے اس تعریف کی رو سے بھی یہ غرر ہے۔
د- شیخ مصطفی زرقا نے تعریف کی ہے کہ غررایسی ممکنہ اشیا ءکی فروخت ہے جن کا وجود یا خصوصیات یقینی نہ ہوں اور اس میں موجود خطرہ کی وجہ سے وہ جوا سے مشابہ ہو، اس تعریف کی رو سے بھی زیر بحث معاملہ غرر قرار پاتا ہے۔
ڈاؤن لائنز سے آنے والے منافع ، ملکیت میں آنے کی جائز صورتوں میں سے کسی صورت میں شامل نہیں، یہ عقد نہیں ہے، اس لیےکہ ڈاؤن لائنر ز اور اپ لائنرز کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے، نہ ہی احراز المباحات ہے نہ خلفیت ہے۔ اس لیے یہ قطعاً حرام ہے، بعض لوگوں نے اس میں ربوا کا بھی پہلو شامل کیا ہے، مجھے اس میں ربواتو نظر نہیں آتا ،لیکن قمار، غش ،مصرات اور غرر کی موجودگی کی وجہ سے یہ حرام معاملہ ہے۔
5- چونکہ معاملہ بنیادی طور پر صحیح نہیں ہے اورفوری ڈاؤن لائن کے ڈسٹری بیوٹرز سے بھی اس لالچ کی بنیاد پر معاملت کی جارہی ہے کہ وہ نچلی کئی ڈاؤن لائنرز بنا کر منافع کا ذریعہ بنیں گے، اس لیے فوری ڈاؤن لائن اور دیگر ڈاؤن لائنوں سے حاصل ہونے والے کمیشن میں شرعاً کوئی فرق نہیں ہے، دونوں بیک وقت حرام ہیں۔

اس طرح اس سروے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس اسکیم کا ڈیزائن ہی کچھ اس طرح ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو منافع کی امید دلا کر ان سے پیسہ وصول کیا جائے اور چند لوگوںکو فائدہ پہنچا یا جائے ۔
اسی طرح امریکہ کی اُٹا ہ کاونٹی میں ، جو ایم ایل ایم اسکیموں کا مرکز ہے، ان اسکیموںسے وابستہ افراد کے ٹیکسیز کے جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ محض 23 فیصد لوگ منافع کماتے ہیں، باقی سب نقصان میں رہتے ہیں۔

ویڈیو :

آڈیو:

3 Comments

  1. شاداب الحق

    بہت عمدہ مضمون۔ اس عنوان پر میں کئی دنوں سے مواد ڈھونڈ رہا تھا اور اچانک ہی اس ویب سائٹ کے اس آرٹیکل پر نظر پڑ گئی، اور وہ بھی محترم سعادت صاحب کی۔ جزاک اللہ۔ ہادیہ ای-میگزن کو مبارک۔

    Reply
  2. Tahura

    Assalamualaikum mujhe network marketing or digital marketing mai difference Janna hai or yeah bhi kai digital marketing jaiz hai ya nahi ?

    Reply
  3. فیروزہاشمی

    بہترین مضمون ہے۔ اس سلسلے میں کئی لوگوں سے رابطہ کیا لیکن کسی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ آج اس مضمون کو پڑھنے کے بعد شکوک واضح ہو گئے۔
    سید سعادت اللہ حسینی صاحب سے میرا سوال ہے کہ ہندوستان میں بزنس کرنے کا کیا طریقۂ کار ہو سکتا ہے؟
    کم الفاظ میں وضاحت فرمائیں۔
    ربا کا مطلب سود کہا جاتا ہے جس کا معاملہ بھی بڑا عجیب رہا ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح کا حکم دیا گیا ہے، اس کے مطابق بینکنگ کا کاروبار اس میں ضمن میں ربا کیسے ہوا؟
    جب کہ ابھی ابھی تین روز پہلے تجارت کے لئے بینک سے قرض لینا اور زائد رقم چکانے کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ارکان نے درست قرار دیا ہے۔
    یا تو مدلل نیا مضمون شائع فرمائیں یا پھر مجھے پرسنل آئی پر بھی جواب دے سکتے ہیں
    نواز ش ہوگی
    فیروزہاشمی، نوئیڈا اترپردیش 9811742537

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نومبر٢٠٢٢